پُرعزم ہیرو جس نے سوات آپریشن کے بعد دُکھ، تکلیف اور صدمے کو اپنی قوت بنایا

وہ بہت عجیب لمحات تھے ، ہر طرف افرا تفری مچی تھی ۔ کسی کو کسی کی کوئی خبر نہ تھی ۔ اعلی حکام کی طرف سے ہدایات تھی کہ سوات میں آپریشن شروع ہونے کو ہے ، جتنا جلدی ہوسکے محفوظ مقامات کی طرف نکل جائیں۔ پہلے پہل تو کوئی تیار ہی نہیں تھا نکلنے کو۔ کوئی اپنی جنم بھومی کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ؟ جس جگہ آپ کا بچپن گزرا ہو ، جہاں آپ پلے بڑھے ہوں ، کھیلے کودے ہوں ، جہاں پر ہر طرف آپ کی یادیں بکھری ہوں، یار بیلی ہوں، رشتے دار ہوں ، گھر ہو ، ان سب کو ایک آن میں چھوڑ دینا آسان ہوتا ہے کیا؟ لیکن کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے ۔

دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہوچکا تھا ، ہر طرف گولیاں برس رہی تھیں۔ آگ اور خون کا کھیل جاری تھا ۔ کسی بھی وقت کوئی بھٹکی گولی آ سکتی تھی اور زندگی کی ڈور کاٹ سکتی تھی ۔ ایسے حالات میں نکل جانا ہی بہتر تھا۔ سو ہم بھی نکلے ۔ جو تھوڑا بہت سامان ساتھ لے جاسکتے تھے ، اٹھا لیا باقی وہیں پڑا رہ گیا۔ اس دوران ایک عجیب بات ہوئی۔ والد صاحب نے چلنے سے یکسر انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ آپ جائیں میں بعد میں آجاؤں گا ۔ہم نے بہت سمجھایا ان کو ، ان کی منت سماجت کی کہ یہاں پر رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ہر طرف گولیاں برس رہی ہیں۔ لیکن وہ نہ مانے اور اپنا گھر بار چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔ مجبوراً مجھے اپنے خاندان کو لے کر پشاور آنا پڑا۔ والد صاحب اور کچھ دیگر رشتہ دار وہاں پر رہ گئے۔

پشاور آکر میں نے یتیم بچوں کے لیے قائم ایک ادارے جو دراصل سوات کا ہی ادارہ تھا، اس کا نام "خپل کور فاؤنڈیشن” ہے، اس میں بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ میرا جسم تو یہاں پشاور میں تھا لیکن میرا دل سوات میں اٹکا تھا۔ سوات جسے چھوٹا سوئٹزر لینڈ کہا جاتا ہے، جہاں پر میٹھے پانی کے چشمے ہیں ، جہاں پر بلند و بالا اور سرسبز پہاڑ ہیں ، جہاں پر ہری بھری چراگاہیں ہیں، جہاں کے لوگ جفا کش ہیں، جہاں ہر طرف سبزہ پھیلا ہوا ہے ۔وہاں پر آگ اور خون کا کھیل جاری ہو گیا تھا ۔

ایک دن ایک ناگہانی خبر ہم پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی۔ خبر آئی کہ میرے والد شہید ہو گئے ہیں۔ کہیں سے کوئی بھٹکتی ہوئی گولی آگئی تھی اور ان کی زندگی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ ہماری دنیا اندھیر ہو گئی تھی۔ ہم یہاں پشاور میں تھے، راستے بند تھے، نہ کوئی سوات سے نکل سکتا تھا اور نہ وہاں جا سکتا تھا۔ ہم یہاں تڑپ رہے تھے، اپنے والد کے پاس جانا چاہتے تھے لیکن نہیں جا سکتے تھے۔ وہ لمحے قیامت کے لمحے تھے ۔ ان لمحوں کا درد صرف وہ لوگ جان سکتے ہیں جو خود اس صورتحال سے گزر چکے ہوتے ہیں ۔

میں نے کتنی مشکل سے اپنے بہن بھائیوں کو سنبھالا، یہ صرف میں جانتا ہوں اور میرا خدا جانتا ہے۔ بہرحال یہ حسرت دل میں رہ گئی کہ اپنے والد کے جنازے کو کندھا دے سکوں۔ ان کے چہرے کا دیدار کیے بغیر وہ رخصت ہو گئے اور منوں مٹی تلے سو گئے۔ بہت عرصہ تک تو ہمیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ بہت عرصہ ہمیں خود کو سمیٹنے میں لگا۔ بہرحال ہمیں جینا تھا اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیے اس لیے رفتہ رفتہ پھر زندگی کی طرف واپس آنا شروع کیا۔”

یہ الفاظ تھے سوات سے تعلق رکھنے والے محترم فضل خالق کے ۔ 2008 میں جب سوات میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو وہ وہاں بذاتِ خود موجود تھے ۔ آپریشن اور اس سے پہلے کے حالات کا انہوں نے بغور مشاہدہ کیا تھا بلکہ اس سے متاثر بھی ہوئے تھے ۔

مجھے بچپن ہی سے لکھنے لکھانے کا شوق تھا ۔ سکول کے زمانے سے ہی میں مختلف اخبارات و رسائل کو اپنی تحریریں بھیجا کرتا ۔ یہ تحریریں اردو اور انگریزی زبانوں میں ہوتی۔ باقاعدہ آغاز 2007 میں مقامی اور ملکی اخبارات میں لکھنے سے کیا۔ 2010 میں Express Tribune جیسے مؤقر ادارے کے ساتھ کام شروع کیا۔ 2015 میں Dawn اخبار میں لکھنا شروع کیا اور یوں میں اپنے لکھنے کی تشنگی بجھاتا رہا۔

فضل خالق صاحب نے انگریزی ادب اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کیا ہے۔ اس کے علاؤہ انہوں نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کیا ہے اور آج کل پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان کو لکھنے لکھانے کا شوق ہے ۔ مذکورہ اخبارات کے علاؤہ آپ کئی بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں کے لئے بھی لکھ رہے ہیں۔ اسی لکھنے لکھانے کے شوق کی بدولت آپ دنیا کے کئی ممالک کا سفر کرچکے ہیں۔

"میں اپنے لکھنے لکھانے کے شوق کے سبب تقریباً آدھی دنیا گھوم چکا ہوں ، جن میں امریکہ ، جاپان ، سنگاپور ، مشرق وسطی کے ممالک ، یورپی ممالک ، نیپال اور سری لنکا وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف ممالک کی یونیورسٹیوں میں لیکچرز کے لئے مدعو کیا جاچکا ہوں ۔ اس کے علاؤہ کئی ممالک میں مختلف ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکت کے لئے سفر کر چکا ہوں۔ ”

فضل خالق اب تک 9 کتابیں لکھ چکے ہیں جو اردو اور انگریزی زبان میں ہیں۔ گندھارا تہذیب پر ان کی کتابUddiyana the Fogotton Holy Land of Swatہے ۔ یہی کتاب اردو زبان میں بھی لکھی گئی ہے، جس میں ریاست سوات میں بکھری ہوئی گندھارا تہذیب کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاؤہ ان کی کتاب Barbarism in Disguise of Patriotismنام سے ہے، جس میں سوات آپریشن کے اختتام کے بعد کے حالات کا ذکر ہے ۔ آئی ڈی پیز کی واپسی اور واپس جانے کے بعد ان کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کا ذکر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔

"سوات میں جب حالات خراب ہونا شروع ہوئے ، اس وقت میں دبئی میں جاب کر رہا تھا ۔ میں وہاں پر ایک بہت ہی اچھی پوسٹ پر تعینات تھا ۔ اس کے باوجود اپنی جنت نظیر وادی سوات میں آگ و خون کا کھیل شروع ہوتے دیکھا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس آگیا ۔ پہلے پہل تو ہم نے اس آگ کو ٹھنڈا ہونے کی اپنی سی کوشش کی ۔ کچھ ہم خیال دوستوں نے مل کر اس بدامنی کے خلاف جد وجہد کی ۔ لیکن ہماری کوششیں زیادہ بار آور ثابت نہ ہوسکیں اور سوات میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔

بالآخر فوجی آپریشن شروع ہوگیا اور عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف نکلنا پڑا ۔ وہ ہماری زندگی کے بہت ہی مشکل دن تھے ۔ ہم اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوگئے تھے ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے ٹھنڈی چھاؤں سے اچانک کڑی دھوپ میں کھڑا کردیا ہے۔ ہماری وہ خوبصورت وادی ، وہ جنت کا ٹکڑا ہماری آنکھوں کے سامنے جل رہا تھا لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے ۔ اس دوران ہم اپنے بہت سے پیاروں کو بھی کھو بیٹھے جن میں میرے والد بھی شامل ہیں اور ستم یہ کہ ان کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے ۔ یہ خلا میری زندگی میں کبھی پر نہ ہوسکے گا ۔ یہ زخم آج بھی رس رہا ہے اور مجھے چین نہیں لینے دے رہا۔ ” فضل خالق کو اس صدمے سے نکلنا تھا، اپنے بہن بھائیوں کے لیے اور اپنی مٹی کے لئے اس لیئے وہ یہ سب کچھ برداشت کر گیا اور جی جان سے اپنے وطن کی خدمت میں جت گیا۔

"واپس آکر ہم نے” کلائمیٹ چینج ” پر کام شروع کیا ۔ سوات میں جو فلورا اور فانا کی بربادی ہورہی ہے، اس کے خلاف ہم کام کر رہے ہیں اور سوات کے قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی سعی کر رہے ہیں ۔ ”

فضل خالق پانچ پار آگاہی ایوارڈ (2012 تا 2016) جیت چکے ہیں۔ 2017 اور 2021 میں وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے دیا گیا "پرعزم” ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ جبکہ 2021 میں Express Tribune کی طرف سے دیا گیا ایوارڈ جیت چکے ہیں ۔

اس کے علاؤہ وہ 2018 میں ایک سالہ امریکی فیلوشپ پروگرام حاصل کرچکے ہیں۔ 2017 میں جاپان سے ایشیا لیڈرز فیلوشپ پروگرام میں شرکت کرچکے ہیں۔ 2014 میں سنگاپور میں ایشین جرنلزم فیلوشپ میں شرکت کر چکے ہیں۔ اس کے علاؤہ مختلف اداروں کے ساتھ بطور ماسٹر ٹرینر کام کر رہے ہیں۔

فضل خالق صاحب اس عظیم سانحے سے گزرنے کے باوجود بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں اور اسی جوش و جذبے کے ساتھ اپنے ملک اور اپنے وطن کی خدمت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے حالات سے دل برداشتہ ہوکر کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا بلکہ اپنے قلم کو اپنی طاقت بناکر اپنے ہم وطنوں کی خدمت میں جت گئے اور اپنے علاقے کا روشن چہرہ پوری دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کرنے لگے۔ یہ قوم کے Unsung Heroes ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے یہ دنیا آباد ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے