قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا آئینی ترمیمی بل 2023 منظور

[pullquote]ایک امیدوار کو صرف 2 حلقوں سے الیکشن لڑنے کی آئینی ترمیم منظور[/pullquote]

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آئینی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا، جس کے بعد کوئی بھی امیدوار بیک وقت دو حلقوں پر الیکشن میں حصہ لے سکے گا جبکہ اس سے زائد پر پابندی ہوگی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے آئینی ترمیمی بل2023 منظور کر لیا۔ آئینی ترمیمی بل کے تحت آئین کے آرٹیکل223میں ترمیم تجویز کی گئی،کوئی بھی امیدوار بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی پر زیادہ سے زیادہ دو نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا۔ کسی بھی امیدوار کے دو سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے پر ممانعت ہوگی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک کی زیرصدار ت ہوا۔ جس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولاناعبدالاکبر چترالی کی جانب سے پیش کی گئی آئین کے آرٹیکل223 میں ترمیم سے متعلق آئینی ترمیمی بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مولانا عبد الاکبر چترالی نے مجوزہ بل سے متعلق کمیٹی کوبتایا کہ ایک امیدوار کے متعدد نشستوں پر انتخاب لڑنے سے قومی وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں ایک سے زیادہ حلقوں میں انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت ہے مگر جیتنے کے بعد ایک سیٹ رکھی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سے زیادہ نشستوں پر الیکشن لڑنے کی اجازت دینا مگر صرف ایک سیٹ رکھنا بذات خود عجیب ہے، جو نہ صرف ملکی خزانے پربوجھ بلکہ امیدواران اور عوام کے استحصال کے مترادف ہے۔

آئینی ترمیمی بل کے مطابق الیکشن کمیشن کا ایک حلقے پر 2 کروڑ 70 لاکھ تک خرچ آتا ہے۔ کاغذات کی چھپائی پر 70 لاکھ، ذرائع آمدورفت پر 30 لاکھ جبکہ انتخابی عملہ کی ادائیگیوں پر 1کروڑ30لاکھ خرچ آتا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے آئینی ترمیم منظور کرلی جس کے مطابق کوئی بھی امیدوار بیک وقت زیادہ سے زیادہ دو نشستوں پر الیکشن لڑنے کا اہل ہوگا جبکہ کسی بھی امیدوار کے دو سے زیادہ حلقوں میں الیکشن لڑنے پر ممانعت ہوگی۔

آئینی ترمیم کے تحت امیدوار دونوں نشستوں پر منتخب ہونے کی صورت میں30دن کے اندر ایک نشست سے مستعفی ہونے کا پابند ہوگا، مذکورہ تیس دن کے گزرنے پر ماسوائے دوسری نشست کے پہلی نشست خالی ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے