زیابیطس کیا ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے, کیا یہ واقعی خاموش موت ہے, سمیرہ کہتی ہیں کہ جب وہ میٹرک کی طالب علم تھیں تو ان کے والد کی وفات ہو گئے۔ والد کی وفات کا انہیں بے حد صدمہ تھا، جس کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر ہائی رہتا تھا۔ معصومہ بتاتی ہیں کہ جب وہ ایف اے میں تھیں تو ایک بار وہ بے ہوش ہو گئی، ان کا کہنا ہے کہ انہیں 20 منٹ تک ہوش نہیں آیا تب انہیں پہلی بار ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کا شوگر بہت کم ہو گیا تھا اس لیے وہ بے ہوش ہوگی تھیں۔
سمیرا کہتی ہیں کیونکہ انہوں نےاس بات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا، جب وہ یونیورسٹی کے سیکنڈ سمسٹر میں تھی ان کی طبیعت بہت خراب رہتی تھی، وہ بے ہوش ہو جاتی تھی، ان کا جسم کانپتا تھا تب ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ شوگر کی مریضہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹریس اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ شوگر کی مریضہ بن گئی۔ ان کو شوگر ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں۔ سمیرا بتاتی ہیں کہ شوگر کی وجہ سے بہت سی من پسند چیزیں نہیں کھا سکتیں۔ جن کو کھانے کا ان کا دل کرتا ہے۔ سمیرا ا کہتی ہیں کہ جب انہیں اس بات کا پتہ چلا کہ وہ شوگر میں مبتلا ہوئیں تو بہت روئیں، یہ ایک ایسا مرض ہے جو انہیں اندر ہی اندر سے کھا رہا ہے۔
سمیرہ بتاتی ہیں کہ جب تک وہ انسولین نہ لگائے ان کی شوگر کنٹرول نہیں ہوتی ان کی ٹانگوں میں درد ہوتا ہے اور خوراک بھی ٹھیک سے ہضم نہیں ہوتی۔
زیابیطس کی دو اقسام ہیں۔ ٹائپ ون میں انسولین نہیں بنتی اور یہ عموما نوجوانوں میں ہوتی ہے ۔ ٹائپ ٹو میں انسولین کم بنتی ہے ،ایسا عموما بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ زیابیطس کی کچھ علامات ہیں۔ جس میں وزن کا کم ہونا، زخموں کا جلدی ٹھیک نہ ہونا اور معمول سے زیادہ پیشاب آنا شامل ہے۔
میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر جہانگیر کہتے ہیں کہ ٹائپ ون زیابیطس عموما بچپن یا جوانی میں ہو جاتی ہے۔اس کا تعلق جنیاتی مادوں پر ہوتا ہے اور کھانے پینے سے بھی ہوتا ہے اگر ذیابیطس خاندان میں کسی فراد کو ہو جیسا کہ نانا یا دادا وغیرہ تو یہ بات ممکن ہے کہ آگے سے نواسا یا پوتا وغیرہ کو بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ڈائٹ کنٹرول کریں۔ جب انسولین لگائیں تو اپنا دھیان رکھیں ، روزانہ ورزش کریں۔
ڈاکٹر جہانگیر بتاتے ہیں کہ نئی نسل کو کوئی بھی غم یا ڈپریشن ہو تو وہ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتی، بعض اوقات بہت زیادہ ڈپریشن بھی شوگر کی وجہ بن سکتی ہے ۔ خواتین زیادہ تر شوگر کی مریضہ اس لیے ہوتی ہیں کیونکہ ڈپریشن زیادہ لیتی ہیں۔
دنیا میں 239.7 لوگ ایسے ہیں، جن کو شوگر کی آگاہی ہی نہیں، ان کا تناسب ملک اور علاقے کے لحاظ سے مختلف ہے۔
اعجاز جو ایک الیکٹریشن ہے اعجاز کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا بھی ذیابیطس کا مریض تھا۔ ان کا بیٹا بھی الیکٹریشن کا کام کرتا تھا۔ زیابیطس کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر کسی کے گھر میں کام کرنے جاتا تو بے ہوش ہو جاتا۔ بیٹے کی اس حالت کی وجہ سے ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ نشہ کرنا شروع ہو گیا ہے۔ ہم نے اسے گھر سے نکال دیا۔ اعجاز کہتے ہیں کہ اسی کشمکش میں میرے بیٹے نے پانچ سال گزارے اور ان کا بیٹا دن بدن کمزور ہو گیا۔
اعجاز بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا اسی طرح ایک دن پھر بے ہوش ہوا تو اسے کئی گھنٹوں تک ہوش نہیں آیا۔ ہم نے اسے ایک ڈاکٹر کو چیک کروایا تو اس نے بتایا کہ ان کا شوگر بہت زیادہ کم ہے، اگر آپ انہیں ٹائم پر نہیں لے کر آتے تو شاید ان کے گردے فیل ہو جاتے۔ اعجاز کہتے ہیں کہ زیابیطس سے ان کا بیٹا پانچ سال لڑتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ گھر والوں کے تعنے بھی برداشت کیے۔ اعجاز کہتے ہیں کہ ذیابیطس کی لا علمی نے ان کے بیٹے کو بہت زیادہ رسوا کیا، اب وہ انسولین لگاتا ہے اور اب وہ پہلے سے بہتر ہے۔
بین الاقوامی زیابیطس فیڈریشن کے مطابق 2022 میں پاکستان میں 26.7 فیصد با لغ افراد زیابیطس سے متاثر ہوئے ہیں، جن کےکیسز کی کل تعداد تقریبا 33000000 ہے۔
پاکستان میں زیابیطس کی شرح 2016 میں 11.77 فیصد تھی ۔2018 میں 16.98 فیصد اور 2019 میں 17.1 فیصد تھی۔
زیابیطس کی عالمی تنظیم کے مطابق 2021 میں پاکستان میں بالغ افراد کی تعداد سوا تین کروڑ ہیں اور پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد شوگر کا مر یض ہے۔
ملک میں پانچ ملین افراد 25 سال کے ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو ان کی تعداد 2025 میں 14.5 ملین تک ہو جائے گی۔ ان کے مطابق پاکستان میں 10 فیصد افراد ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہیں۔
انٹرنیشنل لائبریری میڈیسن کے مطابق جب کوئی انسان ڈپریشن یا بے چینی کا شکار ہوتا ہے، اس کے endocrine hormones مکمل طور پر کام نہیں کر پاتے ، جس کی وجہ سے اس کے پینکریاز انسولین خارج نہیں کرتے اور وہ انسان شوگر کا مریض بن جاتا ہے۔