میری دیار کی قسمت میں شام لکھا ہے

یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ گلگت بلتستان میں جب بھی مسلح جتھوں نے انسانیت کا خون بہایا ہے تو دیامر کی سرزمین کا خوب استعمال ہوا ہے۔

چاہیئے وہ فرقہ وارانہ فسادات ہوں،تعلیمی اداروں کا جلاؤ گھیراؤ ہو،اہل تشعیوں کے قتال ہوں ،پولیس ایس پی،سیکورٹی اہلکاروں کا قتل ہو،ناننگا پربت پرغیرملکی کوہ پیماؤں کا قتال ہو،یا سیاحتی مقام بابوسرٹاپ پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کا قتل ہو، دہشت گردوں نے ہمیشہ اپنی کاروائیوں کیلئے دیامر کی زمین کا استعمال کرتے ہوئے انسانی قتال کا اودھم مچائے رکھا۔

ہفتے کی شام شاہراہ قراقرم چلاس ہوڈور کے مقام پرمسلح جتھوں نےحسب روایت گاہگوچ سے راول پنڈی جانے والی مسافر بس کو گولیوں سے بھوند ڈالا جس کے نتیجے میں 9 افراد شہید جبکہ 26 افراد زخمی ہوگئے،شہدا میں دو پاک فوج کے جوان بھی شامل تھے۔

جبر و بربریت کے اس بھیانک منظر پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جائے وقوع اور چلاس شہر کے مابین 10 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور جس حدود میں مسافروں کو شہید کردیا گیا ہے اسی حدود میں دیامربھاشہ ڈیم سائیٹ پر تعمیراتی کام کرنے والے غیرملکیوں کے تحفظ پر مامور قراقرم ٹاسک فورس کے اہلکار روزانہ موبائل گشت کررہے ہیں۔

دہشت گردوں کی جانب سے یہ حملہ کب کیوں اور کیسے کیا گیا؟ اس سے قطع نظر قابل غور بات یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ نے حسب معمول دیامر کی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے یہ کاروائی کس لیئے کی اس کاروائی کے پیچھے اغراض و مقاصد کیا تھے؟

قارئین کرام تاریخ کے سیاہ اورواق اس بات کی دلالت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس سے پہلے دیامر کی حدود میں شرپسند گروہوں کے ہاتھوں انسانیت کا جو قتل عام ہوا ہے،ان میں سے اکثر وارداتوں کی کڑی فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی جنونیت سے ملتی ہے۔

تاہم گزشتہ رات چلاس میں جو دہشتگردانہ کاروائی کی گئی ہے اور بےگناہ انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اس قتل ناحق میں نہ صرف اہل تشیع شامل ہیں بلکہ اہلسنت اور اسماعیلی مسلک کے لوگ بھی شامل ہیں،اس لیے چلاس کے مقام پر ہونے والی گزشتہ رات کی بزدلانہ کاروائی کو کسی صورت فرقہ واریت سے نہیں جوڑا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات شرپسندوں کی جانب سے کی گئی اس بزدلانہ کاروائی کے بارے گلگت بلتستان کے لوگوں میں نہ صرف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے بلکہ بعض حلقوں کا خیال ہےکہ یہ کاروائی گلگت بلتستان کے عوام کی گندم سبسڈی کے حوالے سے قائم اتحاد اور عوامی تحریک کو دبانے کی سازش ہے،جوگزشتہ کئی دنوں سے گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی کے قیمتوں میں اضافے کے خلاف جگہ جگہ احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں،عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی تحریک کو لیڈ کررہی ہے،گلگت بلتستان صوبائی حکومت کی کئی کوششوں کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

گلگت بلتستان صوبائی حکومت کے وزیر داخلہ شمس لون کے مطابق اس حملے میں ہمسایہ ملک بھارت ملوث ہوسکتا ہے،گلگت بلتستان اس وقت ایشیاء میں سونے کی چڑیا کی حثیت رکھتا ہے،اور بھارت کو اس خطے کی ترقی ہضم نہیں ہورہی ہے اس لیے وہ وقتاً فوقتاً گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے خطے میں بدامنی پھیلا کر سی پیک اور دیامر بھاشہ ڈیم جیسے میگا منصوبوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں،جن سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے۔

اس امر حقیقت میں تو کوئی ابہام یا شبہ نہیں ہے کہ گزشتہ شام سانحہ چلاس کے مرکزی کرداروں کا تعلق بھی مقامی آبادی میں سے ہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دیامر کی حدود میں مقامی مسلح جھتے ماضی میں بھی ایسے ہی متعدد کاروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ مذکورہ شرپسند عناصر انسانیت سوزی کیلئے ہمیشہ دیامر کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟ کیا حکومت ان مٹھی بھر عناصر کے آگے بے بس ہے یا دیامر کے لوگ واقعی دہشت گرد ہیں؟ حکومت کی بے بسی اپنی جگہ مگر ہمارے ہاں ایسی کاروائیوں کے تدارک کیلئے ہمہ وقت سلے لب ہمیں دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔ جو قوم بےحسی کے اس درجے پر پہنچے کہ دہشتگردوں کے سامنے سینہ تان کے کھڑا ہونے کے بجائے ان کے سامنے لیٹ جائے اس ڈر سے کہ ان کے خلاف آواز اٹھانے سےکہیں ہمیں بھی مار نہ دیا جائے،جس سرزمین پرمسلح جتھوں کے ہاتھوں ہر وقت انسانیت سسک سسک کر مررہی ہو، اس سرزمین پر بسنے والی قوم مرمت کے بجائے حسب روایت مزمت پر یقین رکھیں ایسی قوم صرف زمین پر بوجھ ہے اور اسے جینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

ایک طرف سے دیامیر پورے خطے میں انتہائی حساسیت اور قومی سطح پر اہمیت کا حامل ضلع اور گلگت بلتستان کا داخلی دروازہ ہے اور یہاں دیامر بھاشہ ڈیم جیسے میگا منصوبے زیر تعمیر ہیں،قابل غور پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت اور ان مسلح جتھوں کے مابین مزاکرات سے پہلے مذکورہ جتھوں کی افرادی قوت اور تعداد خاصی کم تھی مگر اب انکی تعداد میں اضافہ اور ایسی سرگرمیوں کو بطور پیشہ و زریعہ معاش اپنانے کی روایت نوجوان نسل میں گھر کر رہی جس کی بنیادی وجہ مذکورہ جتھوں کو دی جانے والی ڈیل اور ڈھیل ہے۔

ریاست کی جانب سے مذکورہ غیرمعمولی اقدامات کے باوجود ایسے واقعات کا رونماء ہونا مقتدر حلقوں اور پالیسی سازوں پر سوالیہ نشان ہے؟اگر مسلح جتھوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد یہ خطہ افغانستان کا منظر پیش کرنے لگےگا، اور یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گا،جس کے نتائج انتہائی سخت اور بھیانک ہوں گے۔

ان تمام تر حالات اور واقعات میں شرپسندوں کی جانب سے تمام دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیئے ہمیشہ دیامر کے حدود کا انتخاب اور بنیادی وجہ ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا نہ ہونا،شرح خواندگی میں کمی، اور اپنی زمہ داریوں سے روگردانی ہے۔ریاستی رٹ تو ریت کی دیوار مگرعوام بھی زندہ لاش کا منظر پیش کر رہی ہے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دیامر کے عوام ایک دفعہ مذکورہ گروہوں کے خلاف صف آرا ہوں گے اور سیکورٹی اداروں سے تعاون کریں گے تو بہت ممکن ہیکہ آئندہ کوئی دہشت گرد گروہ جرات تو کیا دیامر کے حدود میں قدم رکھنے سے قبل ہزار مرتبہ سوچیئےگا۔

لیکن من حیث القوم ہم نے اپنی زمہ داریوں سے مبرا ہوکر اپنی زمین ان کے ہاں گروی رکھ دی ہے،اور شرپسند عناصر جب جی چاہیں دیامر کے حدود میں داخل ہوکر کاروائی ڈالتے ہیں جس سے ملکی سطح پر دیامر کے ننانوے فیصد پرامن شہریوں کے چہرے پر گہرا بدنما کالک ملا جاتا ہے۔

ارض شمال کے قدآور شاعر جمشید دکھی(مرحوم) نے کیا خوب کہا تھا

میری دیار کی قسمت میں شام لکھا
کبھی فساد کبھی قتل عام لکھا ہے
میں اپنی جان ہتھیلی پہ لے کہ پھرتا ہوں
نہ جانے کونسی گولی پہ نام لکھا ہے

میرا مقتدر حلقوں سے سوال ہے کہ ہم کب تک سسک سسک کے مرتے رہیں گے؟ ہم کب تک ایک دوسروں کے ہاتھوں قتل ہوتے رہیں گے؟ہم کب تک ان سازشوں کے بھینت چڑھتے رہیں گے؟ ہم کب تک یہ ظلم برداشت کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک ایک دوسروں کے کٹے پھٹے جسم اور خون میں لت پت نعشیں اٹھاتے رہیں گے؟ بتایا جائے آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ دیامر کے باسی کونسا ناکردہ گناہ کی سزا کاٹ رہے ہیں۔کبھی فرقہ واریت کے نام پر انسانیت سوز واقعات،کبھی قتل و غارت گری کے نام پر کبھی بین الاقوامی سازشوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔کیا ہمیں جینے کا حق حاصل نہیں ہے؟ کیا ہمیں امن،تعلیم،صحت اور روزگار نہیں چاہیئے۔

پہلے ہم دیامر کو تعلیم دو کا مطالبہ کرتے تھے،اب ہم امن کا مطالبہ کرتے ہیں،ہم آپ کے ساتھ ہیں کھڑے ہیں۔
جب امن ہوگا تو پھرتعلیم،صحت،اور روزگار کا مطالبہ کریں گے۔ہم بھوک برداشت کرسکتے ہیں،بےروزگاری قبول ہے،ایک کلاس میں 60 بچے اکھٹے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں،لیکن بدامنی،اور دیامر کی بدنامی ہرگز قبول نہیں ہے۔

ہم آئندہ دیامر کی سرزمین کو ہر قیمت پر کسی بھی قوت کیلئے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔ دیامر میں امن اس وقت قائم ہوسکتا جب ان کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جاتا ہے،یاد رکھیں دیامر کے باشعور نوجوان اب یہ بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتے۔لہذا اس دفعہ مزمت سے باہر نکل کر مرمت کا راستہ اپنائیں اور ان جتھوں کا قلع قمع ناگزیر ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، اس دعا کے ساتھ کہ اللہ شرپسندوں سے اسلام دشمنوں سے ہماری حفاظت فرمائیں،ملک پاکستان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے