بچیوں کی ماں جواری نکلی۔۔۔۔۔

آج عبدالولی کے ہاں زینت کی پیدائش ہوئی ہے۔ ویسے عبدالولی اور اس کی بیوی نہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور نہ بالکل انپڑھ۔ کیونکہ زینت ان کی پہلی اولاد تھی اس لئے گھر میں زینت کا شاندار استقبال کیا گیا۔ عبدالولی اپنے پانچ بھائیوں ، ان کے کنبے اور ایک ماں کے ساتھ، ایک اجتماعی گھر میں رہتے ہیں۔ عبدالولی کے تمام بھائیوں کی نرینہ اولادیں ہو چکی ہیں چونکہ عبدالولی سب سے چھوٹا ہے، اس لیے جب اس کے ہاں پہلے بچے زینت کی پیدائش ہوئی تو تمام کنبہ اس پر بہت خوش ہے۔ کیونکہ ان کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے مگر ان کی پہلی اولاد کی خبر سننے کے لیے سارا کنبہ انتظار کر رہا تھا۔

جس معاشرے میں عبدالولی رہتا ہے تو وہاں زیادہ بچے اور وہ بھی نرینہ ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ان کی پہلی بچی لڑکی ہو گئی تھی۔ جیسے ان کا پہلے سے منصوبہ تھا کہ تین بچے ہوں گے۔ زیادہ بچوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ جیسے ہی زینت کی پیدائش ہوئی۔ تو انہوں نے منصوبہ بندی کیے بغیر دوسرے بچے کا منصوبہ بنایا اور ٹھیک ایک سال بعد شائستہ پیدا ہو گئی۔ شائستہ کی پیدائش پر سب بہت پریشان تھے کہ لڑکا ہونا چاہیے تھا۔ شائستہ کی امی کو بھی بڑا دکھ ہوا۔ کیونکہ اس نے اتنی جلد دوسرے بچے کا پلان صرف اور صرف لڑکا پیدا ہونے کے لیے کیا تھا۔ لیکن خدا کی کرنی پر کون کیا کر سکتا ہے۔

ابھی عبدالولی کا حوصلہ بلند تھا۔ عبدالولی نے اپنی بیوی کو حوصلہ دیا کہ اللہ رب العزت کے کاموں میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ کوئی بات نہیں۔ ابھی تو ہم دونوں نوجوان ہیں۔ ہمیں اگلی بار انشاءاللہ لڑکا ہوگا‌۔ اسی طرح عبدالولی کے حوصلوں سے دو بیٹیوں کی ماں کو تھوڑا سکون ہوا، اور شائستہ کی دیکھ بھال میں لگ گئے۔اب ایک سال کی زینت ہے۔ اور ایک مہینے کی شائستہ ہے۔ دونوں شیر خوار بچے ہیں۔ دونوں کی دیکھ بھال کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے لیکن کیا کریں بچے ہیں۔ جیسے تیسے بچوں کی دیکھ بھال ہورہی ہے ۔

اب تین مہینے گزرے نہیں۔ بچوں کی ماں کے کانوں میں ساس نے کچھ کہہ دیا کہ اگلے ماہ عبدالولی سمندر پار جا رہا ہے تو کیا منصوبہ ہے یعنی تیسرے بچے کا۔۔۔؟ راحیلہ نے ساس کو سمجھایا کہ ابھی تو مجھ سے دو بچے نہیں سنبھالے جا رہے اور تم تیسرے بچے کا کہہ رہی ہو۔ راحیلہ نے ساس کو جتنا ہو سکا سمجھایا لیکن وہ نہیں مان رہی تھی کہ میرا بیٹا عبدالولی سمندر پار جا رہا ہے۔ اس کے ہاں بیٹا نہیں ہے۔ اب کیا پتہ وہ کب لوٹ کر آتا ہے۔ شاید وہ آئے اور میں نہ ہوں، میں چاہتی ہوں کہ اپنی زندگی میں عبدالولی کا نرینہ بچہ دیکھ سکوں۔ اب راحیلہ بھی مجبور ہو گئی اور شوہر کو سمجھانے لگی کہ امی کی بڑی چاہت ہے۔ عبدالولی نے جتنا بھی منع کیا لیکن اماں کے حکم کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور اسی طرح دوسرے بچے کے تیسرے مہینے پر تیسرے بچے کا منصوبہ بنایا گیا۔

اب عبدالولی سمندر پار مزدوری کے لیے چلا گیا۔ وہاں مزدوری کا غم بھی رو رہا ہے۔ یہاں اپنے بچوں کی روز کی بیماری کا سن کر اور بھی غمزدہ اور پریشان ہوتا ہے۔ اوپر سے بیوی بھی تیسرے بچے کی امید سے ہے۔ جب عبدالولی کے آٹھ ماہ وہاں ہوئے۔ تو راحیلہ کے ہاں تیسرے بچے کا جنم ہوا۔ اور وہ بھی لڑکی صائمہ کے نام سے۔

صائمہ کی پیدائش پر اس گھر میں غم کا سماں ہے۔ کوئی کسی سے بات نہیں کرتا۔ دیورانیاں آپس میں ایک دوسرے کو کہہ رہی ہیں کہ راحیلہ بڑی بدبخت بیوی ثابت ہوئی۔ کیونکہ لڑکیوں کا پیدا کرنا، ایک بدبختی کی علامت ہے۔ ساس سرے سے بات ہی نہیں کر رہی۔ عبدالولی فون پہ فون کر رہا ہے۔ لیکن کوئی فون اٹھا نہیں رہا۔ جب صائمہ کی پیدائش کے دس دن گزرے۔ تو عبدالولی کو کسی دوسرے پڑوسی سے خبر ملی کہ آپ کے ہاں تیسری بچی سائمہ کی پیدائش ہوئی ہے۔ اب عبدالولی بھی اپنی بیوی کے لیے پریشان ہے۔ کیونکہ اسے اپنے گھر کی عورتوں کے طعنوں کا پتہ ہے اور چونکہ وہ سب انپڑھ ہیں۔ اسی لیے وہ ضرور طعنے ماریں گے۔ اس وجہ سے عبدالولی وہاں اور بھی پریشان ہے۔ نہ مزدوری ہو رہی ہے اور نہ گھر آ سکتا ہے۔ ایک ڈبل ذہن کا بندہ دیار غیر میں اپنی زندگی کے صبح و شام بہت پریشانی میں گزار رہا ہے۔

جب بڑی اماں کو تھوڑا ہوش ٹھکانے آیا تو عبدالولی کو کال کی کہ ایک سال گزار لو اور واپس اپنے دیس آجاؤ۔ یہاں پر بھی اچھی خاصی مزدوری ملتی ہے لیکن عبدالولی نے جانے کے لیے لاکھوں کا قرضہ لیا تھا۔ ابھی تک تو وہ بھی ادا نہیں کیا تھا۔ عبدالولی ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اسی طرح عبدالولی اور بڑی اماں کی لڑائی کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ اور پورے ڈیڑھ سال تک رہا۔

جب تک عبدالولی ڈھائی سال کے بعد اپنے گھر واپس نہیں لوٹا، راحیلہ بیچاری بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ چہرے پر جھریاں آگئی تھیں۔ کیونکہ تین بچے یکے بعد دیگرے پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اوپر سے معاشرے کے طعنے سن سن کر کان بھی پک گئے تھے۔ عبدالولی کا استقبال بھی نہیں ہو رہا تھا۔

اب لوگوں نے عبدالولی کو بھی یہ کہہ کر کہ آپ کی بیوی بد نصیب اور بدبخت ہے، اس کا بھی دل پھیر گیا تھا۔ پہلے والا عبدالولی نہیں رہا تھا۔ بس صرف گھرداری کر رہا تھا اور اسی طرح پورے ایک سال بعد راحیلہ کے ہاں نازیہ یعنی چوتھی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ جیسے ہی اس کی پیدائش ہوئی تو بڑی اماں نے اس بچی کو مننت کے طور پر بحش دیا۔

یہاں ایک سوچ ہے، کہ اگر ایک عورت کے ہاں بار بار لڑکیاں ہوتی ہیں تو ایک بچی کو کسی کو بھی بخش دو یعنی اس کی شادی کے کسی بھی چیز کی ڈیمانڈ نہیں رکھی جاتی اور اس بچی کو بغیر حق مہر کے کسی کو بخش دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نازیہ بھی اس رواج اور سوچ کے بھینٹ چڑھ گئی۔

اب اگلی بار راحیلہ نے پانچویں بچے کا تہیہ کیا کہ اب ہم نے چونکہ مننت بھی کر لی ہے۔ تو اس بار انشاءاللہ ہمارے ہاں ضرور لڑکا پیدا ہوگا۔ اس بار پھر لڑکی کی پیدائش ہوئی جس کا نام بریرہ رکھا گیا۔ آج اس خاندان میں مکمل طور پر غمی کا سماں ہے۔ راحیلہ مرنے کے قریب ہے۔ کیونکہ پانچ بچے پیدا کرنا، جس کی صحت سرے سے بھی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ اوپر سے بچوں کو سنبھالنا اور رشتہ داروں کی بدبودار باتیں سننا، اس تمام غم کے عالم میں راحیلہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی۔

اسی کے ساتھ راحیلہ کا گھر آج پھر غم میں غرق ہے اور شاید اب چھٹے بچے کا منصوبہ بھی بنے گا کیونکہ لڑکیوں کی ماں تو ایک جواری کی مانند ہوتی ہے کہ شاید اگلی بار لڑکا پیدا ہو جائے اور اسی طرح چھٹی اور ساتویں لڑکی بھی آگئی لیکن لڑکا نہیں ہوا۔۔۔۔۔

پشتو کا مشہور مقولہ ہے ” دا جینکو مور جوارگرہ وی” عموماً لڑکیوں کی ماییں جواری ہوتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے