’’آپریشن مکمل ہوا! سفارتخانے کو نشانہ بنانے کے جواب میں اسرائیل پر حملہ کیا‘‘

ایران نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد آپریشن مکمل ہونے کا عندیہ دیدیا۔

الجزیرہ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیل پر حملہ دمشق میں ایران کے سفارتخانے کو نشانے بنانے کے نتیجے میں کیا گیا ہے اگر اسرائیل نے حماقت کرتے ہوئے جواباً حملہ کرنے کی کوشش کی تو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانے کیلئے تیار رہے‘‘۔

ایران نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے علاوہ دفاعی تنصیبات اور گولان کی پہاڑیوں پر فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا جبکہ 300 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے۔

ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ تہران اسرائیل میں 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا، اسرائیلی فضائی اڈے کو خیبر میزائلوں سے ٹارگٹ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایران نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے سفارت خانے کے احاطے پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر تھا۔ حملے میں ایک اعلیٰ ایرانی جنرل اور 6 دیگر ایرانی فوجی افسران ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب گزشتہ برس اکتوبر سے جاری غزہ جنگ میں اب تک 33 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس یکطرفہ جنگ میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 1500 سے زیادہ ہے۔

اسرائیل پر مزید حملوں سے متعلق ایران کے آرمی چیف کا بیان سامنے آگیا

تہران: ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا ہے کہ اسرائیل پر حملے اس لیے کیے کیوں کہ صیہونی ریاست نے ایران کی سرخ لکیر کو عبور کیا تھا اور یہ ناقابل قبول ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے کہا کہ صیہونی ریاست کا شام میں ایران کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے اور ایرانی قانونی مشیروں کو شہید کرنا ہماری ریڈ لائن تھی۔

میجر جنرل محمد باقری نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف آپریشن مکمل کرلیا اور اب مزید حملے جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اسرائیل نے دوبارہ کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پر 300 سے زائد ڈرونز اور بیلسٹک میزائل فائر کیے اور صیہونی ریاست کی درجنوں تنصیبات کو کامیابی سے ہدف بنایا جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے تمام ڈرونز کو فضا میں ناکارہ بنادیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے