اس وقت تمام نفلی عبادات سے افضل عبادت غزہ کے لوگوں اور مجاہدین کی مالی امداد ہے، مفتی تقی عثمانی
مفتی صاحب کے اس بیان سے متاثر ہو کر ایک متاثرہ کا منمناتا ہوا ادھورا بلاگ۔۔۔۔
میرا دل بھی اس نسل کشی اور بربریت پر دن رات روتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ میرے پاس اچانک اس طرح الله سے مانگنے کا سلیقہ آجائے کہ وہ ذات جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ، میری التجا سن لے اور فلسطینیوں کی جاں بخشی ہوجائے۔ ان کو بھی اپنا ملک نصیب ہو اور وہ امن کی حالت میں زندگی گزاریں۔ گھروں ‘اسپتالوں ‘ سکولوں ‘ مہاجر کمیپوں کے ملبوں اور دیگر تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کو پھر سے قابل استعمال بنانے کے لیے جس طرح کے سرمائے ‘ سہولیات اور سوچ کی ضرورت ہے ، وہ سارے کے سارے یکدم فلسطین کے لیے یکجا ہو جایئں ۔ جن بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کیا گیا ‘ ان کی ٹانگیں ‘ہاتھ اس زندگی کو بچانے کے لیے (بنا بیہوشی یا سن کر دینی والی ادویات کے ذریعے کاٹ دیئے گئے) جو شائد ان کو نصیب بھی نہ ہو- ان کی مشکلات جن کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہے، ان بے بس لوگوں کے ہر درد کا درماں کر دے۔
پھر یہ خیال حاوی ہوجاتا ہے کہ الله بادشاہ ہے تو یہ دنیا اور تمام کائنات چلا رہا ہے۔ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ تمام عالموں کے رب کے حوالے سے نہ تو میری سمجھ گہری ہے نہ ہی عمیق مطالعه ہے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ مجھ کو مسائل محبّت و عشق ہمیشہ دہشت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ میں نے پچیس سال کی عمر جو پہلی کتاب ١٩٩٥ میں لکھی تھی، اس کا عنوان تھا "مجھے محبّت سے ڈر لگتا ہے ” اب تک یہی لگتا ہے۔
میں ان سوالوں اور وسوسوں سے نجات پانے کے لیے واک پر نکل جاتی ہوں ۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی یہاں شہر اقتدار میں بچے کوڑے دان میں کھانا ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں خود کلامی کرتی رہتی ہوں ۔ بچوں کو اسکول میں ہونا چایے تھا ۔ سب کے لئے ایک نصاب ‘ ایک کتاب ہونی تھی ۔ یہ نجی اسکول کیا ہیں ؟ کیوں ہیں ؟ حکمران اور اشرافیہ کے بچے مہنگے تعلیمی اداروں میں کیوں پڑھتے ہیں اور مہنگے اسپتالوں میں کیوں جاتے ہیں ؟ پھر مجھ کو یاد آتا ہے کہ میں اپنے آپ کو پرسکون کرنے کا جتن کرنے واک پر نکلی تھی۔
میں پھر ڈر کے واپس آجاتی ہوں اور گاڑی پر بے سمت نکل جاتی ہوں ںپرانی گاڑی( جو پڑھے لکھے مڈل کلاس لوگ چاہے وہ جتنے مرضی اسکالر شپ لے لیں اگر ایمانداری سے جینے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہی ان کو میسر رہتی ہے) کا مزاج بگڑ جاتا ہے۔ پیٹرول بھی ختم ہونے کو آرہا ہوتا ہے تو ایک پمپ پر اس کو روک دیتی ہوں۔
دس منٹ کے اس قیام میں کئی منظر دیکھ لئیے۔ پیٹرول پمپ کے ساتھ ہی موٹرمیکینک کی ورکشاپ میں کام کرتے ہوئے بچے ، بھکاری مرد وعورت اور بچے ۔ تمسخر کا نشانہ بنتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اداس لاچار ٹرانس لوگ ، حالات کی بےرحمی سے لڑتی ہوئی ٹھیلا لگائی ہوئی عورتیں۔
ریاست کہاں ہے ؟ کیا روٹی، کپڑا ، تعلیم ، مکان ، دکان ، روزگار الیکشن کے بعد کروڑوں محروموں ، معزوروں ، محکوموں کو اچانک حاصل ہو جائے گا ؟ میں وحشت کی لکیر کو پار کرنے سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں اور واپس گھر آجاتی ہوں۔ لیپ ٹاپ ان کر کے بلا مقصد انٹرنیٹ سرفنگ کرتی ہوں۔ ایک سائٹ پر پاکستانی بہاریوں کی حالت زار پر کچھ پوسٹ پڑھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ میری کمیونٹی کے لئے کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی ۔ اپنی فضول کمینی قسم کی سوچوں پر نمناک ہوتی ہوں ۔ پھر اس نامراد سوچ کا گلہ گھونٹ دیتی ہوں۔ اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرتی ہوں اور ایک اور جاب ایپلیکیشن پر کام کرنا شروع کردیتی ہوں۔
ڈاکٹر رخشندہ پروین : پبلک ہیلتھ اور صنفی امور کی ماہر ہیں اور پی ٹی وی کے لائیو مارننگ شوز اور کرنٹ افیئرز کی پہلی خاتون اینکر بھی رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پی ٹی وی کی تاریخ میں صنف کے حوالے سے پہلی سیریز جینڈر واچ پر ایکسیلنس ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں ۔ ٣٠/٣٢ سالوں سےسماجی ترقیاتی شعبے اور میڈیا سے وابستہ ہیں۔