پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

حالیہ کچھ برسوں سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں شدید ترین موسمیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ کبھی کلاوڈ برسٹ، ندی نالے بپھر جاتے ہیں اور کبھی غیر متوقع طور پر مختلف علاقوں میں شدیدژالہ باری سے فصلوں اور پھل کا بے پناہ نقصان ہوتا نظر آتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ یا کمی دیکھی گئی اور برف باری کا موسم خشک گزر رہا ہے۔ماحول کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ صرف اس خطے کا نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا سوال ہے کہ آیا موسمیاتی تبدیلی عالمی ماحولیات کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے لیکن جس تیزی سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں یہ تبدیلیاں انتہائی خطرناک مستقبل کی پیشنگوئی کر رہی ہیں ۔ عالمی سطح پر 19ویں صدی میں پالیسی بنی تھی کہ 22ویں صدی یعنی 2100تک دنیا کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 2ڈگری بڑھنے پائے جو کہ پالیسی کے مطابق ابھی تک اوسط 1.5ڈگری تک بڑھا ہے لیکن2017میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کو زیر بحث لایا ہے۔ اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے2ڈگری درجہ حرارت بڑھانے کا جو ہدف تین صدیوں یعنی تین سو سال کے لئے رکھا تھا پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر نے صرف 50سال میں وہ ہدف عبور کر چکا ہے ۔پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آخری رپورٹ 2017 میں شائع کی گئی تھی جس میں نصف صدی میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا گیا تھا جن کے حل کے لئے حکومت نے تاحال کوئی اقدام نہیں کئے بلکہ اس رپورٹ کو زیر بحث بھی نہیں لایا گیا۔ رپورٹ کے آغاز میں علاقے میں موجودگلیشیرز اور جھیلوں کی تفصیل بتائی گئی ہیںجس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں 239 گلیشیئرز ہیں جن کا کل رقبہ 92.229 مربع کلومیٹر ہے اور گلیشیئر جھیلوں کی تعداد 76 ہے جن کا کل احاطہ شدہ رقبہ 1346.72 ایکڑ ہے۔یہ گلیشئیرز اور جھیلیں وادی نیلم میں پائی جاتی ہیں۔رپورٹ میں ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آزاد جموں کشمیر کا 1962 میں اوسط درجہ حرارت25 ڈگری جاتا تھا جو 2013 میں 2 ڈگری تک بڑھا اور گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 27 ڈگری تک ہو گیا ہے۔ آزاد کشمیر میں اس دورانیے میں درجہ حرارت کے اعتبار میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ گڑھی دوپٹہ (مظفرآباد) ہے اور اب نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ میں دریائے نیلم کا رخ موڑے جانے کے بعد مظفرآباد میں صورتحال مزید بگڑ چکی ہے شہر میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ پینے کے پانی کی قلت اور مختلف بیماروں کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ رپورٹ میں مستقبل کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2060 تک یہ درجہ حرارت 1.4 سے 3 ڈگری تک مزید بڑھ سکتا ہے یعنی 2060 میں گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 28 ڈگری جبکہ صدی کے اختتام تک یہ درجہ حرارت 10 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے۔ اور اس صدی کے اختتام تک یعنی 2100 میں آزاد جموں کشمیر کا درجہ حرارت 10 ڈگری تک بڑھ جائے گا اور گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 35 ڈگری تک متوقع ہے۔ جو عالمی ہدف سے تقریبا 600گنا زیادہ ہو گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1962 میں سالانہ اوسط بارش 1086 ملی میٹر ہوتی تھی جو بڑھ کر 2013 میں 1340 ملی میٹر ہو چکی تھی اور مستقبل میں درجہ حرارت بڑھنے سے کبھی مون سون اور بارشوں میں توسیع اور کبھی خشک سالی کے قوی امکانات ہیں۔ اس موسمیاتی تبدیلی سے متواتر اور بڑے سیلاب، گلیشیر لیک آﺅٹ، برسٹ فلڈز ، لینڈ سلائیڈنگ کا زیادہ خطرہ اور شدید بارشوں کی وجہ سے برفانی تودے گرنے جیسے خطرات درپیش ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں مون سون کا دورانیہ زیادہ ہو سکتا ہے جس سے برف کم آنے کے امکانات ہیں اور گلیشئیرز کی برف مسلسل پگھلنے سے دریاﺅں کے پانی میں کمی آ سکتی ہے اور گلیشئیرز سے ملنے والے پانی کے وسائل میں کمی آئے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شمالی علاقہ جات اور بلند علاقے بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث برف کا موسم دسمبر اور جنوری کے بجائے فروری میں شفٹ ہو رہا ہے اس کے علاوہ خشک موسم کے بعد اپریل اور اکتوبر نومبر میں بھی برف گر سکتی ہے لیکن یہ برف گلیشئیرز کو منجمد رہنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکے گی اور یوں گلیشئیرز میں تسلسل سے کمی دیکھنے میں آئے گی اور گلیشئیرز کے مسلسل پگھلنے سے کلاﺅڈ برسٹ، سیلاب، برفانی تودوں ، زمین کے کٹاﺅ اور جنگلات میں آگ لگنے جیسے مسائل سامنے آ تے رہیں گے۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پینے کے پانی میں شدید کمی متوقع ہے،ناقابل اعتبار بارشیں مویشیوں، آبی حیات اور خوراک کو تباہ کر سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ موسمیاتی تبدیلیاں انفراسٹریکچر کو بھی شدید متاثر کریں گی اور شمسی تابکاری اور ہائیڈرولوجی میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں کلائیمٹ چینج اور گلوبل وارمنگ پر بات ہو رہی ہے عالمی سطح پر اس سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کیا جا رہی ہے لیکن اس خطے میں انتہائی خطرناک حد تک ممکنہ نتائج کی پیشن گوئیوں کے باجود پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر حکومت نے اس حوالے سے کوئی قانون سازی کی اور نہ ہی یہ رپورٹ عوامی حلقوں میں زیر بحث آئی۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد 2021 میں عام انتخابات اور 2022 میں بلدیاتی انتخابات ہوئے لیکن اس موضوع پر بات نہیں ہو رہی۔ سال 2022 میں پاکستان میں بھی سیلاب آیا تھا لیکن حالیہ الیکشن میں یہاں بھی موسمیاتی تبدیلیوں پر بات نہیں ہو رہی۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے متعلق مستقل پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ مذکورہ خدشات کو کم کیا جا سکے اور اس میں حکومت کی اولین کردار ادا کر سکتی ہے ۔ گزشتہ ایک دہائی سے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی کی خبروں سے مقامی اخبارات بھرے پڑے ہیں اور اس کٹائی میں مقامی ٹھیکداروں کے ساتھ حکومتی اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں اور درختوں کی کٹائی سے مقامی ماحول میں بے تحاشہ تبدیلیاں آتی ہیں۔ حکومت نے محکمہ زراعت، جنگلات ، ماحولیات اور کئی دوسرے محکمے قائم کر رکھے ہیں لیکن ان کا عملی کردار نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ خدشات پوری شد و مد کے ساتھ وقوع پذیر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اب کی بار دسمبر سے جنوری تک آ گیا لیکن پہاڑوں پر ایک برف باری کے سوا بارش تک نہ ہوئی جس کے باعث کئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم عالمی ہدف سے کئی سو گنا آگے جا رہے ہیں اور سرکاری رپورٹس میں بھیانک خدشات کا ذکر ہو رہے لیکن مقامی حکومت خواب خرگوش کی مانند سو رہی ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کب آنکھیں کھولے گی تاکہ اسے یہ تبدیلیاں نظر آ سکیں اور ان تبدیلیوں میں رکاوٹ کے لئے وہ کوئی عملی اقدامات کرے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے