جڑواں شہر اور ووٹرز کی مشکلات

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مختلف تعلیمی اداروں میں بنائے گئے پولنگ سٹیشنز میں پولنگ صبح آٹھ بجے سےشروع ہو کر شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفےکے پرامن طریقے سے جاری رہی ،تاہم ووٹرز کےمطابق ایک ہی گھرانے کے افراد کے ووٹ مختلف جہگوں پر واقع پولنگ سٹیشنز پر رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے انھیں اپنے خاندان کے ووٹ کاسٹ کروانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

ان کی پرشانی میں مزید اس وقت اضافہ ہوا جب پولنگ سٹیشن پر رش اور وقت کی کمی کے سبب بہت سے ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر پائے۔

اسلام آبادکے دیہی علاقےشاہ پور کی رہاہشی ایک خاتون ووٹر کا کہنا تھا کہ ان کا ووٹ ماڈل سکول فار گرلز ،شاہ پور میں رجسٹرڈ تھا جبکہ ان کےخاوند کا راولپنڈی کے ایک تعلیمی ادارے میں رجسٹرڈ تھا۔ان کے پاس اپنی گاڑی تھی اس لئے انھوں نے بامشکل اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ٹرانسپورٹ کے مسائل کی وجہ سے بھی پولنگ سٹیشنز پر دیرسے پہنچی اور وقت ختم ہونے پر واپس چلی گئی۔

راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں خواتین کے لئے بنائے گئے ۔پولنگ سٹیشن پر کھڑی ثناء نے بتایا کہ وہ گھنٹوں لمبی قطار میں لگی رہیں۔ ان کے پاس پرچی پر بلاک کوڈ،گھرانہ نمبر اور سلسلہ نمبر درج ہونے کے باوجود ووٹر لسٹ میں ان کا نام نہیں ملا۔ انھیں ایک کمرے سے دوسرے میں بیجھا گیا، وہاں بھی ان کا ووٹ نہیں تھا ۔آخر کاروہ لمبی لمبی لانؤں میں لگ کر بغیر ووٹ کاسٹ کۓ واپس آگیں۔

ووٹرز اور سیاسی حکمران طبقہ کا باہمی تعلق ہمیں محض انتخابات اور انتخابی مہم تک ہی محدود نظر آتا ہے۔ملک کے حساس قسم کے سیاسی حالات کے باوجود لوگوں میں یہ یقین نظر آیا کہ سیاست اور انتخابات کا عمل ان کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لا سکتا ہے۔ چونکہ لوگوں کی بڑی تعداد نے پولنگ سٹیشن کا رخ کیا لیکن ان کی باری آنے تک وقت وقت ختم ہو چکا تھا اورپولنگ سٹیشنز کے باہر موجود ووٹرز کی بڑی تعداد ووتنگ کے لیے وقت کم ہونے کی شکایت کرتی نظر آئی۔

کچھ ووٹرز کا کہنا تھا کہ ڈیفنس اور بحریہ کے علاقوں کے لوگو ں کے ووٹ راولپنڈی کے مختلف پولنگ سٹیشن میں رجسٹرڈ تھے۔ ان علاقوں کے ذیادہ لوگوں نے ان گلی کوچوں میں بنے پولنگ سٹیشنز میں آکر ووٹ کاسٹ کرنے کو بھی ترجیع نہیں دی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آٹھ فروری کے حوالے سے جاری کردہ اپنے علامیے میں یہ کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے کیمپ الیکشن والے دن دیہی آبادیوں میں پولنگ اسٹیشن کے ارد گرد 400 میٹر کے فاصلے پر جب کہ گنجان آباد علاقوں میں 100 میٹر کے فاصلے پر لگائے جائیں گے۔ ان ہدایات کے پیش نظر دیہی علاقوں میں سیاسی جماعتوں نے اپنے کیمپ تقریبا 400 میٹر کی دوری پر لگائے اور وہاں رش کی وجہ سے کچھ فاصلے پر پارکنگ کا انتظام کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بزرگ شہریوں اور معذور افراد کو بھی پولنگ سٹیشنز پر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بہت سے دیہاڑی دار غریب لوگ کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی اپنے دور دراز واقع اپنے پولنگ سٹیشنز پر جا کر ووٹ کاسٹ نہ کر سکے اور یہاں بھی ان کی معاشی مشکلات ان کے حق رائے دہی میں ہائل رہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے