وی چیٹ: چین کی ’ایوری تھنگ ایپ‘ میں ایسا کیا ہے کہ ایلون مسک ’ایکس‘ کو اس جیسا بنانا چاہتے ہیں؟

ایلون مسک نے گذشتہ ہفتے ٹوئٹر کا لوگو تبدیل کر کے ایکس (X) کے نام سے ایپ کو ری برانڈ کیا ہے اور ان کے اس اقدام کو چین کی میگا ایپ وی چیٹ کی طرح بننے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے ایک طویل عرصے سے سوشل میڈیا کمپنی کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر کو گذشتہ برس 44 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ ایلون مسک ماضی میں چین کی ایپ وی چیٹ کی بارہا تعریف کرتے رہے ہیں جو ان کے مطابق چیٹ، ڈیٹنگ، ادائیگیوں اور سوشل میڈیا کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ایکس کو وی چیٹ کی طرح بنانا دراصل ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

ٹوئٹر ایکس

ایلون مسک نے اس ہفتے ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ’آنے والے مہینوں میں ہم مزید جامع نظام سے آپ کی پوری مالیاتی دنیا کو چلانے کی صلاحیت کو اس ایک ایپ میں شامل کریں گے۔‘

ایلون مسک پرامید ہیں کہ یہ ایکس کے ریوینیو میں اضافے کا باعث ہو گا۔

واضح رہے کہ جب سے ایلون مسک نے اس کمپنی کو خریدا ہے تب سے کمپنی پہلے کے مقابلے میں تقریباً نصف تشہیری آمدنی پر آ گئی ہے اور قرض کے بھاری بوجھ سے نکلنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

چین میں وی چیٹ کے بغیر رہنا ناممکن کیوں ہے؟

ٹیکنالوجی سے متعلق چین کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی ٹین سینٹ نے سنہ 2011 میں وی چیٹ کا آغاز کیا جسے اب چین کے تقریباً 1.4 ارب افراد استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وی چیٹ کو اگر سپر ایپ کہا جائے تو بھی اس کی تعریف مکمل نہیں ہو سکے گی۔

اس ایک ایپ کے اندر میسیجنگ، وائس اور ویڈیو کالنگ، سوشل میڈیا، فوڈ ڈیلیوری، موبائل پیمنٹس، گیمز، نیوز اور یہاں تک کہ ڈیٹنگ کی سہولت بھی شامل ہے۔

وی چیٹ اپنے اندر واٹس ایپ، فیس بک، ایپل پے، اوبر، ایمیزون، ٹنڈر کی تمام خصوصیات سموئے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے یہ چین میں اس قدر مقبول ہے کہ اس کے بغیر وہاں رہنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

وی چیٹ کی نیچے دی گئی تصاویر سے آپ کو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس ایک ایپ کے اندر مختلف خدمات کے لیے سکرین پر علیحدہ علیحدہ ڈسپلے(انٹرفیس) موجود ہیں۔

 وی چیٹ

وی چیٹ پیغام رسانی کے پلیٹ فارم واٹس ایپ اور آئی میسیجز کی طرز پر شروع ہوا تھا۔ نوجوانوں میں اس کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا فیچر ’چیٹ‘ اور ’مومنٹس‘ ہیں جو واٹس ایپ اور فیس بک کی طرز پر ہیں۔

اس کی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے فیچر والیٹ کو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز سے منسلک کیا گیا ہے۔ چین میں زیادہ تر دکاندار اور آن لائن شاپنگ کی ادائیگی وی چیٹ کے ذریعے ہی قبول کی جاتی ہے۔

اس میں صارفین ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈز کو سکین کرتے ہیں یہاں تک کے گھریلو تعمیرات کی ادائیگی، سرمایہ کاری سے لے کر اور قرض کی فراہمی بھی وی چیٹ کے ذریعے باآسانی کی جاتی ہے۔

سرکاری خدمات مثلاً سوشل سکیورٹی کی معلومات چیک کرنے، تیز رفتار ٹکٹوں کی ادائیگی اور ہسپتال کی اپائنٹمنٹ تک اسی ایپ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

کووڈ کی عالمی وبا کے دوران، جب پورا ملک شدید پابندیوں کی لپیٹ میں تھا، وی چیٹ ایک ضرورت بن گیا اور اس دوران ایپ پر موجود ’ہیلتھ کوڈ‘ کے بغیر باہر نکلنا ممکن نہ تھا۔

لیکن اس ایک ایپ میں جہاں بہت ساری خصوصیات ایک ساتھ موجود ہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔

وی چیٹ سمارٹ فون کی میموری کا ایک بڑا حصہ لے لیتا ہے جو عام طور پر دسیوں گیگا بائٹس ڈیٹا سٹوریج پر مشتمل ہوتا ہے۔

وی چیٹ

وی چیٹ جیسی سپر ایپس ملک پر کنٹرول رکھنے کے چین کے مقاصد کو پورا کرتی ہیں

دوسری جانب زندگی کے ہر معاملے میں وی چیٹ کی بڑی رسائی نے حکومتی سنسرشپ، نگرانی اور رازداری کے دیگر مسائل کے بارے میں کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔

اس لیے چین بی بی سی جیسے خبر رساں اداروں سے لے کر فیس بک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ایلون مسک کے ایکس تک بہت سی غیر ملکی ویب سائٹس تک رسائی کو روکتا ہے۔

اس قدر ریاستی کنٹرول کے باعث لوگوں کے لیے وی چیٹ پر حکومت یا اس کی پالیسیوں کے خلاف بات کرنے کو صارفین کے لیے بعض اوقات انتہائی خطرے کا باعث بنا دیتی ہے۔

چیٹس یا سپیس میں حکومت کے خلاف اختلاف کی کوئی بھی بات کیے جانے پر ان اکاؤنٹس کو دنوں یا ہفتوں کے لیے معطل کرنا معمول کی بات ہے یہاں تک کہ بظاہر غیر متنازعہ معلومات کا اشتراک کرنے والے لوگوں کو حکومتی سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو اس بات کا علم ہی جب ہو پا تا ہے جب ان کے اکاؤنٹس اور چیٹ گروپس کو بند کر دیے جاتے ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے گلوبل چائنا ہب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کِٹس لیاؤ کا کہنا ہے کہ وی چیٹ جیسی سپر ایپس ملک پر کنٹرول رکھنے کے چین کے مقاصد کے عین مترادف ہیں جس میں حکومتی پالیسیوں کے عین مطابق زندگی کے تمام پہلوؤں کو منظم کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق ’اصولی طور کوئی بھی ایسی چیز جو سیاسی خطرے کا باعث بن سکے جس میں حزب اختلاف کی جانب سے چینی کمیونسٹ پارٹی کی حکمرانی کے لیے معمولی سا خطرہ بھی موجود ہو اس کی گنجائش موجود نہیں۔‘

ایلون مسک

کیا یہ خصوصیات مغربی ممالک کے لیے کارگر رہیں گی؟

چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ سے منسلک کیچینگ فینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ چین میں وی چیٹ کامیابی دراصل دو بڑے عوامل پر منحصر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ملک میں انٹرنیٹ کی نسبتاً دیر سے ترقی کی وجہ سے چین میں زیادہ تر لوگ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کے بجائے اسمارٹ فونز پر وی چیٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

’جس کا مطلب ہے کہ وہ اوپن ویب کے بجائے ایپس کی حدود میں مقید رہتے ہیں۔ کمپیوٹر کے مقابلے اسمارٹ فونز پر ’ایوری تھنگ ایپ‘ بنانا بہت آسان ہے۔‘

کیچنگ فینگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین میں مغربی ممالک کے برعکس مسابقت کے ضابطوں کی کمی ہے اس لیے وی چیٹ شاپنگ پلیٹ فارم توباو اور ویڈیو ایپ دوئین جیسے حریف پلیٹ فارمز کو مؤثر طریقے سے بلاک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

تو کیا ایلون مسک چین سے باہر اسی طرح کی ایپ کی کامیابی کی توقع رکھ سکتے ہیں؟ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منحصر ہو سکتا ہے تاہم امکان ہے کہ یہ سب جلد سامنے آ جائے گا۔

چین کی پالیسی ریسرچ فرم ٹریویم سے تعلق رکھنے والی کینڈرا شیفر اس بارے میں کہتی ہیں ایلون مسک پہلے ہی کچھ اہم عناصر کو پہچان چکے ہیں جنھوں نے چین میں وی چیٹ کو روز مرہ کی زندگی کے لیے اہم بنانے میں مدد کی ہے ان میں سوشل میڈیا کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ساتھ مربوط کرنے جیسے عمامل شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر سپر ایپ کی یہ انفرادیت اس کا کامیاب بنا سکے ۔

دوسری جانب سرمایہ کاری فرم ریس کیپیٹل سے تعلق رکھنے والی ایڈتھ یونگ نے نشاندہی کی ہے کہ چین اور مغرب کے درمیان ایک بڑا فرق ڈیجیٹل ادائیگی کی ٹیکنالوجی سے متعلق ہے۔ واضح رہے کہ چین میں زیادہ تر تاجر نقد یا کریڈٹ کارڈ قبول نہیں کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ فرق ایلون مسک کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ’مغربی دنیا کو حقیقی معنوں میں کیش لیس یا کریڈٹ کارڈ سے پاک معاشرے کو نافذ کرنے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا۔‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے