امن،اشرافیہ اور احتجاج

میں اپنے کتھارسس کے لئے نہیں لکھتی نا ہی قلم سے کبھی مالی منفعت حاصل کی . میں علمیت سے بھی کوسوں دور ہوں. پھر بھی لکھتی ہوں کیونکہ ایک کسی بھی ان دیکھی یا ان کہی یا ببانگ دہل فنڈنگ کے تعصب اور مصائب سے پاک اردو کالم میرے لیے اردو کی سوشل انٹرا،اپرنیرشپ ہے . کچھ سماجی و سیاسی مسائل پر مکالمے کا آغاز کچھ یاداشتیں اور کچھ حل پیش کرنے کی کوشش. اسی نیت پر مبنی گزشتہ کالم ” امن کا رقص اور مئی کا مہینہ "تھا. جس کو میرے ذہین ،سنجیدہ اور پاکستان سے مخلص قارئین نے کافی پسند کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ نے تشنہ بھی قرار دیا اور کچھ نے جھومر رقص اور امن کے سمبندھ کو مزید سمجھنا چاہا. ہر کسی کی رائے مقدّم ہے .

خلاصۂ کلام یہی ہے کہ حالات کی نزاکت میرے لیے کچھ ایسی ہے کہ اکثر کچھ مدھ بھری باتیں خود ہی سینسر کر دیتی ہوں اور کوئی مسحور کن مُدَّعا بھی بین السطور ہی رہتا ہے . تسلسل، یکتائی کی مثال اور جرات آموز تحریر ابھی تک لکھ نہیں پائی اس کا مجھ کو قلق بھی ہے. جیسی زندگی گزاری ہے شائد اسی کے کچھ اثرات انداز نگارش میں بھی چھلک جاتے ہیں یا جھلک دکھلا ہی جاتے ہیں.

اب اس اعتراف کے بعد کچھ مزید معلومات اور خیالات امن اور رقص کے بارے میں. رقص کو امن کا پیامبر بھی سمجھا گیا اور کئی طرح کی نفرتوں کو زائل کرنے کا ایک جمالیاتی طریقہ بھی .امن کے فروغ کے لئیے ڈرامے ، گانے ،تھیٹر اور سپورٹس کو بھی استعمال کیا جاتا ہے . امر جنرل ضیاء کی انڈیا کے ساتھ صرف بہار کے شترو گھن سنہا کے ساتھ ذاتی دوستی ہی نہیں بلکہ کرکٹ ڈپلومسی بھی ہمارے بچپن کی یادگار ہے .

میری بہاری کمیونٹی کی اکثریت کے لئیے بھی شائد یہ ایک نئی بات یا انکشاف ہو کہ جھومر رقص بہار میں بھی کیا جاتا ہے . یہ بہار کا بھی ایک روایتی لوک رقص ہے ۔ جھومر کے لئے کوئی مخصوص موسم نہیں ہوتا، یہ ایک ایسا ناچ ہے جو ہر وقت ادا کیا جاتا ہے۔ بہار- بہار کی زمین پر بھی اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ آتی ہے اور شادمانی کی رنگینی کو ہر طرف پھیلاتی ہے۔ یہ روایتی ناچ اسی ترنگ، اور امنگ کا اظہار ہے.

جہاں تک ا من کی بات ہے تو میرا اپنا ماننا یہ ہے کہ آپ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں اس میں کام کرنے کے لئے اور آگے جانے کے لیے امن ایک بنیادی شرط ہے. آپ کے ملک میں امن نہیں ہے یا آپ جس جگہ رہتے ہیں اس جگہ پر امن نہیں ہے تو لا مُحالَہ آپ کی ذہنی ، جذباتی ، فکری، جسمانی اور مالی صحت کسی نہ کسی طور تو متاثر ہو گی .

دنیا کی سچائی اور زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں . آتش و بارود کا، کاروبار جم کر ہوتا ہے . جس کی لاٹھی اس کی بھینس. محاورے میں بیان کیے گئے اس اصول کو ابھی تک دوام حاصل ہے . انسانیت اور عزت نفس کتابی باتیں ہیں. ایدھی اور ان جیسی نیک روحوں کو سلام لیکن سلامتی کونسل اور نوبل پیس پرائز کے فیصلوں کا معیار کچھ اور ہے. لہٰذا روہینگیا ہوں یا محصورین "پاکستانی بہاری ‘ یا لا پتا افراد یا دنیا کے ” مہذب ممالک ” کے اصلی مقامی باشندے یا ہندوستان کے مسلمان یا فلسطینی یا کوئی بھی لاچار کمیونٹی ان کے متعلق اتنی ہی بات کرنا "جائز ” یا "قبول ” ہے ، جس سے الیٹس کو تکلیف نہ ہو اور آپ کی اپنی بربادی کی ابتدا نہ ہو .

امن خبر نہیں ہے نہ اس میں کوئی خبریت . جنگ ایک بریکنگ نیوز بھی ہے اور بکتی بھی ہے . امن ایک مشکل کیفیت ہے . پوری دنیا میں جنگیں کسی ایک قوم، ملک، کمیونٹی یا خطے کے امن کے لئے لڑی گئیں.بظاہر کیا ایسا ہی تھا ؟

اقوام متحدہ کی امن کے لئے فوج اور پولیس بھی ہے، جن کو پیس کیپنگ مشن کہا جاتا ہے . ان مشنز میں بھرتی ہونا ہمارے جیسے ملکوں کے باسیوں کے لئیے ایک اعزاز بھی ہے اور اس سے مالیاتی آسودگی بھی آجاتی ہے . ستم ظریفی دیکھیں وہ ممالک جو ایک دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں، وہ سب اس میں شامل ہوتے ہیں اور اچھے بچوں کی طرح مل جل کر ڈولرز اور دیگر مراعات کے عوض "امن ” قائم کرتے ہیں.

امن ہے کیا ؟

اکیڈمک باتیں آپ کسی اور سے کر لیں . میں آپ کو ایک قصہ سناتی ہوں. 20 نومبر 1971 کو یعنی 16 دسمبر 1971 کو قائد کا پاکستان ٹوٹنے سے ذرا پہلے نامور سکرین رائیٹر اور ڈائریکٹر ریاض شاہد کی ایک فلم ریلیز ہوئی جس کی پروڈیوسر ان کی بیگم نیلو تھیں، جو ایک معروف فلمی ستارہ تھیں . اس فلم کا نام امن تھا مگر وہ یہ امن کے نام سے پہچانی گئی، باکس آفس پر سمجھیں کہ ناکام ہوئی. فلم جدوجہد آزادی اور مقبوضہ کشمیرمیں انڈین گورنمنٹ کی زیادتیوں پر بنائی تھی .

ریاض صاحب کو کینسر ہو گیا ، 1972 میں وہ فوت ہوگئے. اس فلم کو بین بھی کیا گیا. انٹی -اسٹیٹ بھی کہا گیا اور نجانے کیا کیا صدمے ریاض صاحب نے سہے ہوں گے ؟ 1975 میں بھٹو صاحب نے 5 فروری کو یوم کشمیر منا یا اور یہ فلم پھر ریلیز ہوئی. اس کا ایک نغمہ جو حبیب جالب نے لکھا تھا ،ابھی تک بہت مقبول ہے اور جذباتی سیاسی سرگرمیوں میں کوٹ کیا جاتا ہے .

ظلم رہے اور امن بھی ہو،
کیا ممکن ہے تم ہی کہو؟

ہنسی گاتی روشن وادی،
تاریکی میں ڈوب گئی۔

اپنے ہونٹ سیے ہیں تم نے،
میری زبان کو مت روکو۔

تم کو اگر توفیق نہیں تو،
مجھ کو ہی سچ کہنے دو۔

ڈاکٹر رخشندہ پروین-ایک پاکستانی صحت عامہ اور صنفی امور کی ماہر ہیں اور ایک سوشل انٹراپرینور ہیں. مختلف سماجی ترقی کے سیکٹرز میں کام کرتی رہی ہیں اور کئی جامعات میں پڑھاتی بھی رہی ہیں. وہ پاکستان میں پی ٹی وی کی صبح کی لائیو نشریات اور حالات حاضرہ کے شو کی پہلی خاتون اینکر ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں. صنف کے حوالے سے پی ٹی وی پر بطور نجی پروڈیوسر ان کی سال 1999 کی سیریز جینڈر واچ ایوارڈز بھی حاصل کر چکی ہے . اس کے علاوہ جہیز بطور ایک تشدد اور صنفی تشدد کے خلاف ان کا کام نمایاں اور منفرد رہا ہے . گزشتہ دس سالوں سے وہ اپنی تحریر اور تقریر سے محب وطن بہاریوں خاص طور پر موجودہ بنگلہ دیش میں محصورین کے لئیے بھی ایک آواز بن رہی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے