ڈھاکہ : جنرل اعظم سے بابر اعظم تک

یہ ذِکر ہے دھیان سے پڑھنے کا اور سمجھنے کا۔ کئی دہائیوں پہلے 1953 میں کسی نے لاہور کو بچایا۔ بھلا کیسے؟ "احمدیوں ” کے خلاف تشدد کو قابو کر کے ، جب پاکستان میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا تو وہ نام دوبارہ منظر عام پر آیا ۔ منفرد طرز کے محنتی آدمی تھے۔ اپنی دھن میں مگن پوری لگن سے کراچی میں 1958 میں کورنگی پراجیکٹ کے تحت ہزاروں گھر ہندوستان سے پاکستان کی خاطر سب کچھ وار دینے والے "مہاجرین ” کے لئے بنا ڈالے ۔

آمر ایوب خان نے ان کو گورنر بنا کر مشرقی پاکستان ٹرانسفر کردیا۔ دروغ بر گردن راوی پر ان کی سنیارٹی اور قابلیت سے شائد گھبرا کر، پشاور سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر "متھرا” ایک گاؤں ہے- وہاں جنم لینے والے اور برٹش آرمی سے تربیت یافتہ پاکستان کے یہ پٹھان’ لیفٹننٹ جنرل اعظم خان کے نام سے جانے گئے۔

پاکستان کا (سابقہ ) مشرقی حصّہ بنگال جس کے جادو کا ذکر آپ نے اکثر سنا ہوگا یا پڑھا ہوگا، خود جنرل اعظم کے سحر میں آگیا۔ ان کی گورنری کے عہد میں جس کا دورانیہ (اپریل ١٩٦٠ تا مئی ١٩٦٢ ) مختصر ہے۔ ان فوجی گورنر نے صرف پیار ہی پیار سمیٹا اور حقیقی عزت کمائی۔ انھوں نے اپنے اخلاق ، عوامی مزاج ،انکساری ، عوام دوستی سے بنگالیوں کو، بہاریوں کو ، الغرض مشرقی پاکستان میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کے دل کو فتح کر لیا تھا۔

وقت نامہرباں گیا تو واپس نہیں آسکتا۔ کبھی نہ لوٹ کر جانے کے لئیے باکمال گورنر کو بھی واپس بلا لیا گیا اور وہ بھی ایک ایسے دور میں جب دشمن پاکستان کو توڑنے کی سازش میں مصروف تھا۔ علیحدگی پسند اور تشدد کی طرف مائل بنگالی نوجوانوں کو بڑی مہارت سے یکجا کیا جا رہا تھا۔ اس سمے ان کو واپس مغربی پاکستان بلا لیا گیا۔ جب انھوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور ہمدردی سے ان بنگالی نوجوانوں کو بھی جوائے پاکستان / پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کر دیا، جو زبان کے مسئلے پر روٹھ چکے تھے اور پاکستان کے مراعات یافتہ طبقات سے نفرت بھی کرتے تھے۔

1971 کا سال قہر برسا کر چلا گیا۔ بھائی بھائی میں پھوٹ پڑ گئی۔ پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے والی بہاری کمیونٹی "لبریشن” کے حامی بنگالیوں اور تربیت یافتہ مکتی باہنی کے گروپوں کے ظلم و ستم ،بربریت اور سفاکی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ مال ، گھر ،کاروبار ،جان، امان، عزت اور شاخت سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے چھنتا چلا گیا اور انسانیت بھی اپنی بربادیوں پر پھوٹ پھوٹ کر روئی ہوگی۔ کیا کیا قیامتیں برپا ہوئیں مگر کوتاہ اندیش اس نقصان اور اس کے تباہ کن اور شرمناک نتائج سے بے خبر ہی رہے یا بے خبر رہنے میں ہی بہتری جانی۔

مشرقی پاکستان کا خوں ریزی کے بعد علیحدہ ہوجانا یا سقوط ڈھاکہ ہوجانا ایک معمولی حادثہ سمجھ کر بھلا ہی تو دیا گیا۔ کئی جدی پشتی پاکستانی لبرل اور روشن خیالوں نے فوج کو بدنام کر کے یا پاکستان مخالف بنگالی حکمرانوں اور دانشوروں کی ہمدردی حاصل کرنے کی تگ و دو کر کے ایوارڈ اور شہرت حاصل کر لی۔

بہاری جو پاکستان کی محبّت میں پامال ہو گئے، مسلسل تغافل کا سامنا کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کسی نے نہ سوچا نہ برابر کا پاکستانی جانا اور سب سے ناقابل یقین ستم یہ ہوا کہ تین چار لاکھ بدنصیب غیر بنگالی جن کو بہاری بھی کہا جا تا ہے، پاکستان کی طرف سے آنے والے جہاز کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔

52 سال سے زائد عرصہ ہوگیا ان کو پاکستانی شہریت سے بھی بے محروم کیا گیا اور بنگلہ دیش جس کو پاکستان میں تسلیم کر لیا گیا، نے ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے بے زمین، بے امان لوگوں کی طرح ایک انسانیات سوز قفس میں رکھا ہوا ہے۔ جس کو کیمپ کہنا بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق غلط ہو گا۔ ان پانچ دہائیوں میں بزرگ خاک نشین ہوگئے، نوجوان بزرگ ہوگئے اور بچے بڑے ہوگئے مگر سیاسی اشرافیہ کا تسلط دونوں طرف ہی رہا۔ بے حسی ،سخت دلی اور بدلتی ترجیحات نے کسی کو بھی اس بے بس کمیونٹی کی طرف دیکھنے پر مجبور نہیں کیا۔

پاکستان سے ہر طرح کے حکمران بنگلہ دیش کے سرکاری دورے کرتے رہے اور وہ پاکستانی بہاری کم مائیگی میں بھی پاکستان زندہ باد کہتے رہے، واپس آنے کے لیے گڑگڑاتے رہے، مگر کچھ نا بنا ۔ کسی نے ان سے مذاکرات نا کیے۔

کوئی فیمنسٹ ، ایکٹوسٹ ، سول سوسائیٹی کے نمنائندے، یونیورسٹی کے دلیر پروفیسر یا کوئی اور اہلکار ان کے لیے نا تڑپے نا بلکے نا ہی ” کی بورڈ ” کے سپاہی بنے۔ سقوط ڈھاکہ پر مکمل سکوت ڈھایا گیا ، جو چند آوازیں بہاری کمیونٹی کے لئے ابھری بھی تو ان کی نا شہرت ہے نا مقبولیت۔ بنگلہ دیش اور پاکستان اب ایسے دو ملک ہیں جن کے آپس کے تعلقات بہت دوستانہ نہیں ہیں، بس نباہ کر رہے ہیں۔

سفارت خانے ہیں مگر ویزے کے مسائل بھی ہیں۔ دو ملک ہیں جہاں کی نوجوان نسلوں کو معتبر تاریخ سے بڑی احتیاط سے بے خبر رکھا گیا ہے۔ جس اردو پر رنجش ، دشمنی ، قتل و غارت شروع ہوا وہی اردو بنگالی لہجے میں وہ بھی بولتے ہیں کہ طلسم بالی ووڈ ہوشربا سے فرار کس کو ممکن ہے؟
بات چلی تھی جنرل اعظم کی ، جنرل اعظم جن کے نام پر لاہور کی اعظم کلاتھ مارکیٹ بھی ہے اور ” کھلنا” بنگلہ دیش میں کامرس کالج بھی اس وطن کے دونوں حصّوں سے اتنی محبّت کرتے تھے کہ جب 1975 میں بھٹو نے ان کو بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفیر مقرر کرنا چاہا تو سننے میں آیا ہے کہ انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ جنرل صاحب ایک با وقار زندگی پاکستان میں گزار کر 86 سال کی عمر میں 1994 میں لاہور میں مالک حقیقی سے جا ملے۔

پرانے لاہور میں اکتوبر1994 میں ایک ایسے بچے نے جنم لیا ، جس نے محدود وسائل کے باوجود کرکٹ کے کھیل میں انتھک محنت کی، ان کو آپ اور ہم بابر اعظم کے نام سے جانتے ہیں اور جو آج کل بنگلہ دیش پریمیم لیگ کے میچز میں اپنی عظمت کی دھاک پھر بِٹھا رہے ہیں۔ دور دور سے ان کے بنگلادیشی مداح ڈھاکہ آکر ان کی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور اٹوگراف لینے کے لیے بے تاب بھی ہیں ۔ وہیں کہیں آس پاس محب وطن پاکستانی جن کو محصورین بھی کہتے ہیں اب تک پاکستان زندہ باد ہی کہتے ہیں اور اپنے آنسو چھپا لیتے ہوں گے۔

سچی محبّت بڑی ظالم ہوتی ہے، ایک بار ہوجائے تو ختم نہیں ہوتی ۔ اس بہاری کمیونٹی نے کبھی بھی پاکستان کی توہین نہیں کی نہیں، جھنڈا نہیں جلایا۔ اس کے باوجود کے پاکستان کسی بھی وجہہ سے ان کو اب تک واپس نہیں لا سکا۔

اور آفریں ہے ہمارے فارن آفس یا بے باک میڈیا پر جس نے آج تک یہ نہیں سمجھا کہ ان بے بس لوگوں کا جو کباڑا ہوا ہے اس کا درد نہ بھی ہو تو یہ تو سوچ لیں کہ اس طرح کی بستیاں ملک کے خلاف ایک جیتی جاگتی لائیو جگ ہنسائی ہے۔

میں نے گھر میں بچپن سے 1958 کے لکشمی پور کے ہیرو میجر طفیل نشان حیدر کا ذکر سنا، پھر میں تمام نشان حیدر کا اعزاز پانے والوں کے بارے میں معلومات جمع کرتی گئی مجھے اب تک دکھ ہے کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے ہللی کے ہیرو 1971 کے شہید نشان حیدر میجر اکرم بالدور دناج پور بنگلہ دیش میں اب تک مدفون ہیں۔ پاکستان فارن آفس یا دیگر ادارے شائد کبھی غور کر لیں اور ان کے جسد خاکی کو پاکستان لا سکیں۔

ذکر کا آغاز کیا تھا کہاں سے کیا تھا اور بات سے بات کہاں آ گئی؟ سیاست کی حقیقتیں بھیانک ہوتی ہیں اور اقتدار کی بھوک انمنٹ، پھر بھی میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے اور انسانیت پرست خواب زندہ رکھنے کی قائل ہوں۔ مجھے زندگی نے بھی یہی سمجھایا کہ جنگ میں کوئی نہیں جیتا، انسانیت ہار جاتی ہے۔ محبّت ہر زخم مندمل کر سکتی ہے اگر بے لوث ہو تو۔۔۔ ہم ماضی کو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن اس سے سیکھ سکتے ہیں۔ تجدید وفا کا امکان ممکن بنایا جا سکتا ہے، نیا عہد وفا لکھا جا سکتا ہے، محبت بھی شجاعت ہے۔ ہم بھلا دیا جانے والے پاکستانیوں کو اپنا سکتے ہیں۔ اخوت اور شمولیت سے بھی سفارت کاری ہو سکتی ہے۔

بنگالیوں سے جنرل بابر اور کرکٹر بابر اعظم کے نام کی نئی دوستی استوار کر سکتے ہیں تا کہ عالمی سطح پر ہمیں کم از کم ان کی طرف سے ضرب لگنے اور اپنی ساکھ خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

اَہلِ بِینِش کو ہے، طُوفانِ حَوادِث، مَکتَب

لَطمَۂ مَوج، کم از، سِیلئِ اُستاد نہیں

( غالب )

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے