کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی میں تعلیم اور نوجوان طلبہ کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ معیاری تعلیم قوموں کی ترقی اور غیر معیاری تعلیم قوموں کی تنزلی کا سبب بنتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ملکی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاقی تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقتدار کا خیال رکھ سکے۔
تعلیمی اداروں کی بھی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قوم کے نوجوانوں کو امن وآشتی کے اعلیٰ آدرشوں سے روشناس کرواتے ہوئے قومی سطح پر امن و امان کے قیام کی ذمہ داری کا فریضہ سنبھالیں اور اپنے اداروں سے فارغ التحصیل اور زیر تعلیم طلبہ میں امن و برداشت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے اپنا بہترین کردار نبھائیں۔
کیوں کہ کسی بھی قوم کے مستحکم ہونے میں اس کے نوجوانوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ ان میں ٹھہراؤ پیدا کرنا سماجی اور اخلاقی تربیت اور صرف ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر امن قائم رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی سوجھ بوجھ پیدا کرنا تعلیمی اداروں کا فریضہ ہوتا ہے۔
معاشرے میں امن، برداشت، استحکام جیسے رویوں کو فروغ دینے کے لیے اگر یونیورسٹی سطح پر ہی بہتر اقدامات کا سہارا لیا جائے اور نوجوان طلبہ کے نوخیز ذہنوں کو توازن و برداشت کی اعلیٰ اقدار کا سبق سکھا دیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یونیورسٹی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبا وطالبات معاشرتی، سماجی اور مذہبی سفیروں کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کے مختلف طبقات اور مذاہب کے مابین ہم آہنگی کا وسیع تر وسیلہ بن جائیں۔ ملک کی معاشی ترقی کے لئے بھی امن و استحکام کی از حد ضرورت ہے کیونکہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کے لئے جہاں بہت سی شرائط کی ضرورت ہوتی ہے وہاں پر ایک بنیادی شرط ملکی امن بھی ہے۔ اور تمام مذاہب کی ہم آہنگی ہی کسی بھی ریاست میں امن کا کردار ادا کرسکتی ہے۔
یونیورسٹیوں کا فرض صرف اور صرف اعلیٰ تعلیم کی فراہمی ہی نہیں بلکہ علمی و سماجی رہنمائی کے ذریعے طلبہ کی ایسی ذہن سازی ہے جو انہیں سماجی و معاشرتی شعور سے بہرہ ور کرتے ہوئے انہیں انسانیت کی خدمت کی جانب مائل کر دے۔ مختلف موضوعات پر مکالمہ و مباحثہ کی موجودگی مذہبی و طبقاتی جنگ کو ختم کرنے اور دہشت گردی جیسے ناسور سے چھٹکارا حاصل کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔
بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت، توازن، طبقاتی مساوات، بہتر روزگار ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی معاشرے کو جنت نظیر بنانے کے لئے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہمارے دانشوروں اور اساتذہ کا اولین فریضہ یہی ہے کہ وہ اپنے زیر تربیت طلبہ کو ان اعلیٰ سماجی اقدار سے روشناس کروانے کی از حد کوشش کریں جو مستقبل میں ایک متوازن معاشرہ کی تشکیل کے لئے بہترین ثابت ہوں۔تعلیمی اداروں کے اندر اس تربیتی عمل اور تنظیم سازی میں طلبہ انجمنیں یا طلبہ نظیمیں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
طلبہ ایسوسی ایشن یعنی طلبا کی ایسی تنظیم جس کا مقصد سماجی، تنظیمی سرگرمیاں، نمائندگی اور رکنیت کے لیے تدریسی عملے کی تائید کا قائم رکھنا ہے۔کئی کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہائی اسکولوں میں ایسی طلبہایسوسی ایشن قائم کی جاتی ہیں۔اور بعض اعلٰی تعلیمی اداروں میں انجمن ہائے طلبہ کو کیمپس ہی میں الگ عمارتیں فراہم ہوتی ہیں۔
ریاست ہائے متحدہ امریکا میں انجمن طلبہ سے اکثر وہ ڈھانچے کی عمارت مراد ہوتی ہے جو یونیورسٹی کی ملکیت میں ہوتی ہے اور اس کا مقصد طلبہ کو کسی انتظامی رکاوٹ کے بغیر خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اسے اسٹوڈنٹ ایکٹیویٹی سنٹر کہا جاتا ہے۔ایسوسی ایشن آف کالج یونین انٹرنیشنل سینکڑوں کے تنظیمی ارکان رکھتی ہے۔جبکہ امریکا سے باہر انجمن طلبہ سے مراد ایک نمائندہ تنظیم ہے جو اسٹوڈنٹ ایکٹیویٹی سنٹر سے مختلف ہے۔
پاکستان میں طلبہ کی بہت ساری تنظمیں فعال ہیں جو امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اپنا بہترین کرار ادا کر رہی ہیں۔ جن میں چند درج ذیل ہیں۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن:
11 جون 1978ء کو پاکستان کی سب سے بڑی درسگاہوں میں ایک نمایاں درسگاہ جامعہ کراچی میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی الطاف حسین ہیں، جنہوں نے بعد میں متحدہ قومی موومنٹ نامی سیاسی جماعت بنائی۔ اس طلبہ تنظیم کو پاکستان کی دوسری تمام طلبہ تنظیموں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ دوسری طلبہ تنظیموں کی طرح کسی سیاسی جماعت کی کوکھ سے وجود میں نہیں آئی بلکہ خود اس طلبہ تنظیم کے اندر سے پاکستان کی ایک اہم سیاسی جماعت نے جنم لیا۔
یہ سیاسی جماعت شروع میں مہاجر قومی موومنٹ تھی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوئی اور ساتھ ہی مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن بھی متحدہ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن میں تبدیل ہو گئی۔اگرچہ کیپس تصادموں میں ملوث ہونے کا الزام لگتا رہا ہے تاہم مجموعی طور پر یہ طلبہ تنظیم تمام مذہبی جماعتوں کے لیے حقوق کی آواز اٹھاتی ہے اور امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔
اسلامی جمعیت طلبہ، طلبہ کی ایک ایسی تنظیم ہے جو پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلامی اقدار کی ترویج کے لیے کوشاں ہے جس کا قیام 23 دسمبر 1947ء کو عمل میں آیا تھا۔ اگرچہ مختلف درسگاہوں میں تقریبات اور دیگر طلبہ سرگرمیوں کو لے کر یہ تنظیم دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ تصادموں میں شریک رہی ہے تاہم اس طلبہ تنظیم نے اسلامی اقدار کے اصولوں پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے تمام مذاہب کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
انجمن طلبہ اسلام
انجمن طلبہ اسلام مسلم طلبہ کی غیر سیاسی طلبہ تنظیم ہے، جو نوجوانوں میں اسلام اور پاکستان کی محبت اور دفاع کے لیے کام کرتی ہے۔نوجوانوں میں امن آشتی مساوات اور بین المذہبی ہم آہنگی کے لئے شعور اجاگر کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن (آئی ایس ایف)
پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ طلبہ تنظیم انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط بازو ہے۔ یہ تنظیم پاکستان کے تمام صوبوں میں کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم طلبہ کو سیاست اور تعلیم دونوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ اس تنظیم کا طلبہ میں بہت زیادہ اثر رسوخ پچھلے کچھ سالوں میں بہت بڑھ چکا ہے۔
اس کے بانی ملک مزمل جا نگلہ ہیں۔اس تنظیم کے زیر نگرانی نوجوان سیاسی اور مذہبی شعور سے آگاہی حاصل کر کے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پہ اپنے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔ اور بین المذاہب ہم آہنگی اور امن قایم کرنے میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان:
غلب? اسلام اور استحکام پاکستان جیسے عظیم نصب العین کی حامل ’’مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان‘‘ ایک ملک گیر خود مختارطلبہ تنظیم ہے جو دینی وعصری تعلیمی اداروں میں یکساں طور پر وجود رکھتی ہے، MSOپاکستان کی بنیاد11جنوری 2001ء کو ملک و ملت کے چند صالح،تعلیم یافتہ،محب وطن،باخبراور مخلص نوجوانوں نے رکھی تھی، اس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں وطن عزیز پاکستان کو ایک مستحکم اورترقی یافتہ اسلامی فلاحی مملکت بنانا شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھMSO پاکستان ملکی ترقی کے دو بنیادی ستون ’’ملّا‘‘ اور ’’مسٹر‘‘ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور دوری کو مٹاتے ہوئے ان کو ایک لڑی میں پروناچاہتی ہے تاکہ وہ صرف اور صرف دین اسلام کے غلبہ اور استحکام پاکستان کے لئے ایک پلیٹ فارم پر متحد و متفق ہوجائیں۔
دینی و عصری تعلیمی اداروں میں یکساں وجود رکھنے کی وجہ سے MSOپاکستان منظم و فعال سرگرمیاں سرانجام دیتی ہے،قومی اہمیت کے حامل ایام ہوں یا اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھنے والے دن،مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی آواز اٹھانا ہویاکسی قومی و بین الاقوامی ایشو پرصدائے احتجاج،تعلیم و درسگاہ کے حوالے سے شعور و آگاہی ہویا طلبہ میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنے کے لیے ہم نصابی مثبت سرگرمیاں،تحریری و تقریری مقابلے ہوں یا کھیل کے میدان میں نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے موقع فراہم کرنا،مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو ملکی سطح پر تمام طلبہ تنظیموں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن:
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن طلبا ونوجوانوں کی متحرک اور فعال تنظیم ہے۔یہ بھی نظریاتی نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے جو تمام مذاہب کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں ہے۔
مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ:
تحریک منہاج القرآن کے زیرسایہ ملک بھر میں طلبہ کی فلاح و بہبود محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ملک گیر سطح پر یونیورسٹیز،کالجز اور اسکولوں میں سرگرمِ عمل ہے۔مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ علم امن قدم قدم کے سلوگن کے ساتھ وجود میں آئی۔مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ احیائے اسلام، استحکامِ پاکستان اور طلبہ حقوق کے تحفظ کے لیے مصروفِ عمل ہے۔مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ نے طلبہ کی اخلاقی و رُوحانی تربیت، کردار سازی اور تعمیرِ شخصیت کے لیے ہمیشہ بے پناہ کردار ادا کیا ہے۔
پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن:
پاکستان پیپلز پارٹی سے ملحق طلبہ کی تنظیم ہے۔ یہ پاکستان کی چیدہ چیدہ طلباء تنظیمیں ہیں جو ملکی سطح پر بین الاقوامی مذہبی ہم آہنگی اور امن کے لیے کام کر رہی ہیں اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔
جب تک ملک کے نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی شعور بیدار نہیں ہو گا اور تمام مذاھب میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہوتی ہم بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو نہیں منوا سکتے۔اس لیے ہمیں اپنی طلباء تنظیموں کی بین المذاہب ہم آہنگی کی مثبت کاوشوں کو سراہنا چاہئے اور جو کمی کوتاہی ہے اس کی نشان دہی کرنی چاہیے کیوں کہ جب سب لوگ مل کر تمام تضادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی خوشحالی کے لیے کام کریں گے تو ملک کی تعمیر و ترقی کا عمل پروان چڑھ سکے گا اور ملک امن و آشتی کا گہوارہ بن سکے گا۔
انجمن طلبہ اسلام، بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن، امامیہ سٹوڈنٹ آرگنازیشن سمیت اگر اقلیتی برادری کی نمائندہ کوئی طلبہ تنظیم ہے تو اسے بھی ایڈ کریں۔ بہت شکریہ