کچھ ہفتے پہلے اچھرہ میں ایک افسوسناک واقعہ رو نما ہوا، جہاں عوام کی جانب سے عربی کیلیگرافی والے کپڑے پہننے کی وجہ سے خاتون پر دھاوا بول دیا گیا۔ اس صورت حال پہ مختلف آراء سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک طبقہ اس واقعے کی وجہ مذہبی جنونیت بتاتا ہے جبکہ مذہبی طبقہ فخریہ طور پر اس واقعے کو جائز اور مذہب کی جیت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مذہبی طبقے کے اس رویئے کی وجہ سے مذہب کو آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے اور مذہب کے ناقدین کو بلا وجہ تنقید کا موقع مل رہا ہے۔
اس واقعے کو دیکھنے کا دوسرا پہلو بھی موجود ہے اور اس جیسے مسائل کو درستگی سے پرکھنے کا زاویہ بھی فراہم کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کیا پاکستانی معاشرے میں جذباتی اور پُر تشدد رویہ موجود نہیں ہے؟ کیا مذہبی جنونیت ہی ہمیں لڑنے اور مار پیٹ پر اکساتی ہے؟ ڈان نیوز کے مطابق 5 ستمبر، 2019 کو دسویں جماعت کے طالب حافظ حنین ایک نجی اسکول کے استاد کے تشدد کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ڈان نیوز کی ایک اور خبر کا حوالہ ہے کہ 2019 کے آخری ماہ میں والٹن روڈ پر دلہن کو شادی کے اگلے ہی دن اس کے شوہر کے بھائیوں نے تشدد کر کے قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی مثالیں ہیں جہاں پاکستانی معاشرے کی پُر تشدد سوچ واضح ہوتی ہے لیکن پھر بھی ہم اچھرہ والے واقعے کو مذہب کا رنگ دے رہے ہیں جبکہ کئی پہلوؤں پر غور و خوض اور کام کرنا باقی ہے کیونکہ مذہبی طبقے کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔
اس کی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں، جو اس مضمون کا حاصل ہے اور وہ وجہ خالصتاً معاشی ہے۔ اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ شکار کے دور میں جب انسان جنگلوں میں رہتا تھا تو اس کی تین بنیادی ضروریات پوری ہونا باقی تھیں اور انھی کی جستجو میں وہ ہر دن محنت کرتا، خوراک، حفاظت اور ٹھکانا۔ ان تینوں ضروریات کے پیش نظر انسان کا، خصوصی طور پر مرد کا مضبوط ہونا بہت ضروری تھا، اور یہ مضبوطی اس کے پُر تشدد رویئے سے عیاں ہوتی تھی۔ کیونکہ چاہے اپنی حفاظت کرنی ہو، یا خوراک کی ضرورت پوری کرنی ہو دونوں چیزوں کے لیے آس پاس کے جنگلی جانوروں کا مقابلہ کرنا ضروری تھا۔ جس کے لیئے جسمانی مضبوطی اور غصیلہ رویہ نہایت اہم تھا۔ چنانچہ انسان کا رویہ اس کے بقاء کی صورت حال کے پیش نظر وجود میں آتا ہے۔ انسان کا غصہ، اس کا جذباتی ہونا یا کبھی سوچ سمجھ کر، ٹھہراؤ کے ساتھ فیصلہ لینا کبھی کبھار اس کے معاشی حالات کی طرف بھی عندیہ دیتا ہے اور خاص کر عوام میں جب یکساں طور پر اشتعال پایا جائے تو یہ بڑے پیمانے پر انسان کی معاشی پستی کا ثبوت ہے۔
بہر حال اس معاشی پستی سے جنم لینے والے پُر تشدد رویئے کا حل بھی موجود ہے۔ جیسا کہ شکار کے بعد زراعت کا دور آیا تو انسان کی بقاء سے منسلک کافی سارے مسائل حل ہونے لگے۔ سب سے پہلے خوراک کی قلت کی مشکل کم ہوئی، ساتھ ہی کھانے کے وافر مقدار میں ہونے کے باعث اپنے لیے بھی بچتا اور تجارت کے لیے بھی جس سے کہ شہر وجود میں آئے اور شہروں کے وجود سے لوگ جنگلوں سے باہر نکل آئے اور با حفاظت شہروں میں قیام پزیر ہونے لگے، جس کا اثر لوگوں کے رویئے میں بھی چھلکنے لگا۔ زراعت کے بعد لوگوں کو سخت رویئے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ جن مسائل سے نمٹنے کے لیے سختی درکار تھی، وہ مسائل ختم ہو چکے تھے مگر وقتی طور پر۔
کیونکہ زراعت کے ابتدائی ادوار میں ایسی ٹیکنالوجی وجود میں نہیں آئی تھی جو زراعت کو مکمل طور پر کامیاب بنا سکے۔ موسم کی خرابی اور اس وجہ سے فصلوں کا تباہ ہونا تب بھی ایک مشکل تھی۔ جس کی وجہ سے شکار کا دور مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا اور ساتھ برقرار رہا۔ مگر صنعتی انقلاب نے زراعت سے منسلک کئی مسائل کو حل کر دیا،مصنوعی ادویات سے ہونے والا نقصان اپنی جگہ لیکن صنعتی ترقی کی وجہ سے زراعت کے شعبے میں کئی ایسے اقدامات ہوئے جن کی وجہ سے آج ہم سکون سے شہروں میں رہ رہے ہیں اور شکار پر مجبور نہیں۔
اگر انسان کی بقاء سے منسلک تمام ضروریات حل ہو چکی ہیں تو پھر ہماری عوام کیوں پُر تشدد رویئے کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی جبلت کا حصہ ہے۔ اس رویئے کو اس قدر مثالی سمجھا جاتا ہے کہ خصوصی طور پر کہا جاتا ہے کہ بارڈر پر سب سے اونچی ٹانگ ہمارے فوجی کی اٹھتی ہے۔ ایسی چیزوں پر ہندوستانی فخر کرتے نظر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کو ایسی جذباتی اقدار کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی بقاء کی ضروریات معاشرتی طور پر پوری ہو چکی ہیں اور جیسا کہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بھارت ایک صنعتی معیشت ہے۔ جبکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن پھر بھی اس کے معمولی فوائد بھی عوام کو میسر نہیں۔
ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے۔ جاگیردارانہ نظام کی لپیٹ میں جب تک معیشت رہے گی تب تک لوگوں میں جنونیت بھی قائم رہے گی، پھر کبھی آپ مذہب کو قصور وار ٹھہرائیں گے تو کبھی قوم کی تربیت کو لیکن الزام تراشی کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ جب تک اصل مسائل اور ان کی وجوہات کو سمجھا نہیں جاۓ گا۔ ہندوستان میں نہرو نے اصلاحات کی اور نتیجہ سامنے ہے۔ اگر چہ وہاں بھی تنگ نظر لوگ موجود ہیں لیکن پاکستان کے مقابلے میں وہ معاشرہ تشدد کو کم سراہتا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں ریاست نے اپنے لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صنعتی نظام متعارف کروایا، جس کے فوائد پوری قوم تک پہنچانے کی کوشش جاری ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک جاگیردارانہ نظام رائج ہے، جس کے اثرات آپ کو غریب عوام میں پُرتشدد رویوں کی صورت میں ملیں گے۔