ضلع بونیر سے الیکشن میں حصہ لینے والی ہندو خاتون ڈاکٹر سویرا پرکاش کون ہے؟

کئی دنوں سے سوشل میڈیا، مین سٹیریم میڈیا اور خاص کر انٹرنیشنل میڈیا پر ڈاکٹر سویرا پرکاش جو (کے پی کے) 25 سے جنرل الیکشن کی امیدوار ہیں، کا چرچا ہے۔ ہر صحافی اس کا انٹرویو کرنا چاہتا ہے اور بہت سارے لکھاری ان پر سٹوریز بھی لکھ رہے ہیں۔

ایک بندہ خاموش بیٹھا تماشائی بنا ہوا ہے اور سوچ رہا ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں اور ضلع بونیر جیسے قدامت پسند اور پسماندہ ضلع سے ایک، ایک خاتون ہندو کا جنرل الیکشن میں حصہ لینا کتنا مشکل کام ہے اور وہ بھی وہاں جہاں کی ثقافت عورت کو گھر کے باہر، عورت ہی تصور نہیں کرتی ، ہاں اگر کسی خاندان کی عورت گھر سے باہر گھومتی ہے‌ تو یہ معاشرہ اس پر اور اس خاندان کے مردوں کو شرمسار کرتی ہے اور یہاں تک کہ اس کے خاندان کے ساتھ سوشل بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔

لمبی سوچ بچار کے بعد بندہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ سویرا پرکاش کا باہر نکلنا اور بے جا ثقافتی اقدار کو روندنا، اصل میں صرف سویرا پرکاش کا ہی کردار نہیں بلکہ اس کے پیچھے سویرا پرکاش کے محترم والد ڈاکٹر اوم پر کاش کا کردار بھی بہت اہم ہے‌ کہ انہوں نےخواتین کی ترقی کے حوالے سے لوگوں کے پیدا کیے ہوئے جبر کی بندشوں کو توڑ ڈالا۔ انہوں نے لوگوں کی باتوں کی پروا کیے بغیر سیاست کے ناہموار میدان میں اپنی بیٹی کو حصہ لینے کے لیے راہ ہموار کی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سویرا پرکاش نے بتایا کہ میں نے ساری عمر بونیر کے غیور عوام کی خدمت کی ہے اور مجھے سرے سے بھی یہ تمنا نہیں تھی کہ بونیر کے لوگ میری بیٹی یعنی دوسری کلاس کو قبول کریں گے۔ لوگوں کے مثبت رویوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنی جیت کے لیے پُرامید اور مطمئن ہوں۔

ڈاکٹر اوم پرکاش نے بتایا کہ پہلے جب ہمارا مشورہ ہوا کہ ڈاکٹر سویرا کو جنرل سیٹ پر کھڑا کرنا ہے، تو میرے پاکستان پیپلز پارٹی کے دوستوں نے بہت سمجھایا کہ مردوں کے معاشرے میں عورت کو لانا بہت مشکل کام ہے۔

اگرچہ میرا تعلق ہندو مذہب سے ہے لیکن میری پرورش پختون ولی میں ہو چکی ہے۔ جتنی عورت کی عزت و ابرو دوسرے پشتونوں کے لیے عزیز ہے۔ اس سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔ لیکن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ آخر کسی نے تو آگے آنا ہے اور اس غلط معاشرتی سوچ کو بدلنا ہے، تو کیوں نہ میں اپنے آپ سے شروع کروں۔ اس مقصد کو لیتے ہوئے میں نے ڈاکٹر سویرا پرکاش کا جنرل الیکشن میں مقابلے کے لیے نام نامزد کر دیا اور کاغذات نامزدگی جمع کروادیں۔

جس دن سے سویرا پرکاش پبلک میں آئی ہے اور اس کو بونیر کے عوام کی طرف سے جو پذیرائی مل رہی ہے، میں حیران ہوں کہ کیسے بونیر کی عوام کا شکریہ ادا کروں۔ کیونکہ آج تک میں نے ایسا کوئی بھی کمنٹ یا کوئی تقریر نہیں سنی جو کہ سویرا کے عورت ہونے یا ان کے ہندو ہونے پر ان کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ بلکہ مخالفین نے بھی ڈاکٹر سویرا کے اس کے اقدام پر سراہا ہے۔

میں سمجھ رہا ہوں کہ سارے پاکستان میں بونیر امن کا ایک گہوارہ ہے اور سیاسی دنگل میں ایک مثالی حلقہ کے طور پر سامنے آ رہاہے۔ جہاں ایک اقلیت کو اتنی عزت ملتی ہے کہ زبان اس عزت کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ دل بونیریوں کی کشادہ دلی، تنوع، پیار و محبت اور سپورٹ کا مقروض ہے اور رہے گا۔

ڈاکٹر اوم پرکاش نے شلبانڈی ہاؤس میں اپنی بیٹی کا استقبال کیا۔ ناظم یوسف علی صاحب نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر سویرا کو اپنی بیٹی، بہن اور بچی قرار دے دیا اور پھر پختونوں کی روایات کے مطابق اپنی بہن کو چادر اور کپڑے دینے کا فریضہ پورا کیا۔ اپنی بیٹی کے لیے محبت و احترام کے اس لمحے کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اوم پرکاش کی آنکھیں نم ہوئیں اور کہنے لگے کہ میں سمجھ رہا ہوں کہ پورا بونیر میرا اہل خانہ ہے اور ہم سب ایک ہیں۔

ڈاکٹر اوم پرکاش پچھلے کئی دہائیوں سے بونیر کی عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ رحمان بونیری کے مطابق چونکہ بونیر کا علاقہ پہاڑی ہے۔ جب ان پہاڑیوں سے لوگ نیچے علاج کے لیے آتے ہیں اور ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ تو ڈاکٹر پر کاش ان کی فری علاج کرتے ہیں۔ ان کے کھانے کا بندوبست بھی کرتے ہیں اور ان کو اپنے گھر تک پہنچنے کا کرایہ بھی ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ لوگ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جب بونیر میں تیل کی قلت ہوئی اور کسی بھی سٹیشن پر تیل نہیں ملا کرتا تھا۔ صرف پرکاش ایل پمپ چینہ کے پمپ پر تیل ملتا تھا اور وہ بھی اس کے اصل ریٹ پر۔ اگر وہ تیل کو مہنگا بیچتے، پھر بھی لوگ اسے خریدتے۔ لیکن آپ نے لالچ نہیں کی اور حق پرستی کا حق پورا کرکے دکھایا۔

یہ ایک خدا ترس، امن پسند اور مساوات پر یقین رکھنے والے بندے کی کہانی ہے۔ جس نے اخلاقی اصولوں پر محض باتیں نہیں کی بلکہ اپنے کردار کے ذریعے لوگوں کو کر کے دکھایا کہ اگر مردانگی یعنی مرد ہونا ایک کلاس ہے اور جس میں انصاف نہیں ہو رہا۔ تو میں ایسی کلاس کو نہیں مانتا اور اپنی بیٹی یعنی دوسری کلاس کو میدان میں اترنے میں راہ ہموار کی۔

اسی طرح غریبوں کا مفت علاج خود کر کے دکھایا‌، جہاں لوگوں نے تیل کی قلت اور بحران کے وقت اسے ذخیرہ کر کے اس کی قیمت بڑھا کر بیچنا شروع کیا۔ وہاں انہوں نے اپنے پیٹرول پمپ پر لوگوں کو تیل دے کر بتایا کہ نہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ جہاں غریب عوام کو دوا، علاج ، کھانے اور کرایہ کی ضرورت پڑی، وہاں انہوں نے خود کر کے مثال قائم کی۔ ان کے کلینک پر یتیم اور مدرسے کے غریب طلبہ کا علاج فری کا بینر آج بھی لگا ہوا ہے۔

سویرا پرکاش، ایک نوجوان، باہمت خاتون ہے۔ ابھی ابھی میڈیکل کی تعلیم مکمل کر چکی ہے اور سیاست میں بھی قدم رکھ لیا ہے‌۔ جس کے والد بھی خدمت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزار چکے ہیں۔ ان کی اولاد سے مٹی اور اپنی عوام کی خدمت کی توقع ہی رکھی جا سکتی ہے۔ سویرا پرکاش کی عوام دوست سیاست کے لیے بونیر کی عوم بہت پُرامید اور پُرجوش ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے