پاکستان کی “آزاد” سیاست

سیاست بڑی ظالم چیز ہے، بقول ایک دوست کے کہ سیاست میں دوستیاں نہیں، صرف مفادات ہوتے ہیں. اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو ہی دیکھ لیجیئے کہ ساری زندگی ایک دوسرے کی مخالفت کے نام پہ ووٹ لیکر 2022 سے حکومت میں حریف کی بجائے ایک دوسرے کے حلیف بنے ہوئے ہیں۔ زرداری صاحب کو لاڑکانہ کی گلیوں میں گھسیٹنے سے لے کر ، ہاتھ جوڑ کر ایوان صدر کے تخت پہ بٹھانے کی عجب کہانی بھی اسی مفادات کی سیاست کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس مرتبہ بہت سارے کمالات فارم 47 کے ذریعے ہوئے اور جیتنے والے ہار گئے اور ہارے ہوئے جیت گئے، پھر ہارے ہوئے لوگوں نے مل کر حکومت بنائی اور پھر انہیں ہارے ہوئے لوگوں نے وزیر اعظم، صدر، اسپیکر اور ڈپٹی اسپکیر قومی اسمبلی کے عہدے بھی آپس میں بانٹے اور مریم نواز کو وزیر اعلی پنجاب بھی بنوایا۔ آپ بہت جلد یوسف رضا گیلانی یاکسی اور کو چیئرمین سینیٹ بھی بنتا ہوا دیکھیں گے۔ لیکن افسوس کہ میاں نواز شریف وزیراعظم نہ بن سکے اور نہ ہی اسحٰق ڈار وزیر خزانہ، نواز شریف کی کچن کابینہ ٹیم کی اکثریت وزیر تو دور کی بات الیکشن تک نہ جیت پائی اور یقینًا وہ کچن کابینہ سخت مایوس اور دل برداشتہ بھی ہے، اسلئے نہیں کہ وہ الیکشن ہار گئے بلکہ اسلئے کہ انہیں بھی اوروں کی طرح فارم 47کے بل بوتے پہ کیوں نہیں جتوایا گیا۔۔؟اب اس سے ایک بات تو بلکل عیاں ہوگئی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس میاں نواز شریف کیلئے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور مریم نواز کو بھی “اچھے بچوں” کی طرح رہنا ہوگا ورنہ انکی کرسی خطرے میں پڑ سکتی ہے! تو پھر شیخ رشید کی بات تو سچ ثابت ہوتی نا کہ نون میں سے شِین نکلے گی۔۔!

ایک طرف میاں نواز شریف نے مبینہ ڈیل کے ذریعے اپنے اور اپنے بچوں کے پاکستان کے “تیز ترین” نظام انصاف کے ذریعے تمام مقدمے ختم کروانے میں کامیاب تو گئے لیکن دوسری جانب اپنی سیاسی قبر پہ مٹی بھی خود ہی ڈال دی اور اب وہ فقط پاکستان میں ٹائم ہی پاس کر رہے ہیں۔۔!

ایک اور لاجواب کمال ہم نے حالیہ سینیٹ انتخابات میں دیکھا کہ چار “باکمال” شخصیات سینیٹ انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوار کے طور پہ نہ صرف جیتے بلکہ ان میں سے دو حضرات تو ملک کی دو اہم ترین وزارتوں کے بھی حقدار ٹھہرے، ایک وزیر خزانہ تو دوسرا وزیر داخلہ، وہ الگ بات ہے کہ وزیر داخلہ صاحب کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔۔! اور اس بات میں بھی کوئی بعید نہیں ہوگی کہ باقی کے دو “آزاد” سینیٹر حضرات بھی بہت جلد اعلی عہدوں پہ فائز ہوجائیں گے۔

ان آزاد نو “منتخب” سینیٹرز نے کسی بھی سیاسی جماعت کو اس لائق بھی نہ سمجھا کہ دکھاوے کے لئے ہی ان میں شمولیت ہی اختیار کرلیں بلکہ انہوں نے اپنی “آزاد” حیثیت میں ہی رہنا پسند کیا، کیا کمال کی بات ہے کہ نون اور پیپلز پارٹی نے انہی “آزاد” امیدواروں کو نہ چاہتے ہوئے بھی ووٹ دیئے اور اپنے بہت سارے پرانے ساتھیوں کو “ایڈجسٹ” نہ کر پائے۔۔ پہلے چند افراد مہرے بنتے تھے اور وہی سہولت کار اور فرمانبردار ہوتے تھے لیکن ہوتے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے تھے لیکن اس بار اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست اپنی پسند کے “آزاد” لوگ بٹھا دیئے ہیں۔ یہ سیاسی جماعتوں کیلئے پستی کا وہ مقام ہے کہ اس بار اپنے لوگوں کیلئے کابینہ تو دور سینیٹر بھی اپنی مرضی سے منتخب نہ کروا پائے۔۔

آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ اس ملک میں نہ پارلیمان آزاد رہی نہ کابینہ نہ عدالتی نظام۔

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا،
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی۔!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے