ماضی کے چند سالوں میں سیاسی عدم استحکام کے اثرات نوجوانوں کی زندگیوں پر مثبت نہیں رہے۔ اگر انتخابات کے دوران نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے وعدے اگر پورے ہوتے، تو آج ملک میں بے روزگاری 8.5 فیصد کی شرح پر تک نہ پہنچتی اور لاکھوں نوجوان ملک نا چھوڑتے۔
اس سنگین حقیقت کو نظر میں رکھتے ہوئے، آئندہ کے انتخابات میں ملک کے مستقبل کے لئے محکم اور ایماندار لیڈرز کی تلاش اہم ہے، تاکہ نوجوانوں کو معاشی اور تعلیمی حقوق فراہم ہوں اور وہ ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ مگر اس سب کے لیے ضروری ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پاکستانی سیاست میں ابھر کر سامنے آنا ہو گا اور نوجوانوں کے حقوق کی جنگ کرنے ہو گی کیونکہ نوجوان صرف ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملکی تقدیر بدلنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس بات کا اندازہ بھی اپ کو ہوگا کہ پاکستان میں دو تہائی کی آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔
سال 2018 میں ہونے والے جنرل الیکشن میں بھی کئی سیاسی جماعتوں نے نوجوانت کو ٹکٹ دینے کا وعدہ تو کیا تھا مگر سوال یہ ہے کیا نوجوان صرف وہ ہے جن کے باپ دادا سے سیاست چلتی آ رہی ہو یا جن کے مالی وسائل زیادہ ہوں؟ تاریخ میں ان کے علاوہ بہت کم مثالیں ملتی ہیں جب سیاسی جماعتوں نے نوجوان کو پارٹی ٹکٹ دیا ہو۔ پھر جب نوجوان امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہیں ملتا تو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں سال 2018 میں اگر ہم بات کریں آزاد امیدواروں کے جیتنے کی تو نیشنل اسمبلی کی 342 نشستوں میں سے 13 امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ پنجاب اسمبلی میں 30 امیدوار، کے پی کے اسمبلی میں 2 ، بلوچستان اسمبلی میں 5 اور سندھ اسمبلی میں کوئی آزاد امیدوار بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نا رہا۔
تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آزاد حیثیت سے بھی الیکشن جیتنا نوجوانوں کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر جب آزاد امیدوار سیٹ جیتے ہیں تو سیاسی جماعتیں اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے اور عوان میں اپنا نمبر بڑھانے کے لیے ازاد امیدواروں کو اپنی پارٹی میں شامل کر لیتے ہیں اور وزارت کی پیشکش بھی کی جاتی ہے۔ چند ماضی کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جب نوجوان پارٹی ورکرز کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے پارٹی ٹکٹ ملنے کا وعدہ تو ہوا مگر ٹکٹ نہ ملنے پر انہیں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑا۔
پی پی 284 لیّہ سے تعلق رکھنے والےسید رفاقت گیلانی نے پچھلے جنرل الیکشن میں بطور نوجوان سیاسی رہنما سیاست میں قدم رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں قدم رکھنا کافی مشکل فیصلہ تھا مگر خطے کی محرومیوں کو پورا کرنے اور نوجوان قیادت کو اگے لانے کے لیے سیاست میں آیا۔ دن رات محنت کی ڈور ٹو ڈور کمپین کی اور ہر خاص عام شہری تک اپنا منشور پہنچایا۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف عوام میں کافی مقبول تھی۔ خان صاحب ہمیشہ نوجوان قیادت کو سامنے لانے کی باتیں کرتے تھے مگر جب پارٹی ٹکٹس تقسیم کرنے کی باری آئی تو ہم نوجوان پیچھے رہ گئے اور وہی پرانے چہرے اور سیاستدان پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ تو لہذا پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ مد مقابل ٹکٹ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خطے کے پرانے سیاستدان غلام حیدر تھیند کی زوجہ کو ملا یہ ٹکٹ اس وجہ سے انہیں ملا کیونکہ تب غلام حیدر تھیند الیکشن لڑنے کے لیے نااہل تھے۔ یہاں پر سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخر کیوں سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں نوجوان قیادت کو آگے لانے کا دعوی تو کرتی ہیں مگر پارٹی ٹکٹ کی تقسیم کے وقت نوجوانوں کو پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جب الیکشن کا رزلٹ سامنے آیا تو پی پی 284 سے نوجوان امیدوار سید رفاقت گیلانی کامیاب ہوئے تو اس وقت جہانگیر ترین نے ان سے ملاقات کی اور ان کی شمولیت پی ٹی ائی میں کروائی۔ تو اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ تمام سیاسی جماعت نوجوان قیادت کو ٹکٹ دینے سے تو قاصر رہتی ہیں مگر ان کے کامیاب ہونے کے بعد ہی انہیں پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تاکہ آئندہ الیکشنوں میں یہ سیٹ ان کی کنفرم رہے۔
اس کے علاوہ بھی اگر بات کی جائے ملتان کے پی پی 217 کے حوالے سے تو پاکستانی تاریخ کے بڑے سیاست دان شاہ محمود قریشی جو کہ کئی دہائیوں سے عوامی نمائندگی حاصل کر کے اعلی عوان تک پہنچ رہے ہیں، سال 2018 میں جب اسی حلقے سے الیکشن کی کمپین کے لیے انہوں نے سلمان نعیم جو کہ ایک کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان کو اپنے ساتھ رکھا اور پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی بھی کروائی مگر اس حوالے سے سلمان نعیم نے بتایا کہ جب پارٹی ٹکٹ دینے کی باری ائی تو شاہ محمود قریشی نے اسی حلقے سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور پارٹی ٹکٹ بھی حاصل کیا تو اس لیے انہیں آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنا پڑا اور اس الیکشن کے نتائج کچھ ایسے تھے کہ سلمان نعیم نے 35294 ووٹ حاصل کیے جبکہ شاہ محمود قریشی نے 31716 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اِس کے بعد میں جب پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے 24 منتخب آزاد امیدوار پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو ان میں سے ایک سلمان نعیم بھی تھے۔
اس کے علاوہ بھی ملتان شہر میں ضمنی انتخابات 2022 این اے 157 کی نشست پر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سید علی موسی گیلانی تھے جبکہ دوسری جانب سے پی ٹی ائی کی طرف سے الیکشن لڑنے کے لیے کئی امیدوار خواہش مند تو تھے ۔ جس میں کافی نوجوان بھی تھے، جنہوں نے سالہ سال پارٹی کے لیے محنت کی اور موقع کی تلاش میں تھے کہ پارٹی قیادت ان پر اعتماد کر کے انہیں سامنے لائے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت بھی جو ٹکٹ تھا وہ مروثیت کی بھیڑ چڑھا اور نام نہاد سیاست دان شاہ محمود قریشی نے اپنی بیٹی مہربانوں قریشی کو ٹکٹ دیا۔ الیکشن کے نتائج انے کے بعد سید علی موسی گیلانی فاتح قرار پائے تھے۔
اب یہاں کئی سوال جنم لیتے ہیں، کیا پاکستان میں نوجوان رہنما صرف پارٹی کی ووٹر کی حیثیت رکھ لیتے ہیں؟ کیا مرثیت سے ہٹ کر بھی ہمارے سیاستدان نوجوانوں پر اعتماد کر کے انہیں پارٹی ٹکٹ دے سکتے ہیں؟ نوجوان قیادت کو سامنے لانے والی پارٹیز بھی ٹکٹ کی تقسیم کے وقت نوجوان پارٹی ورکرز کو موقع کیوں نہیں دیتے؟
اس سب میں قصور کچھ ہمارا بھی ہے کیونکہ ہم لوگ خود بھی سیاست کے معاملے میں اور ووٹ کہ استعمال میں کچھ خاص مطالعہ نہیں کرتے اور وہی پرانے سیاست دانوں کو ہی علاقائی سیاست میں سپورٹ کرتے ہیں جو کہ عرصہ داراز سے اعلی عوان تک پہنچ تو رہے ہیں مگر علاقے کی بہتری اور مسائل کا حل کرنے میں کئی حد تک ناکام ہے۔ اس میں ہمیں اپنی سوچ کا پیمانہ بدلنا ہوگا اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے لانے کے لیے متحد ہو کر ان کی سپورٹ میں کھڑے ہونا ہوگا چاہے کوئی پارٹی انہیں ٹکٹ دے یا نہ دے ۔ تو پھر ہی سیاسی جماعتیں مروثیت سے ہٹ کر اعلی تعلیم یافتہ اور باہنر نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کریں گے اور ملکی ترقی میں یہ نوجوان اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔