غزہ کی صورتحال‘ مخالفانہ نکتہ نظر اور یوم القدس

(یوم القدس 5 اپریل کی مناسبت سے تحریر)

      جب سے حماس نے اسرائیلی علاقوں پر حملہ کیا ہے اور اپنی فتح کا فاتحانہ اعلان کیا ہے تب سے اسرائیلی‘ امریکی اور یورپی لابی دنیا بھر میں اپنا خاص نکتہ نظر پھیلا رہی ہے جس سے مسلم عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔ یہ تینوں لابیاں غزہ کے متاثرین اور شہداء کے مقابلے میں اسرائیلی فوجیوں‘ اسرائیلی املاک اور اسرائیلی عوام کے ہونے والے نقصان کو اجاگر کرکے یہ تاثر پھیلا رہی ہیں کہ نقصان ایک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہو رہا ہے۔ یہ لابیاں حماس اور دوسری سرگرم تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر اسرائیلی رد عمل کی ذمہ دار ی انہی پر ڈال رہی ہیں اور دنیا کو بتا رہی ہیں کہ حماس وغیرہ دہشت گرد گروہ ہیں جو خفیہ اور چھاپہ مار کاروائیاں کرکے جہاں اسرائیلی افواج کا بھاری نقصان کرتی ہیں وہاں اسرائیلی عوام اور املاک کو بھی نشانہ بناتی ہیں۔

      اسی طرح یہ لابیاں دنیا بھر کے ممالک بالخصوص عالمی اداروں کو یہ بات مسلسل باور کرارہی ہیں کہ فلسطینی عوام اور عوامی املاک کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری بھی حماس وغیرہ پر ہے کیونکہ ان کے سرگرم اراکین عوامی رہائشی علاقوں میں پناہ لے لیتے ہیں اور وہیں سے اپنے چھاپہ مار کاروائیاں کرتے ہیں جبکہ فلسطینی عوام ان کی یعنی حماس وغیرہ کی مکمل حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنا ہیرو اور نجات دہندہ شمار کرتے ہیں۔ لہذا ایسی صورتحال میں اسرائیل اپنی سرحدوں اور فوج و عوام کی حفاظت کے لیے حماس وغیرہ کے خلاف کاروائیاں کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جس کی زد میں لامحالہ طور پر فلسطینی عوام بھی آجاتے ہیں۔ جس کی ذمہ داری اسرائیلی افواج پر نہیں بلکہ حماس وغیرہ پر عائد ہوتی ہے۔

      اسی طرح یہ لابیاں حماس کی تخلیق کو اسرائیل کی کاروائی قرار دیتی ہیں اور ان کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل نے ہی اپنی سیاسی ضرورت اور فلسطینی کاز کمزور کرنے کے لیے حماس کی تشکیل کروائی اور مکمل فنڈنگ کرکے فلسطین کی سیاسی قیادت کے خلاف پروپیگنڈہ حماس کے ذریعے کرایا لیکن بعد میں (بالخصوص احمد یاسین اور یاسر عرفات کی وفات کے بعد) یہی حماس اسرائیلی کیمپ سے نکل کر ایرانی کیمپ میں چلی گئی اور ایران کی پشت پناہی کے ساتھ اسرائیل کے خلاف کاروائیاں شروع کردیں۔ اس پر اسرائیل نے رد عمل شدید کردیا۔

       ان لابیوں کا کہنا ہے کہ حماس نے حالیہ بڑا حملہ بھی ایران کی شہہ پر کیا ہے۔ جس کے بعد ایران پیچھے ہٹ گیا ہے اب جتنا بھی نقصان ہو رہا ہے اس پر ایران خاموش ہے حالانکہ اگر ایران واقعی فلسطینی عوام کا حامی اور اسرائیل کا دشمن ہے تو اسے اسرائیل کے خلاف حماس اور حزب اللہ کے ذریعے ویسے ہی جوابی حملے کرانے چاہئیں جیسے اسرائیل فلسطین کے اندر گھُس کر حملے کر رہا ہے لیکن ایران نے فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ جنگ چھیڑ کے پیچھے ہٹ گیاہے جس کے سبب اب فلسطینی عوام مارے جارہے ہیں اور کوئی ان کا دفاع کرنے والا نہیں ہے۔ شام میں ایرانی سفارت خانے پر حالیہ حملے کے بعد یہ پروپیگنڈہ مزید تیز ہو گیا ہے کہ تل ابیب کو نشانے پر رکھنے والے عراق‘ شام اور فلسطین و لبنان میں اپنے سفارت خانوں‘ سفارت کاروں اور مفادات کا تحفظ نہیں کر سکے جس کے سبب اسرائیل اور امریکہ کو اتنی جرات ہو رہی ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں گُھس کر ایرانی شخصیات کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

      ظلم یہ ہے کہ یورپی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کے اکثر حکمران اس پروپیگنڈے کا شکار ہونے کی وجہ سے غزہ کے لیے آواز تک نہیں اٹھا رہے۔ اسی طرح یورپی عوام سے زیادہ عرب عوام بھی تقریباً اسی قسم کی سرمہری اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جس سے غزہ کے مظلومین کی مظلومیت صحیح معنوں میں پہنچ نہیں پا رہی۔ انہی لابیوں کے پروردہ تکفیری عناصر تقریباً ہر مسلم ملک میں موجود ہیں جو غزہ کے معاملے میں مسلسل ایران کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اور غزہ میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی شہادت کا ذمہ دار حماس اور ایران کو قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلم عوام کا ایک اچھا خاصہ طبقہ ان تکفیریوں کی باتوں میں آجاتا ہے اور ایران دشمنی میں فلسطین کے مظلوموں اور غزہ کی شہداء کو نظر انداز کردیتا ہے۔

      اس تمام منظر نامے میں یوم القدس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ گذشتہ چار دہائیوں میں آنے والے ہر سال میں ہی یوم القدس کے موقع پر فلسطین کے تازہ حالات اور اسرائیلی مظالم کی کیفیت سے دنیا بھر کے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے اور انسانی ضمیر کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں کا ضمیر جھنجھوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سال چونکہ یوم القدس سے پہلے غزہ کا المناک انسانی المیہ درپیش ہے اس لئے یوم القدس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل نے جس طرح گذشتہ چھ ماہ سے فلسطینی عوام کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے آئے روز ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر معصوم بچوں کو موت کی نیند سلایا جارہا ہے جس سے فلسطینیوں کی تیزی سے نسل کشی ہو رہی ہے اور بنیادی انفراسٹرکچر تباہ کیا جارہا ہے اس سے واضح لگ رہا ہے کہ اسرائیل بہت تیزی سے فلسطینیوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں یا فلسطینی اپنا وطن چھوڑ کر مختلف ممالک کے پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہو جائیں یا پھر غلاموں کی طرح اسرائیلی تسلط قبول کرکے باقی زندگی اسرائیلی فوجیوں کے بوٹوں کا نشانہ بنے رہیں۔

      اس سال یعنی 2024 ء میں آنے والے یوم القدس پر بھی حالات گذشتہ سے بدتر ہیں۔ قبلہ اول آج بھی صیہونی تسلط میں ہے اور مسجد اقصٰی آج بھی اسلام کا مرکز بننے کی منتظر ہے۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر فلسطینی عوام ویسے ہی اسرائیلی اور صیہونی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر مسلم حکمران بالخصوص عرب حکمران اسرائیل کے ساتھ دوستی نبھا کر غزہ اور فلسطین کے معصوم بچوں کے قاتلوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر سارے اسلامی ممالک کے حکمران اسرائیل اور امریکہ کو ان کے انسانیت سوز مظالم سے باز نہیں رکھ سکے۔ اس سال بھی یوم القد س کے موقع پر عرب لیگ اسی جمود کا شکار ہے جو گذشتہ چار دہائیوں سے مسلط تھا۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم یعنی او آئی سی خوابِ غفلت میں مدہوش ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ پیش کرنے میں مصلحت کا شکار ہے۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر اقوام متحدہ‘ یورپی ممالک اور امریکہ و اسرائیل کے دباو تلے سانس لے رہی ہیں جہاں فلسطین کی حمایت کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔

اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر سلامتی کونسل امریکہ اور اسرائیل کے ویٹوپاور کی زد میں ہے جہاں فلسطینی عوام کے ہزاروں شہداء کا خون اور شہداء کے ورثاء کی آہیں ایک قراداد کو ویٹو کرنے تلے دب جاتی ہیں۔ اس سال بھی یوم القدس کے موقع پر حرمِ کعبہ سے لے کر لال مسجد تک کہیں سے اسرائیل و امریکہ کے خلاف اور غزہ و فلسطین کے حق میں جرات مندانہ آواز بلند ہونے کی کوئی امید نہیں نظر آرہی۔

      مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس سال یوم القدس کے موقع پر مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں کیا جائے گا؟ اور ظالموں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا جائے گا؟ اپنی توان اور بساط میں رہ کر اس سال بھی یوم القدس گذشتہ سالوں سے زیادہ جوش و جذبے اور عزم و استقلال سے منایا جائے گا۔ اس سال بھی جمعہ کے خطبات میں عوام کو فلسطین کے تازہ حالات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اس سال بھی سیمینارز اور کانفرنسوں کے ذریعے سیاسی و مذہبی و سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں تک غزہ اور بیت المقدس کا مقدمہ رکھا جائے گا۔ اس سال بھی عوامی احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعے پاکستان کے گلی کوچوں میں اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا جبکہ فلسطینی مظلومین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جائے۔

      سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں یوم القدس کے انعقاد کا اعلان رہبر کبیر حضرت امام خمینیؒ نے کیا تھا اور پاکستان میں ان کے نمائندے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر ہر سال یوم القدس منایا جاتا ہے جس میں بلاتفریق مذہب و مسلک تمام عوام شریک ہوتے ہیں۔ مذہبی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین و کارکنان بھی اس احتجاج کا حصہ ہوتے ہیں۔ مختلف تنظیمیں اپنے اپنے روٹ اور اپنے اپنے انداز سے یوم القدس کے پروگراموں کا انعقاد کرتی ہیں جس میں لاکھوں عوام اسرائیل و امریکہ سے اپنی نفرت اور غزہ و فلسطین اور قبلہ اول و بیت المقدس سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سال یوم القدس 5 اپریل بروز جمعہ منایا جائے گا۔پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبوں میں یوم القدس کے حوالے سے سرگرمیاں سامنے آئیں گی۔

      وقت آ گیا ہے کہ مسلم حکمران اپنے عوام کی غالب اکثریت کے جذبات سمجھ کر ان کا لحاظ رکھیں اور عالمی سطح ہر فلسطین کا مسئلہ اٹھائیں۔ وقت آگیا ہے کہ مسلم عوام یورپی اور امریکی و اسرائیلی پروپیگنڈے کا شکار ہوئے بغیر پوری طاقت اور پوری وحدت سے غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور ان کی عملی پشت پناہی کریں۔ وقت آگیا ہے اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کو اس کے مظالم سے روکا جائے ورنہ ایران‘ شام‘ لبنان‘ یمن سمیت تمام حریت پسند اب خود قیام کریں او ر ایسے منظم اقدامات کا آغاز کریں جس کے بعد ان اقدامات کا انجام اسرائیل کی نابودی پر منتج ہو۔ وقت آگیا ہے کہ دفاعی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر چڑھائی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ورنہ آج غزہ کی باری ہے تو کل پاکستان یا ایران یا سعودی عرب یا ترکی و مصر کی باری ہوگی۔

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے