کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نادرا ڈیجیٹلائز ہو گیا ؟

نادرا کے سمارٹ کارڈ کے حصول کے لیے تمام عمل مکمل کرنے کے بعد جب آخری کاوٗنٹر پر فارم جمع کروانے پہنچے تو سٹاف نے میرے بیٹے کو کہا کہ فارم جمع کروانے کے لیے فارم کے ساتھ فارم ب، اور والدین کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی لگانا لازم ہے۔
ہم رات 11 بجے نادرہ سمارٹ سنٹر بلیو ایریا اسلام آباد پہنچے تھے جو چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کرتا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کے لیے سمارٹ کارڈ کی درخواست دینی تھی۔ یہ کسی بھی ادارے کا ایک بھرپور اقدام ہے۔ جو شہری دن کو دفاتر میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
ٹوکن دینے والے سٹاف نے بتایا کہ ایگزیکٹو کارڈ کی فیس دو ہزار پانچ سو ہے چونکہ رش ذیادہ ہے اس لیے کم ازکم انتظار دو گھنٹے ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کارڈ کے حصول کے لیے فارم ب کی کاپی لازمی ضرورت ہو گی۔ جب کی میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ لے کر گیا تھا۔ جس کی اہمیت اس قدر ہے کہ اس پر پورے خاندان کا اندراج تصاویر سمیت درج ہوتا ہے۔ بہرحال ڈیجیٹل سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے گھر سے فارم کی سکین کاپی منگوائی اور نادرا کے دفتر کے باہر فوٹو کاپی والوں سے فارم کا پرنٹ لے لیا۔
ایک گھنٹی انتظار کے بعد ہمارا نمبر آٰیا تو سٹاف کو مستعد پایا ۔ انہوں نے صرف میرے شناختی کارڈ کا تقاضا کیا اور میرے انگوٹھے کے ڈیجیٹل نشان لیے۔ جن کے لگاتے ہی میرا سارا ڈیٹا ان کے سامنے کھل گیا۔ یہ نظام متاثر کن تھا۔ دیگر پراسیس پانچ منٹ میں مکمل ہوا اور مینیجر کا آخری دستخط کروانے کے بعد کاوٗنٹر چار پر فارم جمع کروانے کو کہا گیا۔

وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ فارم کے ساتھ نہ صرف فارم ب کی کاپی لگنی ہے۔ بلکہ والدین یعنی ماں باپ دونوں کے شناختی کارڈ کی کاپی لگنی ہے۔ چونکہ میں موبائل میں ڈیجیٹل ڈیٹا رکھتا ہوں اس لیے میں نے دوبارہ پرنٹ نکالے اور لف کر کے ان کو فارم جمع کروا دیا۔ لیکن یہ ایسا عمل تھا جس نے نادرا کی ڈیجیٹلائزیشن کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔

ڈیٹا اندراج کے بعد تمام ترویریفیکیشن کے بعد ان کاغذات کی کاپیاں مانگنا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔ اس عمل کا سوائے اس کے کوئی مقصد نظر نہیں آتا کہ آفس کے باہر موجود فوٹو کاپی والے کو فائدہ پہنچایا جائے جو ایک سادہ پرنٹ تیس روپے میں دیتے ہیں۔
وہاں فارم جمع کروانے والے دو مزدور افراد بھی تھے۔ جنہیں یہ کہا گیا کہ گریڈ سترہ کے افسر سے فارم تصدیق کر کے لائیں ۔ پھر جمع ہوگا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ یہ گریڈ سترہ کا افسر کہاں ملتا ہے ۔ ہمیں تو یہاں کوئی دفتر میں نہیں چھوڑے گا۔ میں نے انہیں رہنمائی کی ۔
میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ وہ اپنا شناختی کارڈ رینیو کروانے آئے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ دوسری مرتبہ شناختی کارڈ کے لیے اس تصدیق کی ضرورت کیوں ہے۔ اور ایسے شہریوں کے لیے گریڈ سترہ کا افسر تلاش کرنا اور پھر اس سے تصدیق کروانا کتنا بڑا کام ہو گا۔ جب کہ نادرا کی ویب سائٹ پر واضح لکھا ہے کہ کوئی بھی خونی رشتہ دار درخواست گزار کے ساتھ آ کر بائیو میٹرک کے ذریعے یہ تصدیق کر سکتا ہے

کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نادرا ڈیجیٹلائز ہو گیا ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے