ایل این جی ریفرنس: نیب کی ایک بند فائل دوبارہ کیسے کھلی؟

یہ دسمبر 2016 کی بات ہے۔ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک دفتر میں چند اعلٰی سرکاری اہلکار سر جوڑے ایک ایسے مبینہ کرپشن مقدمے کی فائل پر غور کر رہے تھے، جس میں اس وقت کی حکومت کے وفاقی وزیر پٹرولیم کا نام بطور ملزم سرفہرست تھا۔

ایک سال قبل سامنے آنے والے الزامات پر نیب کے دفتر میں موجود ادارے کے چیئرمین اور دیگر افسران اس نتیجے پر پہنچے کہ ’یہ سرے سے ریفرنس بنتا ہی نہیں۔ انکوائری کے باوجود اس میں نیب کو کوئی شواہد نہیں مل سکے۔ اب یہ فائل بند کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔‘

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے اس ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کی کارروائی کا احوال بی بی سی اردو کو اس وقت کے نیب چیئرمین چوہدری قمر الزمان نے خود سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے نوٹ کے ساتھ اس معاملے کو ٹھپ کرنے کی منظوری دی تھی۔‘

تقریباً سات ماہ بعد وہی وفاقی وزیر پٹرولیم ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ یہ وزیر شاہد خاقان عباسی تھے اور ان کے خلاف نیب کی جو انکوائری شواہد نہ ہونے کی بنا پر بند ہو چکی تھی، ایک فائل میں بند ہو کر کسی الماری کا حصہ بن گئی۔

لیکن جلد ہی ہواؤں کا رخ بدلا اور سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید اپنی بغل میں انھی الزامات سے بھری ایک فائل تھامے سپریم کورٹ پہنچے اور درخواست دی کہ ایل این جی کیس کی تحقیقات نیب سے کروائی جائیں جس کے سربراہ بھی اب تبدیل ہو چکے تھے۔ عدالت نے نیب کو شفافیت یقینی بنانے کا حکم دیا اور یوں یہ معاملہ ٹھپ ہو جانے کے تین سال بعد سنہ 2019 میں پھر کھلا جس دوران عمران خان وزارت عظمیٰ اور تحریک انصاف حکومت حاصل کر چکے تھے۔

سنہ 2019 میں ایل این جی ریفرنس، جو خود نیب ہی کا ایگزیکٹیو اجلاس بند کرنے کی سفارش کر چکا تھا، اسی ادارے نے ایک بار پھر کھول لیا اور شاہد خاقان عباسی تفتیش کے لیے نیب کی حراست میں جا پہنچے۔ اس بار ان کے ساتھ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام بھی فائل میں موجود تھا۔

صرف شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل پر نہیں بلکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف پر بھی ’اپنی مرضی کی‘ 15 مختلف کمپنیوں کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکے دے کر اختیارات کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

چھ نومبر 2020 کو اس مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی گئی جو مختلف مراحل طے کرتا ہوا ایک بار پھر اسی مقام پر پہنچا جہاں یہ 30 مئی 2014 کو شروع ہوا تھا۔ یعنی نیب نے خود ہی عدالت میں یہ ریفرنس واپس لینے کی درخواست دی جس کے بعد احتساب عدالت نے شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو بری قرار دیا۔

اس دوران تین حکومتیں، چار وزرائے اعظم، نیب کے تین چیئرمین اور نہ جانے کتنے وکیل تبدیل ہوئے۔ لیکن ایک سوال جس کا جواب نہیں ملتا وہ یہ کہ نیب کے ادارے میں کرپشن کے مقدمات کس کی ایما پر اور کیوں اتنے ڈرامائی مراحل سے گزرتے ہیں اور کیا اس سب کے پیچھے احتساب مقصود ہوتا ہے یا سیاسی مقاصد کارفرما ہوتے ہیں؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ ایل این جی ریفرنس جیسی اور کئی مثالیں موجود ہیں جن میں نیب نے خود ہی مختلف آرا بھی دیں اور پھر ان کے برخلاف کارروائی بھی کی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں تو یکطرفہ احتساب کے پیچھے چھپے سیاسی عزائم پر بات کرتی ہی رہی ہیں تاہم اعلیٰ عدالتیں بھی نیب کی قلابازیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

ایک نیب ریفرنس کی داستان: ایل این جی ریفرنس قائم کیسے ہوا؟

ایل این جی ریفرنس کی بازگشت پہلی مرتبہ سنہ 2014 میں سنائی دی جب اس وقت کے وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی پر قومی احتساب بیورو نے ایل این جی ڈیل میں مبینہ کرپشن کا کیس بنایا تھا۔

یاد رہےکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ 15 سال کی مدت کے لیے 16 ارب ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی تھی۔ اس وقت وہ وفاقی وزیر پٹرولیم تھے۔

نیب نے ان کے خلاف ریفرنس بناتے ہوئے انھیں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانےکا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم سنہ 2016 میں نیب نے اس ریفرنس کو عدم شواہد کی بنیاد پر بند کر دیا تھا اور پھر سنہ 2018 میں دوبارہ اس معاملے نے اس وقت سر اٹھایا جب عوامی مسلم لیگ ن کے سربراہ شیخ رشید نے ان کے خلاف سپریم کورٹ میں اس معاملے کی دوبارہ تحقیقات کروانے کی درخواست دی تھی۔

ایک مرتبہ دوبارہ نیب حرکت میں آیا اور سنہ 2019 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق، پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق چیئرمین آغا جان اختر، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان، اوگرا کے سابق ممبر عامر نسیم، اوگرا کی سابق چیئر ویمین عظمیٰ عادل خان، پی ایس او کے سابق ایم ڈی شاہد اسلام اور اینگرو گروپ کے حسین داؤد اور ان کے بیٹے صمد داؤد کو اس ریفرنس میں گرفتار کر لیا گیا۔

شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل اس کیس میں کم و بیش چھ ماہ تک نیب تحویل میں بھی رہے تھے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین قمر الزمان نے بتایا کہ ’شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور دیگر کے اس ریفرنس سے متعلق اب جو تحفظات سامنے آ رہے ہیں وہ درست معلوم ہوتے ہیں کیونکہ جو ریفرنس نیب نے بند کرنے کی سفارش کی وہی دوبارہ سنہ 2019 میں انھی دفعات کے ساتھ دوبارہ دائر کر دیا گیا۔‘

عمران الحق اُس وقت نیب میں سینیئر پراسیکیوٹر تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’نیب کو فیصلے کے علاوہ اس وقت یہ پیغام بھی ملا تھا کہ اس معاملے میں سابق وزیراعظم اور وزیرخزانہ کو سبق سکھانا ہے۔‘

عمران خان الحق کے اس دعوے پر بی بی سی نے نیب سے رابطہ کیا تاہم ان کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

ادھر نیب کی موجودہ قانونی ٹیم کے پراسیکیوٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ احتساب بیورو کی تحقیقات میں ملزمان کے خلاف مالی فوائد ’ثابت نہیں ہوئے ہیں۔‘

واضح رہے کہ نیب نے اس کیس میں شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا تھا اور نیب نے ریفرنس میں قومی خزانے کو 21 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا۔

نیب کی قانونی ٹیم کے مطابق نیب قوانین میں نئی ترامیم کے بعد یہ معاملہ نیب کے دائرہ اختیارات میں نہیں آتا تھا ’کیونکہ اگر ملزم کو کسی عمل سے مالی فائدہ نہ پہنچا ہو تو محض اختیارات کے ناجائز استعمال پر نیب کچھ نہیں کر سکتا البتہ اگر کوئی اور ادارہ اس پر تحقیقات کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسے معاملات کو دیکھ سکتا ہے۔‘

اس ریفرنس میں مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل بھی شامل تھے جنھوں نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کو سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

انھوں نے اس مقدمے کے دوران شاہد خاقان عباسی اور ان کے خاندان کو پہنچنے والی ذہنی اذیت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شاہد بھائی (شاہد خاقان عباسی) ابھی عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہیں۔ ان کی واپسی پر وہ نیب اور دیگر ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے جنھوں نے نہ صرف انھیں بلکہ ان کے گھر والوں، خواتین اور بیٹیوں کو بھی اس مقدمے کے دوران نہ صرف تنگ کیا بلکہ ذہنی اذیت بھی پہنچائی۔‘

مفتاح اسماعیل نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اپنے اہلخانہ سے تفتیش کے دوران برتاؤ کے بارے میں بتایا کہ ’نیب نے اس طرح تحقیقات کیں کہ گھر میں گھس کر ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کے درازوں تک کی تلاشی لی۔‘

ان کے مطابق ’نیب جیسے ادارے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے مگر پھر بھی عرصے سے یہ ادارہ لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے۔‘

سابق وزیر خزانہ مفتتاح اسماعیل کے مطابق جب وہ قید میں تھے تو انھیں ’چند دوستوں کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا گیا کہ اگر وہ نواز شریف کے خلاف بیان دے دیں تو ان کی جان خلاصی ہو سکتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مقدمے کی تفتیش کے دوران ’ایک موقع پر انھیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ پلی بارگین کے لیے راضی ہو جائیں۔‘

بی بی سی نے مفتاح اسماعیل کے اس دعوے پر نیب کا موقف جاننے کی کوشش کی تاہم ان کی طرف سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

مفتاح اسماعیل کے مطابق انھوں نے جواب دیا کہ ’نیب پہلے مجھ سے معافی مانگے اور پھر جو اس مقدمے پر میرا خرچہ ہوا وہ پیسے واپس کرے۔‘

ان کے مطابق نیب یہ جواب سن کر ’دنگ رہ گیا کہ پلی بارگین میں تو ملزم پیسے دیتا ہے اور یہ کیسا ملزم ہے کہ جو نیب سے پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔‘

مفتاح اسماعیل کے مطابق وہ پانچ ماہ تک اس ریفرنس میں نیب کی حراست میں رہے اور اڈیالہ جیل میں قید بھی کاٹی۔

مفتاح اسماعیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میری مشکلات دیکھتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے ان سے ایک بار یہ کہا تھا کہ میں ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جاؤں۔‘

مگر ایل این جی ریفرنس ایک واحد ایسا مقدمہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ ماضی کے کئی دیگر نیب ریفرنسز میں بھی سیاسی رہنماؤں کو بریت ملی یا پھر ان ریفرنسز کو واپس لایا گیا۔

دسمبر 2023 کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس پر احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُنھیں بری کر دیا تھا۔

نومبر کے اواخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں بھی نواز شریف کی اپیل پر انھیں بری کیا تھا۔ جبکہ نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل واپس لے لی تھی اور اسی بنیاد پر عدالت نے نیب کی اپیل خارج کر دی تھی۔

اسی طرح نیب نے منی لانڈرنگ اور آشیانہ ہاؤسنگ ریفرنسز میں شہباز شریف پر بد عنوانی کا الزام لگایا تھا۔ تاہم جولائی 2023 میں احتساب عدالت نے شہباز شریف کو منی لانڈرنگ ریفرنس سے بری کر دیا تھا جبکہ نومبر 2023 کے دوران انھیں آشیانہ ہاؤسنگ ریفرنس سے بھی بری کردیا گیا۔ اس بریت کے خلاف نیب کی جانب سے اپیل دائر نہیں کی گئی۔

کیا نیب پر کوئی ’بیرونی دباؤ‘ رہتا ہے؟

پاکستان کے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں بدعنوانی کے مقدمات کی چھان بین کے لیے قومی احتساب آرڈیننس 1999کے تحت قائم کیا گیا ادارہ اپنے قیام کے وقت سے ہی متنازع رہا ہے۔

پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی اس پر سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کرنے اور حکومت کے اس پر اثر انداز ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے۔

گمنام درخواستوں پر ایکشن، ناکافی شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں، الزامات ثابت ہونے سے پہلے میڈیا میں تشہیر، تفشیش کاروں کا نامناسب رویہ، زیر حراست ملزمان سے ناروا سلوک، اور نیب آرڈینینس کے تحت اس ادارے اور اس کے چئیرمین کو حاصل لامحدود صوابدیدی اختیارات وہ الزامات ہیں جن کا نیب کو بحیثیت ایک ادارہ سامنا کرنا پڑا ہے۔

جبکہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے نہ صرف نیب کے قوانین کو ’کالا قانون‘ قرار دیا بلکہ یہ الزامات بھی تواتر کے ساتھ عائد کیے جاتے ہیں کہ بعض خفیہ طاقتیں نیب کو سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں، سیاسی جوڑ توڑ اور منوورنگ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

نیب پر مبینہ بیرونی دباؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیب کے سابق اہلکار عمران الحق نے اپنی ملازمت کے وقت کا ایک واقعہ سنایا کہ کیسے ادارے کی طرف سے بیرونی دباؤ ’قبول کیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ عمران خان کے دور اقتدار میں لاہور میں موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے جلسہ عام کا اعلان کیا تو اگلے روز عدالت میں حمزہ شہباز کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو گئی، جو 22 ماہ سے جیل میں تھے۔

عمران الحق نے دعویٰ کیا کہ انھیں ’راولپنڈی سے ایک اہم شخصیت کی کال موصول ہوئی اور اس کال کے ذریعے کہا گیا کہ ’کوشش کریں کہ حمزہ کی ضمانت ہو جائے۔‘ نیب نے اس دعوے پر بی بی سی کو اپنا موقف نہیں دیا ہے۔

عمران الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے جواب دیا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس مقدمے میں دیگر دو ملزمان بھی ہیں۔ اگلے دن اس مقدمے کی فائل لیے عمران الحق سپریم کورٹ پہنچے اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی۔ اس کے بعد ان سے ’نہ صرف نیب نے گاڑی واپس لے لی اور بونس روک لیا بلکہ سالانہ کنٹریکٹ میں توسیع بھی نہیں کی۔‘

عمران الحق کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھوں نے نیب کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا کہ وہ اب مزید اپنا کام جاری بھی نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔

متعدد ریفرنسز پر عدالتوں میں پیش ہونے والے نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق اس بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ’نیب کے پاس اپنی کوئی صلاحیت نہیں ہے، یہ کوئی ادارہ نہیں ہے۔‘

’یہ کچھ لوگوں کے ہاتھوں ایک ’ٹُول‘ ہے، ایک ’کٹھ پتلی‘ ہے۔ اس نے کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی و دیگر پر قائم ایل این جی ریفرنس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ نیب نے آزادی سے کام نہیں کیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے اس مقدمے پر کہا تھا کہ اگر ہم نے جو معاہدے کیے ہیں وہ غلط تھے تو یہ حکومت ان معاہدوں کو ختم کر دے۔‘

بی بی سی نے عمران الحق، عمران شفیق، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات کی تفصیلات نیب کے ساتھ بھی شیئر کیں مگر نیب نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔

نیب کے ڈائریکٹر میڈیا بُرج لال دوسانی نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب کے آرڈیننس کے تحت وہ میڈیا کو کوئی مؤقف نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ نیب کے زیادہ تر چیئرمین فوج کے ریٹائرڈ جنرل رہے ہیں۔ اس وقت نیب کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ ہیں۔ نیب میں متعدد حاضر سروس فوجی افسران اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جون 2023 کے دوران لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ نے کہا تھا کہ ’ہم نیب کو غیر سیاسی بنائیں گے۔ ہمارا مقصد جرائم کا خاتمہ، وائٹ کالر کرائم اور کرپشن کا سدباب ہے۔ اس کے لیے ہمارا کوئی فیورٹ یا دشمن نہیں۔‘

رواں برس 26 جنوری کو نیب نے اپنی پریس ریلیز میں ’انقلابی اصلاحات کے پہلے مرحلے‘ کے حوالے سے بتایا کہ اب اس کی جانب سے گمنام، غیر سنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی شکایات کو بغیر کسی کارروائی کے مسترد کر دیا جائے گا۔

’نیب کی تشکیل میں ہی خامی رہ گئی‘: سابق چئیرمین نیب

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے نیب نے اپنے قیام سے لے کر آج تک متعدد ریفرنسز دائر کیے اور اربوں روپے کی ریکوری کے دعوے بھی کیے۔

اگرچہ سیاسی رہنماؤں جیسے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو، صدرمملکت آصف زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ مریم نواز اور متعدد دیگر سیاسی شخصیات کے خلاف نیب نے مقدمات دائر کیے مگر نیب کو ان مقدمات سے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

سابق چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری اس بات سے متفق ہیں کہ ’نیب کی بنیاد میں ہی خامی رہ گئی، اس وقت ہی ایک ٹارگٹڈ اپروچ تھی۔‘ تاہم ان کے مطابق ’نیب کی ساخت میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی۔‘

ان کے مطابق ’جہاں تک بات اس ادارے کو بند کرنے کی ہے تو اس میں بحث کی گنجائش موجود ہے کیونکہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف ایک منظم یا نمائندہ ادارے کی تو ضرورت ہے۔‘

سابق چیئرمین نیب کے مطابق ’اس وقت صوبوں میں تو احتساب کے شعبے موجود ہیں مگر وفاقی سطح پر ایسا کوئی شعبہ نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق اس وقت نیب کے قانون اور طاقت میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔

اس سوال پر کہ آیا نیب میں سب کچھ چیئرمین کے قلم سے ہوتا ہے اور پھر ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ان کے کسی دستخط سے کتنا نقصان ہوا، سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ایسے اہم معاملات کو کسی فرد واحد پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے اور اس حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘

نیب پر دباؤ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جب اس کام کے لیے درست فرد کا انتخاب کیا جائے گا تو پھر وہ معاملات کو سنبھال لے گا اور کوئی ادارے پر انگلیاں نہیں اٹھا سکے گا۔‘

نیب کی احتساب عدالتوں سے متلعق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالتیں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتی ہیں اور ان کے ججز ہائیکورٹس کے ججز کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔

حکومت میں آنے کے بعد سیاسی جماعتیں نیب پر خاموشی کیوں اختیار کر لیتی ہیں؟

مسلم لیگ ن کا دور حکومت ہو، پیپلز پارٹی کا اقتدار ہو یا تحریک انصاف کا راج، ہر دور میں سیاسی رہنما نیب کے مقدمات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ جب یہ سیاسی جماعتیں حکومت میں ہوتی ہیں تو نیب قوانین میں ترمیم کرنے سے ہچکچاہٹ کا شکار رہتی ہیں اور جب اپوزیشن میں آتی ہیں تو اس ادارے کو ملکی ترقی کی راہ میں ’رکاوٹ‘ کا سبب قرار دیتی ہیں۔

گذشتہ سال شہباز شریف کی حکومت نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کی جس کے تحت ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت کو 90 روز سے کم کر کے 14 روز کیا گیا ہے۔ تاہم بعض سیاسی حلقے نیب کے ادارے میں اصلاحات اور ترامیم کی بجائے اسے سرے سے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے پانامہ ریفرنسز میں احتساب عدالتوں میں پیشی کے دوران متعدد بار یہ کہا کہ نیب جیسے ادارے کو ختم نہ کرنا ان کی ’غلطی‘ تھی۔

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی چند برس قبل ایک مقدمے میں نیب کے سامنے پیش ہونے کے بعد کہا تھا کہ یہ ان کی حکومت کی کمزوری تھی کہ نیب کے قانون کو ختم نہیں کیا گیا۔

پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں ماضی میں نیب کے قانون کے تحت ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کے بھی مطالبہ کرتی آئی ہے مگر اب جبکہ وہ حکومتی بینچوں پر ہے تو اس معاملے پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔

ادھر پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے طور پر پارلیمنٹ کے سامنے نیب سے متعلق کچھ تجاویز ضرور پیش کیں اور یہ مطالبہ کیا کہ عدلیہ اور فوج کو بھی نیب کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے۔

سیاسی جماعتیں حکومت میں آنے کے بعد نیب قوانین میں ترامیم کرنے یا اس ادارے کو ختم کرنے سے متعلق اقدامات کیوں نہیں کرتیں، اس سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے قانونی امور کے انچارج اشتیاق اے خان نے بی بی سی کو بتایا کہ نیب کو ختم کرنے سے متعلق کوئی سیاسی جماعت بھی سنجیدہ نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ’ہمیں بدعنوانی کے خلاف ایک ادارے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی جب حکومت میں تھی تو نیب کے قانون کو بہتر کرنے کے لیے کچھ ترامیم متعارف کرائی گئیں۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی جماعت پر بھی نیب کے ذریعے سیاسی مخالفین پر مقدمات قائم کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ ان کے مطابق اب خود ان کی جماعت اور سیاسی رہنماؤں کو بھی نیب کی طرف سے قائم کردہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق حکومت میں ہوتے ہوئے ان کی جماعت اس طرف سوچ بھی نہیں رہی تھی مگر حزب اختلاف میں جا کر اس کا احساس زیادہ ہوا ہے۔

پاکستان کے موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نیب سے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ماضی میں وہ مسلم لیگ کو نیب سمیت آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 سے متعلق قائل کرتے رہے مگر ان میں اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے