مشکلات اور بندشوں سے آگے نکل کر خواتین کے حقوق اور امن کے فروغ کے لیے کام کرنے والی شیبا ہدایت کی مختصر کہانی

میں اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی ہوں۔ میری پیدائش پر گھر میں بہت خوشیاں منائی گئی ۔ خاص طور میرے بابا بہت زیادہ خوش تھے ۔ میرے والدین مجھے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے ۔ میں اپنے گھر والوں کی آنکھوں کا تارا تھی ۔ اگر چہ میرے بعد میرے اور بھی بہن بھائی پیدا ہوئے لیکن جو محبت اور توجہ مجھے ملی ، میں اس پر پوری زندگی فخر کروں گی ۔ میرے والدین نے میری پرورش بہترین طریقے سے کی ۔ مجھے اچھی تعلیم اور تربیت دی اور مجھے زندگی کی مشکلات سے لڑنا سکھایا۔

یہ کہنا تھا چارسدہ سے تعلق رکھنے والی خاتون شیبا ہدایت کا ۔ شیبا نے اردو ادب میں ماسٹر کیا ہے اور آج کل پیمان المنائی ٹرسٹ کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ ان کے والد کی سپئیر پارٹس (Spare parts) کی دکان تھی ، جس سے ان کا گزر بسر اچھا ہو رہا تھا ۔ 

میٹرک کے فوراً بعد میری شادی ہوگئی ۔ میرے شوہر اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنا جنرل سٹور چلاتے تھے ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد دونوں بھائیوں میں کچھ تنازعہ ہوا ،جس کی بناء پر میرے شوہر کو اپنے بھائی نے سٹور سے نکال دیا ۔ میرے شوہر پڑھے لکھے نہیں تھے لہٰذا کسی جاب کا ملنا بہت مشکل تھا ۔ پھر بھی انہوں نے کوشش جاری رکھی اور ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارتے رہے ۔ وہ ہماری زندگی کے سب سے مشکل دن تھے ۔ ہمیں کھانے کے بھی لالے پڑے تھے ۔ ہمیں کسی سے مدد لینا گوارا نہیں تھا ۔ وقت بہت ہی تنگی سے کٹ رہا تھا ۔ ان دنوں میں نے سوچا مجھے بھی جاب کر لینی چاہئے اور اپنے شوہر اور بچوں کا سہارا بننا چاہئے۔

شیبا کے بقول ان کی جاب کا سن کر سب گھر والے بھڑک اٹھے۔ ان کے خاندان میں عورتوں کے گھر سے نکلنے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا ، نہ اس کے والدین مان رہے تھے نہ ہی اس کا سسرال راضی تھا ۔ پھر بھی اس نے کوششیں جاری رکھیں اور اور میکے اور سسرال دونوں کو مناکر ہی دم لیا ۔ 

مجھے پہلی جاب "میری سٹاپ سوسائٹی ” نامی ادارے میں ملی ۔ میری تنخواہ چھ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی۔ اگر چہ یہ رقم بہت ہی کم تھی لیکن ہم تو پائی پائی کو ترس رہے تھے۔ اس لئے یہ رقم  بھی غنیمت لگنے لگی ۔ میرے عہدے کا نام تھا CBD (Community Based Worker) ۔ ہم خاندانی منصوبہ بندی پہ کام کرتے تھے۔ ایک سال میں، میں نے اتنی محنت کی کہ مجھے سپروائزر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اس ایک سال میں، میں نے کئی ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹ اپنے نام کئے۔ یہاں سے شیبا کی کامیابی کا سفر شروع ہوا، اس کے بعد اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔

2010 میں اس نے CRDO نامی ادارے کے ساتھ بطورِ کمیونٹی موبلائزر کام شروع کیا ۔ یہاں پر اس کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آگئیں ۔ اس کے بعد اس نے ICMSC جیسے عالمی ادارے کو جوائن کیا اور کمیونٹی کی خدمت میں لگ گئی ۔

اپریل 2012 میں اس نے پیمان المنائی ٹرسٹ جائن join کیا اور اب تک اس ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔ 

"پیمان المنائی ٹرسٹ میں آکر مجھے صحیح معنوں میں اپنے علاقے کی خواتین و حضرات اور خواجہ سراؤں کی خدمت کا موقع ملا۔ ان گیارہ  سالوں میں ہم نے ہزاروں خواتین کو ٹریننگ دی ، انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا ، انہیں مختلف ہنر اور مہارتیں، Skills سکھائے، ضلع چارسدہ میں تقریباً 1000 خواتین کے لئے نئے شناختی کارڈ بنوائے تاکہ وہ انتخابات کے موقع پر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں ، انہیں ووٹ کی اہمیت سمجھائی اور الیکشن میں  اپنی برادری اور اپنے صنف کی نمائندگی کے بارے میں ان کو آگاہ کیا۔ خواتین کو کچن گارڈننگ کے بارے ٹریننگ دی۔ سماجی استحکام ، تنازعات کے حل اور امن کے قیام کے حوالے سے کام کیا جو اب تک جاری ہے۔

شیبا ہدایت آج کل پیمان المنائی ٹرسٹ کے بطورِ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر کام کر رہی ہیں ۔ اس کے علاؤہ وہ چھ یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت بھی کر رہی ہیں ۔ان میں سے دو یتیم بچیوں کی شادی بھی کروا لی ہے جبکہ چار بچے ابھی بھی ان کے زیرِ کفالت ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے