ایودھیا سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں

ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب دیکھنے کے بعد یوں لگتا ہے جیسےایودھیا کے بعد کا ہندوستان وہ نہیں رہے گا جو پہلے تھا، گو کہ پہلے بھی وہاں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہی تھی مگر اب شاید حالات بدتر ہوجائیں گے۔ ایسا کیوں ہوگا، یہ جاننے کیلئے ہمیں کچھ سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے۔ مثلاً، کیا رام مندر کا افتتاح کرکےمودی نے درحقیقت دو قومی نظریے کا جشن منایا؟ کیا ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان میں جی رہے ہیں اور آر ایس ایس کے ہندو انتہا پسندوں کے شر سے محفوظ ہیں؟ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو کیا آج کے انڈیا میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی صورتحال مختلف ہوتی ؟کیا جناح درست اور ابوالکلام غلط تھے؟ یہ اور اِس طرح کے دیگر سوالات دراصل تاریخ کے سوالات ہیں جنہیں ترازو میں تول کر نہیں بتایا جا سکتا کہ زیادہ وزن کس پلڑے میں ہے۔ لیکن چلیے تول کر دیکھتے ہیں۔

پہلا منظر وہ ہے جس میں ہم آج زندہ ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستانی مسلمان شکر کا کلمہ پڑھ سکتے ہیں کہ یہاں کوئی آر ایس ایس نہیں، کوئی موہن بھگوت نہیں، کوئی رام مندر نہیں۔ جو بات ہمیں آج پتا چل رہی ہے وہ قائد اعظم نے سو سال پہلے ہی بھانپ لی تھی، ہندو اور مسلمان اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے تھے، ہمارے ہیرو اُن کے ولن تھے اور اُن کے ولن ہمارے ہیرو، رام مندر کا افتتاح اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلمان اگر اپنا علیحدہ ملک نہ بناتے تو آج لاہور میں اُن کی دکانیں اور کاروبار اسی طرح مسمار کیے جاتے جیسے رام مندر کے افتتاح کے بعد ہندوؤں نے اگلے روز ممبئی میں کیں۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بے شک تیس یا پینتیس فیصد ہوتی مگر اُس آبادی کا وہی حال ہوتا جو آج غزہ میں فلسطینیوں کا ہو رہا ہے،لیکن ہم غزہ کیوں جائیں، یو پی چلتے ہیںجہاں مسلمان بیس فیصد ہیں اور کہیں کہیں یہ تناسب چالیس فیصد تک بھی چلا جاتا ہے،لیکن اُسی یوپی میں رام مندر کا افتتاح ہوا اور اسی یو پی کا وزیر اعلیٰ ایک انتہاپسندہندویوگی آدھتیاناتھ ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا وہ حال نہ ہوتا جو موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ہے، انہیں دراصل یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اُس صورت میں بھی ہندوستانی حکومت، بیورو کریسی، عدالتیں، تھانے اور کاروبار، سب کچھ ہندوؤں کے قبضے میں ہی ہوتا اور اِس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا کہ کس صوبے یا علاقے میں مسلمانوں کی حکومت ہے، ہندو جہاں چاہتے گورنر راج نافذ کر کے حکومت پر قبضہ کر لیتے، ثبوت کیلئےملاحظہ ہو مقبوضہ کشمیر، جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہے، مگر حال فلسطین جیسا ہے۔

دوسرا منظر وہ ہے جس میں ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ مسلمان متحدہ ہندوستان میں ہی رہتے۔ اُس صورت میں نہ دس لاکھ بے گناہ افراد جان سے جاتے اور نہ کروڑوں لوگ گھر سے بے گھر ہوتے۔ متحدہ پنجاب اور بنگال کے ساتھ ساتھ تمام پاکستانی علاقوں میں مسلمانوں کی حکومتیں ہوتیں جہاں مسلمان ،موجودہ ہندوستان کے برعکس، جنونی ہندوؤں کے رحم و کرم پر نہ ہوتے ۔متحدہ ہندوستان میں بی جے پی کو وہ پذیرائی نہ ملتی جو آج مل رہی ہے کیونکہ پھر بی جے پی کے پاس یہ نظریہ نہ ہوتاکہ اگر مسلمانوں نے ہندوستان میں رہنا ہے تو انہیں جے شری رام کا نعرہ لگانا پڑے گا ورنہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ ہندوستان کی تقسیم کے باوجود کانگریس پچاس ساٹھ برس تک انڈیا کی سیاست پر چھائی رہی توذرا سوچیں کہ اگر تقسیم نہ ہوتی تو اُس صورت میں بی جے پی کہاں ہوتی؟ اُس صورت میں نہ کوئی نریندر مودی ہوتا اور نہ کوئی رام مندر بنتا۔ ہندوستان کی صوبائی حکومتیں اور چھوٹی بڑی ریاستیں اسی طرح ہندوستان کا حصہ ہوتیں جیسے آج یورپی یونین ہے اور وہاں ہندوؤں کی اکثریت بھی مسلمانوں کے حقوق سلب نہ کر سکتی۔ آج جب ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پاکستان بن گیا اور ہم اسلامی عقائد اور شعائر کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکتے ہیں تو دراصل اِس شکرانے کی آڑ میں ہم ہندوستانی مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں جو اپنی مجبوریوں کے باعث پاکستان نقل مکانی نہیں کر سکے/ سکتے اور اُس کے ساتھ ہی ہم نریندر مودی کو بھی یہ جواز فراہم کرتے ہیں کہ وہ ہندو اکثریت والے انڈیا کو ہندوؤں کی روایات اور اقدار کے مطابق تبدیل کرنے کا حق رکھتا ہے اور اسی حق کا استعمال کرتے ہوئے اُس نے رام مندر کا افتتاح کیا ہے۔ تو پھر اب اُس پر غصہ کیسا، مودی انڈیا میں ہندوؤں کے لیے وہی کچھ کر رہا ہے جو آج ہم پاکستان میں مسلمانوں کیلئے جائز سمجھتے ہیں۔

یہ دونوں منظر نامے بلیک اینڈ وہائٹ میں نہ صحیح ہیں اور نہ ہی غلط۔ تاریخ کے سوالات ریاضی کی طرح نہیں ہوتے جن کا جواب دو جمع دو چار کی صورت میں دیا جا سکے۔آج کی تاریخ میں پاکستان قائم و دائم ہےاور ہماری نسل کے لوگ جو اِس پاکستان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، اِس بات کا ادراک نہیں کرسکتے کہ متحدہ ہندوستان کیسا ہوتا۔ دراصل ہمارے دل میں یہ وسوسے اُن ناکامیوں کی وجہ سے آتے ہیں جو پاکستانی ریاست کے حصے میں آئیں جبکہ دوسری طرف بی جے پی کی معاشی ترقی نے ہندو انتہا پسند حکومت کے تمام عیب چھپا لیے۔ایسی صورتحال میں پاکستانی ریاست ،معاشرے اور عوام پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے رویوں میں رواداری پیدا کریں، مودی کے انڈیا پر ہمارا الزام یہی ہے کہ وہ سیکولر نہیں رہا، تو یہ الزام ہم اپنے اوپر کیوں آنے دیں؟ پاکستانی ریاست کیلئے سیکولر ہونا ہم نے گالی بنا دیا ہے، جبکہ سیکولر ہونے کا سیدھا سا مطلب سوائے اِس کے اور کچھ نہیں جو قائد اعظم نے 11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ہم نہ ہندوستان کا جغرافیہ تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ تاریخ، البتہ ہم اپنی سمت ضرورت درست کر سکتے ہیں، یہ سمت نظریاتی طور پر قائد کے 11اگست کے فرمان کے مطابق ہونی چاہئے، اور رہی بات معاشی ترقی کی تو آپ اِس ملک کو پانچ سے دس سال کی مستحکم پالیسیاں دے دیں، معاشی ترقی خود بخود ہو جائے گی۔ انڈیا اور بنگلہ دیش نےبھی یہی کیا، وہاں کی ترقی بھی پرانی مستحکم پالیسیوں کا نتیجہ ہےورنہ نریندر مودی اور حسینہ واجد کے پاس ایسی کوئی گیدڑ سنگھی نہیں جو ہمارے پاس نہیں ۔جس دن ہمارے معاشی دلدر دور ہو گئے، ہمارا نظریہ اُس روز سر چڑھ کر بولے گا۔

بشکتیہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے