قومی سلامتی کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت

ہمیں اقتصادی سکیورٹی کے مسئلے کو ایک بنیادی محورکے طور لینا ہوگا ، اور سی پیک (CPEC) کے اگلے مرحلے کی تعمیروترقی کوعملی سطح پر یقینی بنانے اور اسے فروغ دینے کے عمل کو جاری رکھنا ہوگا۔

تیزی رفتار تبدیلیاں، جن کی گزشتہ صدی میں مثال نہیں ملتی، ہمارے سامنے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔بین الاقوامی تعلقات میں گہرا ردوبدل ہو رہا ہے، اور دنیا ایک ہنگامہ خیز اصلاحات کےعہد میں داخل ہو رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کو امن وسلامتی کے حوالے سے بھی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ چینی خصوصیات کا حامل سوشل ازم اپنے عظیم مقصد کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے،چینی قوم کے احیاء اور اٹھان کو ایک نازک موڑ کا سامنا ہے اور چین کی ترقی نے قومی سلامتی اور سکیورٹی کے مسئلے سے متعلق کچھ غیرمعمولی توقعات اور تقاضے بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

صدر شی جن پھنگ نے ترقی کے موجودہ رجحانات کے بارے میں گہرائی سے غوروخوض کیا ہے، چینی خصوصیات و مفادات کے حامل قومی سلامتی کے نقظہ نظر کا ہر طرح سے جائزہ لیا، اور نیشنل سکیورٹی کے حوالے سے مؤثر جامع حکمت عملی کا ایک نقشہ پیش کیا، جس میں لوگوں کی سکیورٹی وتحفظ کو اساسی مقصد اورسیاسی سلامتی کو اہم ہدف کے طور پہ لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اقتصادی سکیورٹی کو ایک بنیاد کی حیثیت میں اور عسکری،ثقافتی اور سماجی سلامتی کو ناگزیر پہلو کے طور پہ دیکھا گیا ہے۔مزید برآں، بین الاقوامی سلامتی کے ضمن میں باہمی تعاون کا فروغ اور ملکی سطح پر داخلی و بیرونی سکیورٹی ، روایتی اور غیر روایتی سکیورٹی کے متنوع اطراف سمیت چین کی اپنی سلامتی کو یقینی بنانے جیسے تمام حساس اور اہم جزئیات اس منصوبے کا حصہ ہیں۔

صدر جن پھنگ کے وژن نےچینی خصوصیات ومفادات کے حامل قومی سلامتی کے نقطہ نظر و منصوبے کو مستحکم کرنے اور اس کی عملی تشکیل کو ممکن بنانے کی نشاندہی کی ہے،اور پائیدار امن اور عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ دنیا کی بہبودوترقی کے لیے چینی حل کی پیشکش کی ہے۔ تزویراتی تعاون پر مبنی ایک مستقل شراکت دار اور ساتھی کے طور پر، ہم پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تبادلے اور باہمی معاونت کے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں، اور ایک مشترکہ مستقبل کی امید کے ساتھ چین-پاکستان شراکت داری کے مفہوم کو مسلسل تقویت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
بلوچستان میں آج سے ایک اور بارش کی پیشگوئی کی جا چکی ہے۔

ہمیں عوام کی سلامتی کے مسئلے کو ایک مرکزی ہدف کے طور پر لینا چاہیے اور پاکستان میں چینی شہریوں کو مؤثر طریقے سے تحفظ دینا چاہیے۔ عوام کسی بھی ملک کی بنیاد ہوتے ہیں اور ملک کی حکمرانی بھی اسی تناظر میں ہوتی ہے۔قومی سلامتی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات،لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتے اور انہیں سکون و خوشی سے رہنے اور کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔صدر شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں ہمیشہ عوام کو فوقیت دینی چاہیے،ان کی زندگی کو ترجیح دینی چاہیے اور لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنانا چاہیے۔قومی سلامتی کے لیے کسی بھی جامع نقطہ نظر و حکمت عملی میں عوام کے موقف کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے، اور اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ لوگوں کی جان کو محفوظ رہے۔یہ وژن صدر شی جن پھنگ کے عوام کے لیے گہرے جذبات کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں بسنے والے چینی شہری،پاکستان کی قومی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور پاک چین دوستانہ تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ ہمیں ان کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے اور ان کے تعاون کی قدر کرنی چاہیے۔ یہ دل دہلا دینے والی بات ہے کہ 26 مارچ کو ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے میں پانچ چینی شہری اپنی زندگیوں سے محروم ہو گئے۔ ہمیں امید ہے اور یقین ہے کہ پاکستانی ذمہ داران اس واقعے کی شفاف تحقیقات میں تیزی لائیں گے، سچائی کا پتہ لگایا جائے گا، قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی، انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اضافہ کیا جائے گا، برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، اور سکیورٹی کے لیے ہرممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ پاکستان میں چینی عملے، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت ، دونوں ملکوں کے لازوال اسٹریٹجک تعاون کو آگے بڑھانے اور مشترکہ مستقبل کی امید کے ساتھ، چین پاکستان تعلق کومزید مضبوط اور بہتر بنانے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے