پاکستان میں بہت کچھ اچانک ہو جاتا ہے

دو ڈھائی برس ہوئے اردو میں دوبارہ لکھنا شروع کیا تو پتا چلا کہ اب ٹائپ رائیٹر خراب ہے اور کسی حد تک میرا وقت بھی ، ٹی وی چینلز کو میں یاد بھی نہیں۔۔۔۔ میری تحریریں چھاپنے والے اخباروں میں نا اب میری جگہ ہے اور نا ہی وہ کاتب ہیں جو میری لکھائی پڑھ سکیں اب بیس برس سے زائد کا عرصہ ہے بھی تو بہت طویل۔ خاص طور پر اپنے بھروسے پر چلنے والی خواتین کے لئے جن کو اجیزم کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ سیکھی اور لکھنے بیٹھی تو انکشاف ہوا کہ روزگار کی بھی ایک سمجھوتہ ٹرین ہوتی ہے اور اس کو پکڑنے کی بھاگم ڈور میں شائد مجھ جیسے بہادر اور دنیاوی حربوں سے بے پرواہ لوگ بھی کہیں نہ کہیں اپنے اصل پلیٹ فارم کو کھو بیٹھتے ہیں۔

خسارے اور نقصان کی کئی اشکال ہیں۔ اردو سے دور ہونا بھی ایک نقصان ہی ہے ۔کوشش کر رہی ہوں کہ ازالہ کر سکوں ۔ روزانہ کی بنیاد پر اردو لغت کا مطالعہ بھی کرتی ہوں،اسکول،کالج اور جامعات میں پڑھنے والے بچوں سے بات کرتی ہوں۔ اندازہ ہو رہا ہے کہ اردو کو بے دھیانی اور تنزلی کا سامنا ہے ۔ کچھ ایسی کانفرنسس میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا بھی جہاں اردو زبان اور ادب کی بدولت شہرت ، عزت ، دولت اور مقبولیت حاصل کرنے والوں کو اردو کے خلاف زہر اگلتے ہوئے سنا اور دیکھا بھی، سب کو آزادی ہے، وہ بھی خوش رہیں۔

میری توجہ کا مرکز اپنی اردو کو ٹھیک کرنا ہے ۔ خواہیش ہے کہ جب تک لکھ سکوں کچھ نہ کچھ ایسا لکھنا ہے جو درست ،تلخ اور سچ ہے۔ مگر اس سمت ان کی نگاہ نہیں جاتی جو اپنے اپنے میدان میں قیادت اور بیانیے بنانے یا بگاڑنے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔

آج رواں سال کے فروری کی دس تاریخ ہے اور مملکت خدادا میں عام انتخابات کو گزرے ہوئے خیر سے تیسرا دن ہے ۔ کچھ کے نزدیک قل تیجہ ہے، کچھ کے نزدیک کل نتیجہ ہے اور کچھ کا اندیشہ ہے کہ آٹھ فروری کا رولا کافی حلقوں کو آٹھ آٹھ آنسو رلائے گا۔

سیاسی منظر نامے پر روشنی ڈالنے کے لیے تابناک زہنوں اور روشنائی کا اتنا استعمال نہیں ہوتا جتنا سماجی میڈیا اور ٹی وی چینلز پر جوتشیوں اور غیب کے علوم کے ماہرین کی یلغار ہوتی ہے ۔ نجانے کن کے کہنے پر ان کی پیشن گویوں کو علم، شعور اور معتبر تاریخ سے ناشناس ملک میں بڑی حکمت سے زبان زد عام کیا جاتا ہے ؟

اردو کی طرف ہی رُوئےسخن رکھتی ہوں۔ بہت سے الفاظ اب مجھ کو بہت چونکا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر الف سے (اچانک )بچپن میں مجھے یہ فلمی گانا "ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری کہ تم آگئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری ” ۔۔۔ بہت اچھا لگتا تھا۔ مادام نور جہان کی آواز، نثار بزمی کی دھن ، مسرور انور کے بول پھر شمیم آرا اور وحید مراد پر اس کو فلمایا گیا کیا بات تھی، بہت بہترین۔ یہ گانا اب بھی اچھا لگتا ہے۔ تاہم وقت نے سکھادیا کہ اچانک جو بھی ہو جائے وہ اشتراک سے ہی ہوتا ہے۔

حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے، بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے۔(امجد اسلام امجد) پس منظر میں کافی محنت ہوتی ہے تب جا کر کچھ خوبصورت سا اچانک ہوتا ہے۔

پاکستان میں بہت کچھ اچانک ہو جاتا ہے۔ بچپن کی ایک اور یاد میں ضیاء کا اچانک مارشل لاء بھی شامل ہے۔ جوانی کی یادوں میں مشرف کا اچانک کا مارشل لاء یاد ہے کیوں کہ پی ٹی وی کی سکرین اچانک خراب ہوگئی تھی۔ جب پارلیمانی سیاست کو سمجھنا شروع کیا تو آگاہی ہوتی گئی کہ اچانک بہت کچھ ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اچانک ضمیر جاگ جاتے ہیں اور اچانک بھاگ جاگ جاتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے