ذکر زین العابدین کا : تم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنو

ایک عرض تمنا ہے وہ آپ کی خدمات میں پیش ہے۔ اس تحریر کو تاریخ ، سیاست ، نفسیات، آرٹ اور آزادی کی تحریکوں کے ہر ایماندار اور باشعور طالب علم کو پڑھنا چاہیے ۔ اگر آپ پاکستان سے محبّت کرتے ہیں اور انسانی حقوق کی طرفداری بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ کو لبرل حلقوں اور میڈیا کے ساتھ بھی منسلک گردانتے ہیں تو میری مودبانہ استدعا ہے کہ آپ پر لازم ہے کہ آپ یہ الفاظ غور سے پڑھیں اور سمجھنے کی شعوری کوشس کریں۔

شائد عنوان دیکھ کر کئی ذہنوں نے سوال کیا ہو کہ کون ہیں یہ ؟ یا جن کو نام سے کچھ یاد آرہا ہو، وہ سوچ میں پڑ گئے ہوں کہ کون سے والے ؟ زین العابدین ایک ایسا نام ہے جو ہمارے خطّے میں بہت معروف ہے لیکن بنگال کے مسلمانوں میں یہ نام بہت عام ہے۔ آج میں آپ کو اس نام سے شناخت حاصل کرنے والی تین مختلف شخصیات سے ملواؤں گی۔ ان کے درمیان کیا قدر مشترک ہے اور کیا فرق ہے وہ آپ خود ہی اخذ کر لیں گے۔

زین العابدین ایک قدآور مصور، بنگلہ زبان کی تحریک کے کارکن اور پاکستان سے علیحدہ ہونے کے لیے آج کے بنگلہ دیش میں ایک مجاہد آزادی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

یہ دسمبر 1914 میں اسی میمن سنگھ میں پیدا ہوئے، جہاں متحدہ پاکستان کے حق میں بہاری قوم کا قتل عام ہوا اور اس محب وطن کمیونٹی کی عورتوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر انڈیا کے تربیت یافتہ بنگالی نوجوانوں نے بطور مکتی ، باہنی، جنسی وحشت اور بربریت کا نشانہ بنایا۔

میں آج بھی انسانی نفسیات کے اس پہلو سے پریشان اور خوفزدہ ہو جاتی ہوں۔ فوجوں کو تو ہر طرح کے ہتھیار سے "کھیلنے” کی تربیت دی جاتی ہے، ( جس میں جنگی جرائم بھی شامل ہیں اور کسی طور بھی جائز نہیں لیکن جنگ تو خود ایک جرم ہے ؟ شائد اس پر بات کسی اور بلاگ یا کلام میں کی جائے)۔ حقوق کی سلبی اور محرومی کا احساس ایک آرٹسٹ ایک ایسے آرٹسٹ کو جس نے بنگال کے قحط پر اور انسانی المیوں پر شاندار پینٹنگز بنائی ہوں، کو بھی نفرت کی آگ کی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس عظیم آرٹسٹ مگر پاکستان کو توڑنے والوں کا ساتھ دینے والے فرد کی زندگی سے میں نے یہی جانا۔

کاش سنجیدہ ، عظیم اور طاقتور افراد اور ادارے اس اہم سمت میں بھی گہرائی سے سوچیں کہ وہ کون سے محرکات ہوتے ہیں جو ایک آرٹسٹ کو بھی تشدد پسند یا شدت پسند بنادیتے ہیں اور ان کا سدباب کس طریقے سے کرنا چاہئیے ؟

زین العابدین

ان کا پورا نام محمد زین العابدین ہے۔ ببانگ دہل اپنے آپ کو پاکستان توڑنے والے بنگلادیشی مسلمانوں میں شامل کرتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی اور محقق کہلاتے ہیں اور انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق امریکا میں مقیم ہیں اور امریکی شہری بھی ہیں ۔ RAW اور بنگلہ دیش کے عنوان کے تحت ان کی ایک انگریزی کتاب بھی ہے۔1971 میں بحیثیت سٹوڈنٹ لیڈر سابقہ مشرقی پاکستان سے انڈیا گئے اور مکتی باہنی بن کر واپس آگئے۔

مکتی باہنی کون تھے کیا تھے اور انہوں نے کیا کیا ؟

نہتے شہریوں جن کی زیادہ تعداد بہاریوں پر مشتمل تھی( گو کہ ان میں جناح کے پاکستان سے محبّت کرنے والے دوسری مسلمان قومیتوں ،لسانی گروہوں خاص کر محب پاکستان بنگالیوں کی تعداد بھی تھی) پر وہ وہ ظلم ڈھایا گیا کہ سوچ کر بھی روح کانپ اٹھتی ہے لیکن ظلم کی تشریح کرنے والے پاکستان کے وہ دانشور اور غیر سرکاری تھنک ٹینک جو انسانی حققوق اور فمنسم کی آڑ میں وطن کو بدنام کرنے اور مشکلات میں دھکیلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس حوالے سے گنگ ہیں ۔

محمد زین العابدین گزشتہ کئی سالوں سے ایسے خیالات کا پرچار کر رہے ہیں، جس میں انڈیا کی علاقائی بالادستی سے انکی بیزاری اور پریشانی جھلکتی ہے گویا وہ اپنے بنگلہ دیش کے داغ داغ اجالے سے دکھی ہیں۔ مکتی باہنی کی لغت کے حساب سے اپنی اور اپنے جیسوں کی "محنت "، "قربانی” اور "عداوت ” پر مبنی انسانیت سوز مظالم کے رائیگاں ہونے پر حیران اور دل شکستہ ہیں۔ کاش یہ صاحب شرمسار بھی ہوتے۔ کاش وہ یہ بھی سوچتے کہ اشرافیہ کے معمولات اور طرز حکمرانی سے ناراض ہوکر انھوں نے عام انسانوں پر کیا ستم ڈھایا ؟ ان کی نسلیں تباہ کردیں ، ان کو اس طرح برباد کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن ہم ان کو کچھ ایسا سوچنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔

البتہ پاکستان کی لیے یہ سوچنا ناقابل گزیر ہے کہ اس کے نوجوانوں کو جو اس کی آبادی کا سب سے بڑا حصّہ ہیں کوئی دشمن بھڑکانے کی طاقت اور تاثیر تو نہیں رکھتا ؟ کہیں ایسا ہو تو نہیں رہا ؟ کہیں پر مظلوم ، معتوب ، محکوم اور مجبور نوجوان کسی بہکاوے ، دھونس یا ترغیبات کا نشانہ تو نہیں بن رہے ؟ کیا ان کو استعمال کر کے ملی سلامتی کوناقابل تلافی نقصان تو نہیں پہنچ رہا ؟

زین العابدین

پاکستان کے مشرقی پاکستان میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ تھے۔ بقلم ایک بہادر بہاری مصنفہ اور مصورہ محترمہ شبانہ نوید "جن کا ایک تعارف اردو کے ایک بہت اچھے شاعر ناشاد نوری کی دختر ہونا بھی ہے” ۔ زین العابدین بہترین و اعلی افسانہ نگار تھے ۔ ہندو پاک ادبی حلقوں میں اچھی پزیرائی تھی۔ چونکہ بنگلہ دیش میں رہ گئے اس لئے ان جیسوں کی ادبی خدمات ابھر کر سامنے نہیں آئی ، دوسرے یہ لوگ درویش صفت بھی تھے۔ ایک افسانوں کا مجموعہ تک نہیں آیا۔

کاش کوئی پاکستانی ادب ، فلم ، صحافت ، ابلاغ عامہ کے روشن ستارے کچھ وقت اس زین العابدین جن کو زینو یا زینو بھائی بھی کہا جاتا تھا، کے لیے نکال لیتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔ شائد ہماری درس گاہوں کے اساتذہ کرام فیض کے مقبول کلام پر ڈھول باجوں کے ساتھ تھرکنے والوں اور والیوں اور سوشل میڈیا میں کہرام اور تہلکہ برپا کرنے والوں کو بھی پتا چل جاتا کہ 81 سال کی عمر میں تیس مارچ 2017 میں ڈھاکہ میں مرنے والا یہ دلیر زہین شخص کون تھا ؟

کیوں انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کرنے اور لسانی طور پر "اردو سپیکنگ ” ہونے کے باوجود بنگلہ زبان کی تحریک میں بنگالیوں کا ساتھ دیا؟ کیوں پاکستان سے محبّت اس انداز سے کی کہ جب ملک دو ٹکڑے ہوگیا تو مشرقی حصّے کو پاکستان جانا؟ اور وہاں اس طرح رہے کے تمام انسان دوست لوگوں چاہے وہ بنگالی ہوں یا بہاری سب کے دل جیت لیے؟ کس طرح بنگلہ زبان کی حق کی پاسداری کی اور اردو زبان کو زندہ رکھا کہ باہمی رواداری اور مل جل کر رہنا ہی تو اصل انسانیت ، لبرل ازم اور پاکستانیت ہے؟

پس تحریر : ایک خیر خواہ نما شناسا نے مجھ کو سمجھایا ہے کہ میں ایسے موضوعات پر نہ لکھا کروں کہ یہ غیر پیداواری اور قبولیت سے ناپید بیانیہ ہے ۔ میں تو بزبان فیض یہی جواب دیتی ہوں کہ
تم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنو۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے