بلوچستان: تُربت میں ’توہینِ مذہب‘ کے الزام میں استاد قتل

بلوچستان: تُربت میں ’توہینِ مذہب‘ کے الزام میں استاد قتل

حکام کے مطابق عبدالرؤف جن کی عمر 20 سے 22 برس کے درمیان تھی، کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹر تربت میں انگریزی زبان سکھانے والے ایک تعلیمی مرکز میں استاد تھے۔

انہیں سنیچر کی صبح اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے متعلق علما کے ایک جرگے میں پیش ہونے کے لیے جا رہے تھے۔پولیس کے مطابق یہ تربت میں اس نوعیت کا پہلا قتل کیس ہے۔

ایس ایچ او تربت حکیم بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عبدالرؤف کو تربت کے علاقے ملک آباد میں ایک قبرستان کے قریب نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کیا اور فرار ہو گئے۔ جائے وقوعہ سے پولیس کو پستول کی گولیوں کے چار خول ملے ہیں جنہیں تحویل میں لے کر واقعے کے محرکات سے متعلق تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔‘

نجی سکول اور لینگوئج سینٹر کے پرنسپل سدھیر احمد نے بتایا کہ عبدالرؤف دشت بلنگور کے رہائشی تھے، وہ تعلیم کے لیے تربت آئے تھے۔ یہاں وہ صبح یونیورسٹی میں پڑھتے جبکہ شام کو ان کے سکول کی عمارت میں قائم نجی لینگوئج سینٹر میں انگریزی پڑھاتے تھے۔

’کچھ روز قبل سینٹر کے کچھ طالب علموں نے علما سے شکایت کی تھی کہ عبدالرؤف نے کلاس روم میں پڑھاتے ہوئے توہین مذہب کی ہے۔ کچھ لوگ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی اٹھا رہے تھے۔‘

سکول پرنسپل کے مطابق طلبہ کی شکایت پر تربت کے کچھ علما تعلیمی ادارے آئے اور یہاں عبدالرؤف اور طلبہ کے بیانات سنے۔

’عبدالرؤف کا اصرار تھا کہ انہوں نے گستاخی نہیں کی لیکن اس کے باوجود وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔ اس پر علما نے انہیں آج ایک جرگہ بلا کر ملک آباد میں قائم ایک مدرسے میں بلایا تھا جہاں شہر بھر کے علما جمع تھے۔‘

پولیس کے مطابق ’عبدالرؤف کو تربت کے علاقے ملک آباد میں قبرستان کے قریب نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کیا‘

انہوں نے بتایا کہ ’چار سے پانچ موٹرسائیکلوں پر ہم مدرسے کی طرف جا رہے تھے۔ مدرسے سے کوئی 50 یا 100 گز کے فاصلے پر ایک قبرستان کے قریب پہلے سے تاک میں بیٹھے نامعلوم نقاب پوش افراد نے ان پر گولیاں چلائیں۔ عبدالرؤف نے بھاگنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے اور قتل کر دیے گئے۔‘
تربت پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تفصیل اور کیس کی تفتیش سے متعلق اردو نیوز سے بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ ’سکول انتظامیہ اور نہ ہی علما نے پولیس کو اس کیس سے متعلق پیشگی کوئی معلومات فراہم کی تھیں۔ علما اس معاملے کو اپنے طور پر حل کرنا چاہ رہے تھے۔ اگر پولیس کو پیشگی علم ہوتا تو قانونی کارروائی کرتی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیتی۔‘

’مقتول کے ورثا نے مقدمے کے اندراج کے لیے اب تک پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ میت لے کر آبائی علاقے چلے گئے ہیں جبکہ عینی شاہدین بھی پولیس کے ساتھ تعاون کرنے سے کترا رہے ہیں۔‘اردو نیوز نے عبدالرؤف کے ورثا کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔

سکول پرنسپل سدھیر احمد نے مزید کہا کہ علما نے ہمیں بتایا تھا کہ ’عبدالرؤف نے معافی مانگ لی ہے، مزید علما کو بلا کر اس معاملے کو رفع دفع کریں گے تاکہ لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔‘

جرگہ طلب کرنے والے تربت کے مقامی عالم مفتی شاہ میر نے اردو نیوز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’اس سے پہلے بھی گستاخی کے دو تین واقعات ہوئے تھے۔ گستاخی کرنے والے اپنے بڑے لے کر آئے تھے، علما کے جرگے میں غلطی کا اعتراف کرنے اور معافی مانگنے پر وہ معاملات حل کر لیے گئے تھے۔ ہم اس مسئلے کو بھی اسی طرح حل کرنا چاہتے تھے تاکہ کوئی جذبات میں آکر غلط قدم نہ اٹھائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عبدالرؤف کے بیان کی بھی جب طلبہ نے شکایت کی تو علما تحقیق کرنے کے لیے خود متعلقہ تعلیمی ادارے گئے اور وہاں طلبہ اور مقتول کا مؤقف سنا۔

’عبدالرؤف کا بیان متنازع تھا جس پر انہوں نے معافی مانگ لی تھی۔ ہم نے انہیں اپنے خاندان اور قبیلے کے بڑے ساتھ لے کر مدرسے آنے کا کہا تھا۔‘

مفتی شاہ میر نے بتایا کہ سنیچر کی صبح اس معاملے پر ہمارے مدرسے میں جرگہ بلایا گیا تھا جس میں شہر بھر سے 100 سے زائد علما اور معتبرین موجود تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ عبدالرؤف سب کے سامنے معافی مانگیں تاکہ لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہو سکیں اور معاملہ رفع دفع ہو جائے لیکن مدرسے پہنچنے سے قبل ہی انہیں نامعلوم نقاب پوشوں نے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ہم مدرسے میں موجود تھے کہ کچھ لوگوں نے آ کر قتل کی اطلاع دی جس کے بعد ہم نے فوری طور پر پولیس کو بتایا۔

مفتی شاہ میر نے مزید کہا کہ ’قانون میں توہین مذہب کی سزا موجود ہے لیکن نہ کسی عالم اور نہ کسی عام شخص کو قانون ہاتھ میں لے کر کسی کو خود سزا دینے کی اجازت ہے۔‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے