29سال10مہینے17دن ۔ ۔ ۔ !!

ایک بار میں نے ایک کالم میں نے پڑھا تھا کہ میاں زاہد سرفراز جو کسی زمانے میں نواز شریف صاحب کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ، اُنہوں نے ایک ٹی وی شو میں بتایا کہ 1985 میں جب غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو پنجاب کے وزیر اعلی کی سیٹ کے لیئے ملک اللہ یار مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ۔

جنرل غلام جیلانی نے فون کر کے میاں زاہد سرفراز کو لاہور بلوایا اور کہا کہ ملک اللہ یار وزیراعلی کی سیٹ کے لیے امیدوار ہے ۔ قوی امکان ہے کہ جیت بھی جائے گا ۔ مارشل لا کا دور تھا غلام جیلانی نے کہا کہ ہماری فوجی حکومت ہے اگر وہ وزیر اعلی بن گیا تو ہ میں تنگ کرے گا کیوں کہ پرانا سیاستدان ہے ۔ میرے خیال میں اگر نواز شریف کو بنا دیا جائے تو یہ ایک گڈا ہے اس کی موم کی ناک ہے جدھر چاہیں گے موڑ لیں گے ۔ یہ سوٹ کرتا ہے آپ کا کیا خیال ہے;238; میاں زاہد سرفراز نے جواب دیا کہ میں سیاسی آدمی ہوں اور ملک اللہ یار کی عزت کرتا ہوں اور بننا بھی اسی کو چاہئے لیکن وہ سیاسی آدمی ہے آپ کو وہ تنگ تو کرے گا ۔

اگر آپ نواز شریف کو بنانا چاہتے ہیں تو بنا لیں ۔ جنرل غلام جیلانی نے صدر ضیاء الحق کو فون کر کے رپورٹ دی کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ یوں یہ موم کا گڈا پہلی بار وزیر اعلیٰ بنا اور اس کی سیاست کا آغاز ہوا ۔ لیکن اس کے بعد اس موم کے گڈے نے جو تباہی پھیری وہ آپ سب کے سامنے ہے ۔ اور اب یہ موم کا گڈا چوتھی بار اس ملک کا وزیر اعظم ہوا چاہتا ہے ۔ الامان و الحفیظ

شیخ سعدی کی گلستاں پڑھیں تو بعض حکایات سے ایسے لگتا ہے جیسے شیخ سعدی اجکل کے دور میں پاکستان سے ہو کر گئے ہیں ۔ ان کی کتاب سے ایک دو حکایات ویسے ہی ذہن میں آرہی ہیں اپ کو بھی شیئر کردیتا ہوں ۔ ایک مرتبہ شہنشاہ نوشیرواں اپنی شکار گاہ میں تھا کہ کبابوں کے لیے نمک کم پڑ گیا ۔ نوشیرواں نے اپنے غلام کو بلایا اور کہا کہ قریبی گاوں میں جاءو اور نمک لے کر آءو ۔ غلام جانے لگا تو نوشیرواں نے اسے خصوصی تاکید کی کہ نمک ویسے لے کر مت آنا بلکہ قیمت ادا کرکے لانا ۔

ورنہ گاءوں اجڑ جائے گا ۔ غلام نے جاں کی اماں چاہی اور پوچھا کہ حضور بھلا ذرا سا نمک مفت لینے پر گاءوں کیسے اجڑ جائے گا ۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ دنیا پر بہت پہلے بہت کم ظلم ہوتا تھا تو حالات اچھے تھے پھر جو کوئی آیا اس نے ظلم میں اضافہ کیا اب تم دیکھ رہے ہو نوبت کہاں تک پہنچ چکی ہے ۔ اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک بھی سیب توڑے گا تو اس کا لشکر پورے باغ کو اجاڑ دے گا ۔ اگر منصف ایک انڈا مفت میں کھا لے گا تو اس کے پیروکار ہزاروں مرغیوں کو چٹ کر جائیں گے ۔ بادشاہ نے کہا کہ جیسے زندہ رہنے کے لیے ہوا اور پانی ضروری ہے اسی طرح کسی بھی ملک کے امن و امان کے لیے انصاف کا بول بالا انتہائی ضروری ہے ۔

ایک دوسری حکایت ہے کہ ایک بار حجاج بن یوسف نے ایک نیک بزرگ سے درخواست کی کہ میرے حق میں دعا فرمائیں ۔ بزرگ نے ہاتھ اٹھا کراللہ سے دعا کی کہ حجاج بن یوسف کی جان لے لے ۔ حجاج بن یوسف نے گھبرا کر کہا حضور! یہ آپ کیا دعا کر رہے ہیں ۔ بزرگ فرمانے لگے اصل میں تمہاری رعایا اور تمہارے لیے یہی بہترین دعا ہے کہ یوں تم خود اور تمہاری رعایا تمہارے ظلم سے بچ سکیں ۔

یہ دونوں بھائی جن کے اسمائے گرامی نواز شریف اور شہباز شریف ہیں ملکی تاریخ میں سب سے طویل اقتدار میں رہنے والی شخصیات ہیں ۔ نواز شریف 3469 دن پاکستان کے وزیر اعظم رہے ۔ اور 490دن ان کے جوش خطابت سے بھرپور بھائی شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کو انجوائے کیا ۔ دونوں بھائی کل 3959 دن یعنی 10سال اور10مہینے وزیر اعظم پاکستان رہے ۔

نواز شریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی بھی رہے جس کی کل مدت 1953 دن بنتی ہے جبکہ شہباز شریف 5003دن پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ۔ یعنی دونوں بھائی ملکر 19سال اور16دن پنجاب کے اَن داتا رہے ۔ اگر ان کی وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کی کل مدت دیکھی جائے تو 10915دن بنتی ہے ۔

29سال10مہینے17دن ان دونوں نے وفاق اور پنجاب پر حکومت کی ۔ یہ کیسی ہوس ہے اقتدار کی کہ ختم ہی نہیں ہورہی ۔ کبھی کھلے دروازے سے ، کبھی چور دروازے سے، کبھی آئین کو پامال اور توڑ مروڑ کر تو کبھی نوتوں کے بریف کیس تقسیم کر کے ۔ بس کسی طور اقتدار چاہیئے ۔ ان کا قیام بھی ملک میں ہمیشہ تب ہی ہوتا ھے جب اقتدار ملنا یقینی ہوچکا ہو ۔ ورنہ قیام و طعام اور کاروبار زندگی سب پاکستان سے باہر ۔

29سال10مہینے17دن حکومت کرکے بھی یہ ملک میں بہتری نہ لاسکے ۔ ایک ایسا ہسپتال نہ بنوا سکے جہان یہ اپنا علاج کروا سکیں ۔ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا ۔ ہم ایک ہی سوراخ سے چوتھی بار ڈسے جانے والے ہیں ۔ حساب لگا لیں کہ ہم کس پائے کے مومن ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے