نگران وزیر اعظم کی عالمانہ گفتگو اور ہمارے بچپن کے کھیل کود

زمانہ ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ سے بہت پہلے ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے اور اسلام آباد جیسے شہر کے بچوں پر بھی گزرا ہے۔ جب گھر سے اسکول تک پیدل جانا ، سڑک پر بائیسکل چلانا اور گلیوں میں کھیلنا ایک عام سی بات تھی ۔ ہم جیسے اپنے طرہ دار انگریزی میڈیم اسکول میں بھی طرح طرح کے روایتی کھیل انگریزی ناموں سے کھیلتے تھے ۔ بہت سارے کھیل تھے، جس میں کسی گیجٹ کی ضروررت نہیں پڑتی تھی۔ ان کھیلوں کے نام بھی تھے اور بڑے دلچسپ ہوتے تھے، شام کو اپنے اردو میڈیم محلے میں اردو،پنجابی ، پوٹھواری ناموں کے ساتھ بھی کئی کھیل کھیلتے تھے ، مثال کے طور پر اونچ نیچ ، چھپن چھپائی ، پکڑان پکڑای وغیرہ ۔

ایک کھیل ہم انگریزی میں ” آئی سینڈ اے لیٹر ٹو مائی فرنڈ اینڈ ان د ا وے آئی ڈراپ اٹ…. ” لہک لہک کر گا کر کھیلتے تھے- اس میں کافی دھوکہ دہی اور بھاگ ڈور ”ملوث ”ہوتی تھی۔ اس کھیل میں انگریزی میں جو کورس گایا کرتے تھے، اس کا ترجمہ تو مقامی زبانوں میں نہیں تھا لیکن اس سے ملتا جلتا ایک کھیل تھا جو آج بہت یاد آرہا ہے۔

آٹھ فروری کو بروز جمعرات پاکستان میں جنرل انتخابات منعقد ہو گیئے۔ نتائج ۔ دروغ بر گردن راوی۔ الیکشن کمیشن کے پاس بھی دیر سے ہی پہچنے ۔ ازلی پرامید عقل مند افراد نے ان نتائج کو نامَۂ اعمال سمجھ کر قبول کرلیا ۔ مقبول یہ کروانے کی کوشش بھی ہے کہ سمجھوتے ہوں نہ کہ ہتھیار ڈالیں یا دستبردار ہو جائیں۔ ہمہ شمہ کے لیے یہی کافی ہے کہ دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو۔

کچھ دیر پہلے ایک نامور سیاستدان کے حوالے سے پڑھا کہ وہ تاخیر میں تخریب تلاش کر رہے ہیں اور ایک ضابطے کی کاروائی کو کچھ اور ہی رنگ دے رہے ہیں یہ کہہ کر کہ ” پاکستان کی تاریخ میں پہلا الیکشن ہے جس میں آپریشن ردوبدل جاری ہے”۔ امید ہے کہ وہ یہ درس تعلیم بالغاں اپنی تزک بابری میں نہیں شامل کریں گے۔

صبح صبح میرے ایک خیر خواہ نے مجھے پھر یاد دلایا کہ آپ کو کیوں وہم ہے کہ آپ اور آپ جیسوں کا مینڈیٹ اہم ہے؟ اپنے کام سے کام رکھیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کام کیا کروں؟ نوکری ملتی نہیں، اجرتی مشاورت یا کنسلٹنسی ، نیٹ ورکنگ کا پل صراط پار کر کے ہی ملتی ہے یا بہت اچھی قسمت سے ، ان حوالوں سے میں کوئی زیادہ کامیاب نہیں ہوں۔ سوچتی ہوں بقیہ عمر کھیل کود میں گزار دوں، وہ تمام کھیل کھیلوں جو بچپن میں کھیلے تھے مگر مطلب اب سمجھ میں آیا جیسا کہ ” کوکلا چھَپاکی جمعرات آئی ہے، جیہڑا آگے پیچھے ویکھے اودھی شامت آئی ہے ۔”

نوٹ: اگر آپ کو یہ بلاگ پڑھ کر میرے دماغی توازن کے بارے میں کوئی بھی شک ہو رہا ہے تو کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ ضرور مد نظر رکھیں کہ یہ سطریں میں نے نگران وزیر اعظم کی پریس کانفرنس جو تا دم تحریر جاری ہے کو سنتے ہُوئے لکھی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے