وہ روایات جن سے ایمان بالرسالت متاثر ہوتا ہے؟

سوال ۔
قاری صاحب احادیث میں ایسی کونسی روایات ہیں جن سے ایمان بالرسالت متاثر ہو سکتا ہے ؟
رضوان الله محسود
جواب ۔۔
رضوان الله محسود ۔
1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے وقت ڈر گئے ۔ کہ شاید مجھے کوئی اسیب یا ذہنی خلل ہے ۔
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو جبرائیل اور وحی کو وحی نہ سمجھا جب تک ورقہ بن نوفل عیسائی نے تصدیق نہ کی اور تسلی نہ دی ۔
3 ۔ ورقہ بن نوفل مر گیا اور وحی رک گی ؟
4- اسی ٹینشن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو گرا کر اپنی جان لینےکے لئے پہاڑ پر چڑھ جاتے ۔ جبرائیل سامنے آ کر کہتے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ تسکین حاصل ہوتی اور اپنے ارادے سے باز آ جاتے مگر پھر وہی”شک کی ” کیفیت پیدا ہو جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر پہاڑ پر چڑھ جاتے ۔

5-ایک بارہ چودہ سالہ لڑکے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ، جس کے زیر اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نچڑ کر رہ گئے اور مسکرانا بھول گئے یہانتک کہ نوبت جھوٹ بولنے تک پہنچ گئی کہ کوئی کام نہ کیا ہوتا اور کہتے کہ کر دیا ہے ، جیسے ازواج مطہرات کے یہاں باری پر نہ جاتے اور جب ان کی طرف سے استفسار ہوتا تو فرما دیتے کہ باری بھگتا آیا ہوں ۔

6- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ والنجم کی تلاوت حرم میں فرما رہے تھے کہ اسی دوران شیطان نے کچھ شیطانی آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلوا دیں جن سے متاثر ہو کر مشرکین بھی سجدے میں گر گئے ۔ جس کے بعد جبرائیل امین تشریف لائے اور تنبیہہ فرمائی کہ یہ آیات تو میں لے کر نہیں آیا تھا ۔واضح رہے انہی شیطانی آیات کے نام پر رشدی نے اپنی کتاب کا عنوان رکھا تھا ۔

7-حضرت موسی علیہ السلام بہت حیادار تھے اکیلے نہاتے تھے ،اپنی قوم کی طرح مجمعے میں نہیں نہاتے تھے جس پر قوم میں مشہور ہو گیا کہ موسی علیہ السلام کو ہرنیا ہے "ان بہ آفۃ” اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے اس الزام کو دور کرنے کا بندوبست یہ کیا کہ جس پتھر پر موسی علیہ السلام نے کپڑے رکھے تھے اس کو حکم دیا کہ موسی کے کپڑے لے کر بھاگ جاؤ ۔ اب پتھر آگے آگے اور موسی علیہ السلام پتھر کے پیچھے آوازیں دیتے بھاگ رہے تھے کہ اے پتھر میرے کپڑے ۔۔ اسی طرح بےلباس حالت میں موسی علیہ السلام پتھر کے پیچھے بھاگتے ایک مجمعے کے سامنے پہنچے جہاں پتھر رک گیا اور سارے مجمعے نے دیکھ لیا کہ موسی علیہ السلام کو ہرنیا نہیں ہے اور تمام اعضاء نہایت وجیہہ ہیں ۔

8-رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عرب کی ایک حسین و جمیل عورت کا تذکرہ ہؤا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو لے آؤ ۔

وہ عورت لائی گئی اور فلاں قبیلے کے باغیچے میں ایک ڈیرے پر اتاری گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دو صحابہ کے ساتھ پہنچے اور صحابہ کو ایک جگہ بٹھا کر خود عورت کے حجرے میں تشریف لے گئے اور عورت کو کہا کہ اپنا آپ میرے حوالے کر دو !

اس نے کہا کہ ایک ملکہ خود کو ایک بازاری کے حوالے کیسے کر سکتی ہے ؟

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو نرم کرنے کے لئے اپنا دست مبارک اس پر رکھنے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں جس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس ہستی کی پناہ مانگی ہے کہ جس کی پناہ دی جاتی ہے ۔ اس کے بعد اٹھ کر باہر آ گئے اور فلاں صحابی سے فرمایا کہ اس کو کپڑوں کا جوڑا دے کر واپس اس کے اہل کے پاس بھیج دو ۔ یہانتک بخاری کی روایت ہے اور یہ آٹھوں کی آٹھ نام نہاد حدیثیں بخاری شریف کی ہیں ۔ آٹھویں میں اضافہ دیگر روایات کا ہے کہ اس عورت کے پاس سے رسول اللہ بہت غصے میں نکلے تو اشعث ابن قیس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میں اپ کو اس عورت سے زیادہ حسین اور اعلی نسب عورت نہ بتاؤں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہے ؟ تو اشعث ابن قیس نے عرض کیا کہ وہ میری بہن ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس سے نکاح کیا ۔ یہ سن کر اشعث ابن قیس اپنی بہن کو لینے یمن کی طرف روانہ ہو گئے ، دونوں بہن بھائی ابھی رستے میں تھے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ملی جس کے بعد دونوں بہن بھائی مرتد ہو گئے اور بعد میں مسیلمہ کذاب پر ایمان لے آئے ۔

یہ اس کتاب کی ایمان چوس روایات ہیں جو قرآن کریم کے بعد سب سے اصح کتاب مانی جاتی ہے یعنی بخاری شریف ۔

نچلے درجے کی کتابوں میں بھی گستاخانہ مواد موجود ہے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک اٹھ کر اندر ام المومنین حضرت زینب کے پاس تشریف لے گئے جو چمڑے کی دباغت کر رہی تھیں اور اس حال میں واپس تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک لڑکی یہاں سے گزری تھی جسے دیکھ کر میرے نفس میں ایک خیال پیدا ہوا اور میں نے اندر جا کر اپنی زوجہ سے اپنی حاجت پوری کر لی ۔ اسی طرح تم میں سے بھی اگر کسی کے اندر حاجت پیدا ہو تو اپنی بیوی کے پاس جا کر پوری کر لیا کرو کیونکہ تمہاری بیویوں کے پاس بھی وہ چیز موجود ہے جو کسی دوسری کے پاس ہے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تمام روایات قرآن کریم کی تفاسیر میں استعمال کر کے قرآن بنا دی گئ ہیں ۔ عام لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قران میں پڑھا ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے