حاملہ عورتوں میں ذہنی دباؤ کی وجہ سے نئی نسل کا ہائڈروسیفلس میں مبتلا ہونا

شمسا بی بی کی بیٹی طائرہ ہائیڈروسیفالس کی مریضہ ہے، اس کا علم اس کو طائرہ کی پیدائش کے چار ماہ بعد ہوا جبکہ طائرہ کو یہ مرض پیدائشی تھا محترمہ شمسا بی بی کا تعلق ضلع وزیر آباد سے ہے، شمسا بی بی کا شوہر اسلم شادی کے بعد مالی طور پر مضبوط نہیں تھا۔ جس کی وجہ سے شمسا بی بی کو اپنے گھر کی کفالت خود کرنی پڑی، وہ کہتی ہیں کہ جب وہ حاملہ ہوئی تب گھر کے معاشی حالات بہت خراب تھے۔ گھر میں مسلسل لڑائی جھگڑا ہوتا تھا۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ دن رات کپڑے سلائی کر کے گھر کا نظام چلاتی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی ۔اس ذہنی دباؤ کا اثر اس کی نامولود بیٹی طاہرہ پر ہوا۔ محترمہ کہتی ہیں کہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس کی بیٹی ہائیڈروسیفالس میں مبتلا ہو گئی۔ معاشی تنگدستی کے باوجود محترمہ ننھی جان طاہرہ کو لے کر گورنمنٹ سول ہسپتال وزیر آباد میں گئیں۔ وہاں سے لاہور چلڈرن ہسپتال بھیج دیا گیا۔

اس بیماری کے مریض غیر معمولی طور پر بڑے سر کا سائز اور سر کے فریم میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے، آنکھوں کا نیچے کی طرف انحراف یا غروب آفتاب کا نشان ،قے ، چڑچڑاپن اور دورے پڑتے ہیں۔

شمسا بی بی کہتی ہیں کہ ہارڈو ہائڈروسیفلس کی وجہ سے بیٹی سننے بولنے اور چلنے والی نعمتوں سے متاثر ہے ۔ معاشی تنگدستی کے باوجود شما بی بی اپنی لخت جگر کو لاہور علاج کے لیے لے کر جاتی رہی۔ مشکل حالات کے ہوتے ہوئے کئی سال تک طائرہ کاعلاج جاری رہا، وہاں ہسپتال میں انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، وہ اب 14 سال کی ہے ، انتہائی علاج و معالج کے باوجود ابھی بھی وہ زندگی کی رونقوں سے محروم ہے۔

طیب جو کہ کرائے کے گھر میں ضلع وزیر آباد میں رہتے ہیں۔ ان کا تعلق منڈی بہاولدین سے ہے۔ طیب ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور ضلع وزیر آباد میں وہ کرائے کے مکان پر رہتے ہیں۔ اس کو مالی حالات خراب ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی ذہنی دباؤ کا شکار رہتی تھی۔ ان کے بیٹے کو یہ بیماری پیدائشی تھی، پر ان کا اس بات کا علم ان کی پیدائش کے 15 دن بعد ہوا ۔ اسے ڈاکٹری زبان میں ہائڈروسیفلس کہا جاتا ہے۔ ان کے بیٹے کا سر جب بڑھنا شروع ہوا تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کے سر میں پانی ہے اور ڈاکٹر نے ان کو لاہور میموریل چلڈرن ہسپتال بھجوا دیا۔ ان کے بیٹے کا سر نرم جلی کی طرح تھا ڈاکٹروں کی انتہائی کوشش سے جب وہ چار ماہ کا تھا تو اس کا آپریشن کروا دیا۔ آپریشن سے وہ اس بیماری سے بہتر ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اب وہ نو ماہ کا ہے لیکن اب وہ اس کی حالت پہلے سے تھوڑی سی بہتر ہے۔

فائزہ جو کہ چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، جنہوں نے تین سال ہوا مموریل ہسپتال وزیر آباد میں کام کیا۔ اب وہ عمران ادریس ہسپتال سیالکوٹ میں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہائیڈروسفیلس کی بیماری بچوں کی پیدائش کے دوران ہی انہیں ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مروسی بیماری ہے۔ اس میں خواتین کا ذہنی دباؤ بھی شامل ہے ۔ اس بیماری کے دوران بچے کا دماغ مکمل طور پر نشونما نہیں ہو پاتا۔ جس کی وجہ سے بچہ ذہنی معذور ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جو مائیں حاملہ ہوتی ہیں، اگر وہ ان کی پیدائش کے چھ سے چار ماہ کے دوران جب وہ حاملہ ہوتی ہیں، اگر وہ الٹرا ساؤنڈ کروا لیں تو اس بیماری کا پتہ لگایا جا سکتا ہے لیکن ان کے مطابق پاکستان میں جو لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں، وہ الٹرا ساؤنڈ نہیں کرواتے، جس کی وجہ سے ان کے بچوں کو اس بیماری کا ساری زندگی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر فائزہ کے مطابق جب کسی بچے میں اس بیماری کا پتہ چلتا ہے تو ان کی مائیں فورا ا بچہ ضائع کروا لیتی ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق ایسا بچہ نہ صرف والدین پر بوجھ ہوتا ہے بلکہ وہ معاشرے پر بھی بوجھ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر فائزہ کے مطابق ایسے بچے کا علاج وزیرآباد سیالکوٹ میں نہیں کیا جاتا، ان کو لاہور چلڈرن ہسپتال بجوا دیا جاتا ہے ،جہاں پر ان کے دماغ میں شنٹ ڈلوایا جاتا ہے، شنٹ ڈلوانے کے باوجود وہ بچہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو پاتا۔

ڈاکٹر فائزہ کے مطابق وزیر آباد میں اس بیماری کے مریض کی شرح کم ہوتی ہے کیونکہ یہاں پر ان کا علاج نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے یہاں ہسپتال میں انہیں داخل ہی نہیں کیا جاتا ڈاکٹر فائزہ کے مطابق ہائیڈروسیفلس کی شرح بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ ماں کا ذہنی ڈپریشن لینا ہے۔

صوبیہ بی بی کہتی ہیں کہ جب وہ بھی حملہ ہوئی تو گھریلو جھگڑوں اور مارکوٹی سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ صوبیہ کا تعلق راہ والی کینٹ سے ہے۔ اس کے تین بیٹے ہیں، سب سے چھوٹے بیٹے حمزہ کی پیدائش سے پہلے اس کے شوہر ثقلین نے اسے گھر سے نکال دیا، حمزہ کی پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے بتایا حمزہ ہائیڈروسیفلس کا مریض ہے ، صوبیہ بہت روئی جب ڈاکٹر نے اسے اس بیماری کا بتایا ۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ حمزہ کو لے کر بہت سے نیشنل ہسپتالوں میں گئی۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی صوبیہ کہ خاوند نے طلاق دے دی اور کہا یہ بچہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے ۔ آج حمزہ کو چارپائی پر لاچار دیکھتے ہوئے 14 سال ہو گئے ہیں۔ ہزاروں کوششوں کے باوجود آج بھی حمزہ صحت یاب نہیں ہو سکا ، وہ کہتی ہیں آج بھی حمزہ کو علاج کروا رہی ہوں۔

اسسٹنٹ سپیشلسٹ افتخار احمد کہتے ہیں حاملہ ماؤں کے ذہنی دباؤ کی وجہ سے جو بیماریاں بچوں میں آتی ہیں ان کا علاج مشکل ہے۔ جن میں سے ایک بیماری ہائڈروسیفلس بھی ہے ۔ اس بیماری میں بچے کی نیند کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ ان کو جھٹکے آتے ہیں، ان بچوں کو خوراک ہضم نہیں ہوتی اور ان کے رویئے میں غصہ اور بے چینی بھی شامل ہوتی ہے۔

سول سرکاری ہسپتال میں موجود سٹاف ممبر شمسہ کہتے ہیں ، سول ہسپتال میں ہائڈروسیفلس کے مریض کی تعداد چیک اپ کے طور پر بہت زیادہ آتی ہے ۔ ان کے مطابق یہاں پر ہائڈروسیفلس کا علاج ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے یہاں پر ہائڈروسیفلس کے مریض داخل نہیں کیے جاتے۔ ان کے مطابق ہائیڈروسیفلس کا مسئلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور یہ ماں کے ذہنی دباؤ کی ایک وجہ ہے ۔ اس کے علاوہ یہ موروسی بیماری بھی ہے۔ جب ماں ذہنی دباؤ لیتی ہے تو شروع میں بچے کو جھٹکے لگتے ہیں اور بعد میں ہائڈروسیفلس کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

یہاں سانس، نمونیا، انیمیا اور بہار کے مریض بھی آتے ہیں اور ان کو ہی یہاں پر داخل کیا جاتا ہے۔ سٹاف ممبر شمسہ وہاں پر کافی سالوں سے کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہاں پر مریض میں زیادہ تر دو سے چھ سال کی عمر تک کے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے نرسری میں صرف چند بچے رکھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق نرسی والے بچوں کو بھی ایک دن کے بعد فارغ کر دیا جاتا ہے۔ یہاں پر وینٹیلیٹر اور دیگر مشینری کی کمی کی وجہ سے صرف ایک یا دو بچوں کو نرسری میں رکھا جاتا ہے ۔

شمسا کہتی ہیں یہاں پر ہائڈروسیفلس کے مریض کو داخل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی نرسری میں ہارڈروسیفلس کے مریض کو داخل کیا جاتا ہے۔ سول ہسپتال وزیر آباد میں بچوں کے ریکارڈ کے مطابق %50 مریض بخار کے بیماری کے ہیں، 30 % مریض ہائڈرو سیفولس کے مریض ہیں، 20 % مریض نمونیا کے ہیں ،ان کے مطابق ہائڈروسیفلس کے مریض کو زیادہ تر رجسٹر میں فٹس کے نام سے درج کیا جاتا ہے، ان کے مطابق ہائیڈروسیفلس کا علاج یہاں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے مریضوں کو فٹس کے نام سے بڑی مشکل سے درج کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں ہائیڈروسیفلس کی مشینری اور علاج نہیں ہے ۔

اس ہسپتال کو بہت سے گاؤں لگتے ہیں جیسے کہ پٹھان والی، بنیا والی، ٹھٹی آرائیاں وغیرہ یہاں پر آلہ آباد ،نظام آباد، محمد نگر، حیدر کالونی، سکندر پورا اور ہری پور سے بھی مریض آتے ہیں۔ ان کے مطابق ہائیڈروسیفلس کے مریض ان علاقوں سے بھی آتے ہیں پر ان کو یہاں نہیں رکھا جاتا، ان کو لاہور چلڈر ہسپتال بھجوا دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر وجیہہ جو کہ لاہور چلڈرن ہسپتال میں اسوسییٹ پروفیسر ہیں۔ وہ بچوں سے متعلق تمام بیماریوں کا علاج کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ہائیڈروس کا مسئلہ ماں کے ذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ جب مائیں بچے کی پیدائش کے دوران بہت زیادہ ذہنی دباؤ لیتی ہیں تو بچے کا دماغ مکمل طور پر نشونما نہیں ہو پاتا ، کچھ بچوں میں ہائیڈروسیفلس پیدائشی ہوتا ہے اور کچھ بچوں میں ہارڈو سیفلس پیدائش کے کچھ عرصے کے بعد ہوتا ہے ۔ جن بچوں کے اندر ہائیڈروسیفلس پیدائش کے بعد ہوتا ہے، ان بچوں کو پہلے جھٹکے لگتے ہیں ، یہ جھٹکے ماں کے ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

بچوں میں ہونے والی بیماریوں میں ہیموفیلیا ہارڈروسیفلس، تھیلیسیمیا ،گردن توڑ بخار، زبان اور تقریر کی خرابی دانشورانہ معزوری، ایگزما، چکن پاکس ،بہار کے دورے معدے کا فلو شامل ہیں، لاہور چلڈرن میموریل ہسپتال میں اس بیماری کی شرح 35 فیصد ہے اور یہاں پر بچوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے ۔ جس میں ان کے دماغ میں شنٹ ڈالا جاتا ہے، شنٹ موجودہ قیمت کے مطابق اڑھائی لاکھ کا ہے، جو والدین اپنے بل بوتے پر دلواتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے غریب لوگ ہائڈروسیفلس کا مکمل علاج نہیں کروا پاتے لیکن ادوایات اور ڈاکٹر کی دی گئی ہدایات اور ورزش سے بچہ پہلے سے بہتر ہوجاتاہے ، یہاں پر لوگ مختلف اضلاع سے آتے ہیں، جن میں ضلع فیصل آباد ضلع میاں والی ،ضلع گجرات، ضلع بہاولپور ،ضلع وزیرآباد ضلع گجرانوالہ اور بھی بہت سے اضلاع شامل ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے