ایران عرب تنازعہ-ایک جائزہ

1979 سے پہلے کے ایران کا تعارف ایک آزاد اور خودمختار نیشن سٹیٹ کے حوالہ سے تھا، اور اسی طور وہ عالمی معاملات میں دخیل تھا۔ یہی رہنما اصول اقوام عالم (بشمول مسلم دنیا) کے ساتھ اس کے باہمی تعلقات کی بنیاد تھا۔

[pullquote]انقلاب نے ایران کی اس شناخت کو قدرے تبدیل کیا جبکہ اس میں نیشن اسٹیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی شناخت کا عمل دخل بھی شامل ہو گیا۔اب ایران ایک شیعہ اسلامی جمہوریہ تھا۔ اس تبدیلی کا اثر ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک دورنگی کیفیت سے ظاہر ہؤا۔باقی تمام دنیا کے لئے وہ اب بھی ایک نیشن سٹیٹ رہا جبکہ مسلم اور بالخصوص عرب دنیا کے لئے وہ ایک شیعہ مملکت بن گیا۔ اس تاثر میں کچھ کردار ایران کے اسلامی انقلاب کے شیعہ رنگ تک محدود ہو جانے تھا اور دوسرا عرب ممالک کا یہ خدشہ کہ کہیں ایسا ہی کوئی انقلاب ان کے ہاں جاری مطلق العنان خاندانی بادشاہتوں کے خاتمہ کا باعث نہ بن جائے۔ اس کے بعد حالات نے جو معاندانہ رخ اختیار کیا اس میں ان دونوں عوامل کا کردار باہمی الزام تراشیوں کی صورت نمایاں طور موجود رہا۔
[/pullquote]

ایران میں شیعہ رنگ غالب آنا ایک فطری عمل تھا کہ وہاں کی غالب اکثریت اثناء عشری فکر سے متعلق ہے۔ تاہم اس کے سیاسی و بین الاقوامی محاذ پر دو اثرات ہوئے :
1۔ ایران نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لے لی کہ دنیا میں شیعہ فکر کا فروغ اور شیعہ افراد کی حفاظت اور پشت پناہی اس کی ریاستی ذمہ داری ہے۔
2۔ ایران اور دیگر مسلمان ممالک کے مابین غلط فہمیوں نے جنم لینا شروع کیا۔ دونوں اطراف شکایت کم وبیش ایک ہی تھی کہ دوسرا فریق قابل بھروسہ نہیں۔
یہ دوسرا نکتہ اس خطہ اور مسلم دنیا کے مستقبل کے لئے بہت اہم ہے۔
ایران کے ترجیحی بنیاد پر شیعہ مکتبہ فکر کا نمائندہ بن جانے سے تین بنیادی مسائل پیدا ہوئے ہیں :
ا۔ شیعہ فکر عالم اسلام میں ایک اقلیتی مکتب ہے۔ جب بھی معاملہ جمیعت میں شامل ایک اقلیت کا ہو تو اس کی نفسیات میں اکثریت سے متعلق ایک عدم تحفظ اور تشکیک کا عنصر قدرتی طور پر موجود رہتا ہے۔ اس کا ادراک اور تدارک دونوں ہی اکثریت کا کام ہے۔ لیکن ایسا نہ ہؤا اور عراق ایران جنگ نے خدشات کو مستقل پالیسی لائنز میں تبدیل کر دیا۔
ب۔ مندرجہ بالا پر مستزاد یہ کہ پہلے ہی یہ بات سب کے عمل میں ہے شیعہ اور سنی تقسیم میں محض علمی اختلاف نہیں۔ اس میں تاریخ کے کچھ ایسے تلخ اور خونی واقعات بھی شامل ہیں جن کے اثرات سے مسلمان ساڑھے تیرہ سو سال بعد بھی نکل نہیں پائے۔ آئمہ اثناء عشری میں سے اکثریت کو غیر طبعی موت کا سامنا کرنا پڑا اور اس حوالے سے شکوک شبہات کی یہ فضا غیر فطری نہیں کہی جاسکتی۔ تاہم اس طرح کے واقعات کو دور حاضر میں تعلقات کی بنیاد کے طور پر استعمال کرنا بھی قرین مصلحت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ج۔ شیعہ فکر میں سنی فکر کے حاملین کو ان لوگوں کا پیروکار تصور کیا جاتا ہے جن کے لیے ان کے ہاں مرتد اور منافق جیسی اصطلاحات مستعمل ہیں۔ ان میں سے بیشتر پر ہمیشہ اور بالخصوص محرم میں سخت تنقید کی جاتی ہے اور ان سے اعلان براءت کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے معتقدین سے صد فیصد درست تعلقات بھی ایک دوعملی کا بحران پیش کرتے ہیں۔

یہ ایک گنجلک صورتحال ہے لیکن اس کا لاینحل رہنا بشمول ایران سب مسلمانوں کے لئے تباہی کا مؤجب بن رہا ہے اور آئندہ یہ اور بھی پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے ۔اس ضمن میں یہ معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ بہتری احوال کے لئے چند ممکنہ ابتدائی اقدامات یہ ہو سکتے ہیں :
1۔ ایران کے ساتھ مشاورت کا باقاعدہ اور مستقل فریم ورک تشکیل دیا جائے جہاں علاقائی اور عالمی معاملات سمیت عرب ممالک اور ایران کے باہمی تضادات پر بات چیت ہو سکے۔ اس فریم ورک میں پاکستان، ترکی، انڈونیشیا وغرہ مستقل ممبران کی حیثیت سے شامل رہیں اور چین، جرمنی اور روس مبصر ممالک ہو سکتے ہیں۔
2۔ ایران کے ساتھ مبہم ایجنڈا کے بجائے ایشوز کی بنیاد پر سٹرکچرڈ بات چیت ہو اور اس کے مفادات کو اہمیت دیتے ہوئے ان کو زیر غور لایا جائے۔
3۔ ایران کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ دوسرے ممالک کی طرح مسلمان ممالک کے ساتھ بھی ایک نیشن اسٹیٹ کی طرح ڈیل کرے تاکہ اصول اور مفادات میں زیادہ توازن اور معروضیت برقرار رہے۔ یہ وہی ڈھانچہ ہے جس پر یورپین یونین کے اولین ممبران اپنے اختلافات سمیت
کسی مذہبی تنازعہ یا تحفظ کے لئے نمبر ایک پر دیا گیا میکانزم بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
4۔ ایران کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے اور اس کے ساتھ معاہدات کی پابندی کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ باہمی اعتماد کو تقویت ملے۔
اس بات کا خاص اہتمام کیا جائے کہ باہمی تنازعات پر بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے خلاف پوزیشن لینے کی نوبت نہ آنے پائے۔ اس سے تھرڈ پارٹی مداخلت کی راہ ہموار ہوتی ہے جس سے غلط فہمیوں میں اضافے کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔
5۔ ایران کو بھی ایک میچیور ملک کی طرح اپنی ذمہ داریاں سمجھنا ہوں گی۔ اس میں سب سے اہم یہ کہ بیک وقت دوستی اور دشمنی رکھنے کی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا۔ اس پالیسی نے متحدہ عرب امارات، ترکی اور پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات کو گومگو میں رکھا ہے حالانکہ ان کے ساتھ سٹریٹجک انگیجمنٹ ایران کے لئے خطہ میں انتہائی سود مند ماحول پیدا کر سکتی ہے۔

[pullquote]ایران عالم اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور اس کی مین اسٹریم میں شمولیت سے خلیج، عرب دنیا اور عالمی معاملات میں تعاون، امن اور استحکام کے ان گنت مواقع حاصل ہو سکتےہیں۔امید رکھنا چاہیے کہ آج وزیر اعظم پاکستان کے دورہ سے کم از کم خلیجی ممالک اور ایران کے مابین تعلقات میں ایک نئے دور کے آغاز میں مدد ملے گی۔
[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے