سڑک سے یا کسی بھی جگہ سے گزر ہو اور راستے میں کوڑا یا کچرا نظر نہ آئے تو واقعتاً حیرت بھرا احساس ہوتا ہے کیونکہ ہم لوگ کچرے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں۔
کچھ روز پہلے کہیں جانے کا اتفاق ہوا تو اس جگہ پر کھڑا سویپر مسلسل سویپ کرتا رہا۔ خیر جگہ کافی صاف ہو گئ اور اس جگہ دو سے تین کوڑے دان بھی تھے۔ لیکن جیسے میں اپنا کام کر کے اسی راستے واپس آنے لگی تو یقین مانیں اس جگہ اتنی گندگی ہو گئ تھی کہ بندہ کہے کہ کسی نے اس کو مہینوں سے صاف نہیں کیا ہو۔ حالانکہ مجھے محض تین چار ہی گھنٹے لگے تھے۔
اگر کچرے یا صفائی کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے معلوم کرنا ہو یا رپورٹ تیار کرنی ہو تو جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ڈھونڈنا کوئی مشکل کام نہیں۔ پارک ،سڑک ، پکنک پوائنٹس، یہاں تک کہ ہسپتال اور تعلیمی ادارے بھی صفائی کے معیار پر پورا نہیں اترتے ۔
کوڑے دان کے اردگرد ہی اس قدر کچرا جمع ہوتا ہے کہ انسان حیران ہو جائیں کیونکہ کوڑے دان اس قدر بھرے ہوتے ہیں کہ کوڑا پورا ابل کر باہر آرہا ہوتا ہے یا تو کوڑا دان بلکل خالی ہوتا ہے اور کوڑا ساتھ ہی زمین پر پڑا ہوتا ہے کیونکہ کوڑے دان میں کوڑا ڈالنے کی زحمت کون کرے۔
چلئے مان لیتے ہیں کہ یہ سب حکومت کے کرنے کے کام ہیں لیکن کچھ تو آپ کو خود کے کرنے کے ہوتے ہیں نا۔

گلیاں آپ کا کوڑا دان تو نہیں؟ یہاں سے لوگ گزرتے ہیں،بچے کھیلتے ہیں، اسے صاف رکھنے میں آپ کا بھی تو فائدہ ہے، بس اتنا کریں کہ گھر کا کوڑا گلی میں پھینکنا بند کر دیجیئے صفائی رہے گی۔
چلیۓ اب آتے ہیں سنگین مسٔلے کی طرف، انسانوں کو سانس لینے کے لئے صاف ہوا تک میسر نہیں۔ سنا تو ہو گا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اس نصف ایمان کو ہم اپنے ہاتھوں سے ہی کھو رہے ہیں۔ سڑکیں، بازار، گلیاں، محلے سب ہی کوڑادان بنے ہوئے ہیں۔ آلودگی اتنی ہے کہ سانس لینا بھی کبھی کبھار مشکل ہوجاتا ہے۔
اس حوالے سے ایک ڈاکٹر سے بات کی اس نے بتایا کہ اس کچرے سے تعفن پھیلتا ہے ، جس سے ہوا آلودہ ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے ہپاٹایئٹس، ملیریا، ڈینگی، سانس، پھیپڑوں اور سینے کی مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
فضائی آلودگی کی بڑی وجہ یہی کچرے کا جا بجا پھینکنا ہے۔ جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ مصروف زندگی کی وجہ سے ڈسپوزل اشیا کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ پلاسٹک کا استعمال حد سے کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ اور اسی رفتار سے ہم کچرا بھی زیادہ کر رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پلاسٹک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ پولیتھین کے تھیلے، خالی بوتلیں اور ان کے ڈھکن اور کئی دوسری چیزیں جن میں پلاسٹک شامل ہوتا ہے آخر یہ جائیں گی کہاں؟
پلاسٹک نہایت کارآمد چیز ہے لیکن یہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ یہ سستا پڑتا ہے اس لئے اس کا استعمال بھی عام ہے۔ روز سڑکوں پر اور گلیوں میں بکھری پولیتھین کی تھیلیاں پڑی ہوتی ہیں۔ یہ آپ لو جھاڑیوں میں اٹکی، نالوں میں تیرتی اور گٹروں میں پھنسی بھی نظر آتی ہوں گی۔ یہ صرف گند ہی نہیں بلکہ زہر ہے ، جو آہستہ آہستہ ہمیں چاروں اطراف سے گھیرتا ہے۔ انسان ہوں یا جانور، آبی مخلوق ہوں یا پرندے سب ہی پلاسٹک کے زہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں تو پلاسٹک کے استعمال پر روک تھام شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ دیر کر دیتے بات سمجھنے میں۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ اس پلاسٹک کا آخر کریں گے کیا؟ کچرے میں پھینکیں گے نا؟ کچرا کہاں جائے گا؟ پلاسٹک مٹی میں گھلتا نہیں اور نا ہی پلاسٹک ری سائیکل ہو سکتا ہے اور نا ہی یہ کیمیکلز زمین میں جذب ہوتے ہیں۔ اب اگرکچرا زمین میں دبایا جائے تو یہ مٹی کو بھی زہریلا بنا دیتا ہے۔ اس مٹی میں اگنے والے پودے اور درخت بھی اس زہر سے آلودہ ہو جاتے ہیں اور اگر اس کچرے کو جلایا جائے تو فضا آلودہ ہو جاتی ہے۔ پلاسٹک کو زمین میں گھلنے کے لئے 100 سال لگ سکتے ہیں۔ ہے نا دہلادینے والی بات؟
دنیا بھر کے سمندروں میں پلاسٹک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں داخل ہوتا ہے۔ مچھلیاں اسے نگل رہی ہیں اور مر رہی ہیں۔

بس آپ اتنا ہی کر لیں کہ کوڑے کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈال دیں۔ نصف ایمان کو بچا لیں۔ آنے والی نسلیں آپ کی شکر گزار ہوں گی۔
کوڑے، کچرے کے ڈھیر کو ختم کرنے کے حوالے سے انفرادی و اجتماعی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا پر اس حوالے سے آگاہی مہم چلائی جاسکتی ہے۔ حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر سوشل ورک کرنے والی این جی اوز اور اپنے اپنے علاقوں کے افراد اس حوالے سے مل کر کام کریں تو دیرپا اثرات مرتب ہوں سکتے ہیں۔

ری سائیکلنگ کے ذریعے نہ صرف روزگار فراہم ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔ کوڑے کے ڈھیر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ری سائیکل کیا جاسکتا ہے۔ جس سے کافی حد تک اس مسٔلے سے چٹکارا پایا جا سکتا ہے۔