کیا ہر وہ عورت جو ماں نہیں بن سکتی کیا وہ ادھوری ہے؟

سمیرا (فرضی نام) جو ڈسٹرکٹ گجرات میں رہتی ہیں، ان کی شادی 2017 میں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سسرال میں تین نندیں اور ایک دیور ہیں۔ سمیرا کا خاوند اس کا کزن ہے، وہ کہتی ہیں، سسرال والوں کے تعنوں سے تنگ آ کر انہوں نے پھر ڈاکٹر کی ادوایات شروع کر دیں۔ دوائیوں کھانے سے ان کا چہرہ خراب ہونا شروع ہو گیا اور حتی کہ انہیں جگر کی گرمی بھی ہو گئی۔ ایک اور سال گزر گیا اور میرا دل بیٹھتا گیا ۔

سمیرا کہتی ہیں کہ وہ دن بدن اور پریشان اور مایوس ہوتی گئی ان کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ ماں نہیں بن سکتی اس کی وجہ وہ نہیں بلکہ ان کا خاوند ہے۔ گھر والوں کے تعنوں اور جھگڑوں کے ساتھ ساتھ آج اس کی شادی کو پانچ سال گزر گئے ہیں۔ زندگی میں سب کچھ ہے لیکن اللہ تعالی کی خوبصورت نعمت اولاد نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اولاد نہ ہونے سے اس کی زندگی میں ایک بہت بڑا خلا ہے۔ ایک ادھوری خواہش ہے، جو صرف اس کی اولاد ہی پوری کر سکتی ہے، پر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اس غم اور نعمت سے محروم ہونے کے باوجود آج بھی خود کو سنبھالے ہوئے زندگی گزار رہی ہے۔

بالی وڈ فلم کچھ کچھ ہوتا ہے میں نورانی مکھر جی کہتی ہیں کہ "جب تک عورت ماں نہ بنے اس کا عورت ہونا پورا نہیں ہوتا”۔۔۔۔۔

لبنہ جو وزیر آباد میں رہتی ہیں، جب وہ 24 سال کی تھیں، ان کے والد وفات پا گئے اور جب وہ 32 سال کی ہوئیں تو ان کی والدہ بھی وفات پا گئیں،والسین کا سایا سر سے اٹھنے کے بعد 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی، شادی کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ جلد از اولاد جیسی نعمت سے فیض یاب ہوں، اسلئے انہوں نے علاج کروانا شروع کر دیا۔ وہ کہتی ہیں، انہوں نے بہت سے ڈاکٹروں کو چیک اپ کروایا، کچھ ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ بہت کمزور ہیں حالانکہ ان کے مطابق ان کی سب رپورٹس میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں تھی اور ان کی ساری رپورٹس بالکل نارمل تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں نے انہیں کئی ماہ گلوکوز کی بوتلیں لگائیں، جس کی وجہ سے ان کا وزن بڑھ گیا۔ اس طرح کافی وقت گزر گیا، ایسے ہی انہوں نے بہت سے ماہر تولید کے چکر لگائے اور اپنے بہت زیادہ پیسے ضائع کیئے۔

آخر میں ان کا پالا ایک بہت اچھے ماہر تولید سے پڑا ، ان سے چیک اپ کروایا انہوں نے بتایا کہ آپ کی اولاد نہ ہونے کی وجہ موٹاپا ہے وہ کہتی ہیں کہ اب موٹاپا بہت بڑھ گیا ہے اب وہ موٹاپا کو کم کرنے کے لیے ادوایات کھاتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ اب موٹاپہ میں کمی واقع ہوئی ہے، پر وہ آج بھی مایوس ہیں۔ اولاد صرف نعمت نہیں بلکہ ایک عورت کے لیے ایک بہت مضبوط رشتہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ دوسروں کے بچوں کو دیکھتی ہوں تو ان کے دل میں بھی یہ خیال آتا ہے کہ کاش ان کی بھی اولاد ہوتی۔۔

ڈاکٹر عقیلہ تولیدی صحت کی ڈاکٹر ہیں وہ کہتی ہیں مردوں میں مردانہ صلاحیت 40 سے 45 سال کی عمر میں کم ہوتی ہے جبکہ خواتین میں یہ صلاحیت 35 سال کے بعد ہی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ خواتین 20 سے 21 سال کی عمر میں بچے پیدا کرتی ہیں۔

60 کی دہائی میں خواتین 20 سے 21 سال کی عمر کے بچے کو جنم دیتی تھیں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ خواتین کی بیضہ دانی میں بیضے وقت کے ساتھ کم ہو جاتے ہیں۔ ایک عورت ایک ماہ میں ایک ہی بیضہ خارج کرتی ہے۔ لڑکیوں میں 9 سے 12 برس کی عمر میں حیض آتے ہیں ، اگلے ایک دو سال بعد بیضے خارج کرنا شروع کر دیتی ہیں یعنی ایک عورت کے اوسطاً بیضے 33 سال تک ختم ہو جاتے ہیں، ایک عورت کے اندر موجود بیضوں کا اندازہ ان کے خون میں موجود اے ایم ایچ نامی ہارمون سے لگایا جا سکتا ہے۔

عقیلہ کہتی ہیں انسانی بیضوں میں *کروموسومل ابنارملٹیز عام ہیں اور عمر کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ 25 سے 30 سال کی عمر میں اس اب نارملٹیز کی شدت کم ہو جاتی ہے اور 35 سے 40 سال کی عمر میں یہ نقص بڑھتا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خوا تین بانجھ ہیں بلکہ ایسی خواتین میں حمل نہیں ٹھہر سکتا۔

کروموزومل ڈی این اے سے بنتے ہیں اس میں ایک خاندان کی تمام جنیاتی معلومات ہوتی ہیں۔ انسانوں میں 23 کروموسومز ہوتے ہیں، جن میں سے 23 کروموسومز والدہ سے آتے ہیں اور 23 والد سے آتے ہیں ،اگر کسی بچے میں کروموسومز کم یا زیادہ ہوں تو وہ حمل اکثر ٹھیک سے نہیں ٹھہرتا، زیادہ تر کروموزومز نہایت ہی چھوٹے ایمبریو کے لیے جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ اکثر حمل پانچ سے اٹھ ہفتے کے دوران ضائع ہو جاتا ہے، عورتوں کے بیضے کمزور ہونے کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں ،جن میں موٹاپا، سٹریس، تابکار شعاعوں یا کیمیکل اور فاسٹ فوڈ کا بے جا استعمال شامل ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو عورتیں موٹی ہوتی ہیں ان عورتوں کو ہارمونز ، بلڈ پریشر یا شوگر کا مسئلہ ہوتا ہے اور وہ عورتیں کم حاملہ ہوتی ہیں لہذا ان کو چاہیے کہ وہ خود کا خیال رکھیں، اپنی خوراک کا خیال رکھیں تاکہ وہ اپنی تولیدی صلاحیت کو بڑھا سکیں، ایک عورت ماں بننے کے بغیر نامکمل ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں چھ میں سے ایک فرد بانجھ پن کا شکار ہیں۔ غیر ملکی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ اعدادوشمار 1990 سے 2021 تک کی تحقیقی طبی رپورٹ پر مبنی ہے۔

دنیا میں 17.5 فیصد کی شرح بانجھ پن کا شکار ہے۔ یہ متواتر اور غریب ممالک سب میں یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ امیر ممالک میں اس کی شرح 17.8 فیصد ہے اور غریب ممالک اور متواسط ممالک میں اس کی شرح 16.5 فیصد ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 12 ماہ سے زیادہ غیر محفوظ تعلقات میں ناکامی پر کی جاتی ہے۔ ایک سال یا زیادہ دورانی میں حمل نہ ہونے پر بانجھ پن کی علامات جانی جاتی ہیں۔ بانجھ پن صحت پر اثرات مرتب کرتا ہے۔ نفسیاتی صحت پر بھی اثرات مرتب کرتا ہے لہذا عورتوں کو چاہیئے کہ وہ خود کا خیال رکھیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے