قومی اسمبلی نے قائم مقام صدر ذولفقار علی بھٹو کا 12 اپریل کو پیش کیا گیا ایک بل 19 اپریل کو منظور کر لیا۔ یہ واقعہ 1973 میں پیش آیا تھا۔ یہی بل آئین کہلایا، جس کا اطلاق اسی سال چودہ اگست کو ہوا، اور اسی دن بھٹو صاحب نے وزیراعظم پاکستان کا حلف لیا اور فضل الہی چودھری صدر پاکستان بن گئے۔ اچھے وقتوں میں، اچھے سرکاری سکول سے تیسری جماعت کی سوشل اسٹڈیز میں پڑھا ہوا سبق ابھی تک یاد ہے۔ بعد میں ویسے سکول بھی برباد ہوئے اور لازمی مطالعہ پاکستان کی بے ہنگم شکل اور اسلام کی سیاسی تشریحات نے ہمارے ٹوٹے ہوئے وطن کی فکری ، سماجی اور ثقافتی وضع کو مزید توڑا کہ یہ محاذ اور مورچے بن گئے اور جنگ میں ٹوٹ پھوٹ ہی ہوتی ہے۔ ہر طرح کی عصبیت کو ہوا دی گئی، منافقت کو آسرا بنایا گیا ، جہاد کو ڈولارایزکیا گیا ، مذہبی اور لسانی تعصبات اور نفرتوں کی کھلم کھلا آبیاری ہوئی اور نجانے کیا کیا ہوا۔ غریب ، معصوم اور بے لوث کارکن نظریات کی قید میں رہے اور اشرافیہ طبقات ملک کے مفاد میں مفاہمت کرتے گئے۔
نجانے اس آئین کو جس کے 280 آرٹیکلز کے 7 بڑے حصّے ہیں، کتنوں نے پڑھا اورسمجھا ؟ لیکن اس کو مقدّس بھی بتایا گیا اور یہ بھی فرمایا گیا کہ یہ دراصل بے توقیر کاغذ کا ٹکڑا ہے۔ یہ معطل بھی ہوا اور غیر مؤثر بھی۔ اس میں درجنوں بار امندمنٹ ہوئی ہے، جس میں اٹھارویں ترمیم سب سے زیادہ معروف ہے۔ یہ وہی آئین ہے، جس میں صحت کا بطور بنیادی حق نہیں ہے۔ صحت میں ذہنی اور تولیدی صحت بھی شامل ہوتی ہے۔ شائد اس وجہ سے بھی ہمارے ملک میں حکمرانوں اور بیورو کرٹس کی جذباتی اور نفسیاتی صحت کے بارے میں کوئی تشویش نہیں پائی جاتی۔ بالکل اسی طرح یوتھ ، خواتین اور ماؤں کی تولیدی صحت اور حقوق کے حوالے سے نہ تو مناسب بجٹ ہے، نہ کوئی ٹھوس فکری بحث ۔ ہاں اشتہار بازی اور شعبدہ بازی ہر جگہ اور ہر معاملے میں موجود ہے۔
میرے خیرخواہ بھی درجنوں بار مجھے سمجھا چکے ہیں کہ میں مشکل امور پر مضامین نہ لکھا کروں ۔ اردو زبان بھی کافی عجیب ہے۔ مثال کے طور پر سمجھانے کے ساتھ اکثر بجھانے کا قافیہ بھی ہوتا ہے۔ خیر ہمیں اس سے کیا ؟ آسان باتیں کرتے ہیں۔ گلیمر کی شوبزکی تفریح کی اور یہ غیر سنجیدہ بھی نہیں۔ ان کو ہلکا نہیں کہنا چاہیئے۔
انیس سو تہتر میں نہ صرف پاکستان کو 1962 کے بعد ایک اور نیا اور متفقہ نیا آئین ملا بلکہ اسی سال 10 اگست کو بروز جمعہ ایک بہت کامیاب فلم کا بھی افتتاح ہوا، جس کا نام تھا "آس” ، علی سفیان آفاقی کی "آس” جس نے کئی ایوارڈز حاصل کئے۔ اس زمانے میں روز جمعہ کو مبارک مان کر فلم ریلیز ہوتی تھے ناکہ احتجاج۔ اس فلم کا ایک گانا جو رونا لیلیٰ نے گایا تھا (۔1973ء کا سال رونا لیلیٰ ٰ کا پاکستان میں آخری سال تھا) اور اس گانے کو شبنم پر فلمایا گیا تھا۔ بہت ہٹ ہوا تھا۔ اس گانے کی موسیقی ترتیب دی تھی نثار بزمی نے اور بول لکھےتھے 35 سال کی عمر میں، 1982 میں رخصت ہوجانے والے نامور شاعر تسلیم فاضلی، وہ کیا گانا تھا۔ آپ بھی سنیئے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا اور دیکھیں گے تو جھومیں گے۔
میری مرضی میں گاؤں گی، میں پائل چھن چھناون گی، کوئی سو نہ سکے گا ، ہائے دن ہو نہ سکے گا ہائے۔ رت جگا ایسا مناوں گی، تقاضا وقت کا یہ ہے کہ یہ گانا پسند کرلو۔ اگر یہ کام مشکل ہے توا پنے کان بند کر لو۔