مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں بڑھتے بحران

19 مئی کو ایران کے صدر ابراہیم رئیسی چند اعلیٰ حکام سمیت آذربائجان کے مختصر دورے پر گئے تھے۔ اس دورے کا مقصد دونوں پڑوسی ممالک میں واقع سرحدی علاقے پر ایک ڈیم کا افتتاح کرنا تھا۔ ایران کا یہ اعلی ترین وفد تین ہیلی کاپٹروں کے ذریعے آذر بائیجان پہنچا تھا۔ افتتاح کے بعد واپسی پر جب صدر کا قافلہ ایرانی علاقے تبریز پہنچا تو اچانک صدر کا ہیلی کاپٹر قافلے سے پہلے الگ ہو گیا، پھر لاپتہ ہوا ،اور اس کے بعد ایک پہاڑی مقام پر دھڑام سے نیچے آ گیا۔ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا یا کوئی ارادی نشانہ ؟ سر دست اس بارے میں کچھ بھی بتانا ممکن نہیں لیکن دنیا بھر میں اس واقعے سے ہلچل مچی ہے اور بے شمار دماغ تشویش کے عالم میں مختلف وجوہ پر سوچنے لگے ہیں۔ حالیہ تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا سنگین ترین حادثہ ہے اور اس کے کیا کیا نتائج و عواقب برآمد ہوں گے ابھی تک وہ وقت کے پردے میں پوشیدہ ہیں اور وقت ہی کے ساتھ ساتھ وہ سامنے آئیں گے۔ نئے عبوری ایرانی صدر محمد مخبر نے منصب سنبھالتے ہی دو اقدامات اٹھائے ہیں، ایک واقعے کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی بنا کر تحقیقاتی عمل کا آغاز کرنا جبکہ دوسرا فیصلہ ملک میں 28 جون کو نئے انتخابات کا باقاعدہ اعلان ہے۔

ناچیز نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تو تب سے لے کر اب تک مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا سمیت ان کے مضافات مسلسل بحرانوں کی زد میں محسوس کر رہا ہے۔ کیا مسئلہ کشمیر، کیا مسئلہ ف ل س ط ی ن، کیا یمن اور شام کے تنازعات اور کیا آس پاس میں واقع افغانستان اور عراق میں گزشتہ چار پانچ عشروں کی مدت میں سر اٹھائے وہ انسانی سانحات، جن میں لاتعداد انسانوں کے سر کچلے جبکہ زندگیاں نگلی گئی ہیں۔ ہر طرف تباہ کن اور وحشت ناک کاروائیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دردناک اور دل سوز مناظر کا سیلاب ہے، جو کسی طرح تھمنے میں نہیں آ رہا۔ خطے میں موجود اربوں انسانوں کا دماغ مفلوج، دل مایوس، آنکھیں نم اور جذبے مدھم پڑ گئے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان، سائنس و ٹیکنالوجی اور تہذیب و تمدن کے ارتقاء کو ذہن متوجہ ہے نہ سرمایہ، جذبات مائل ہیں نہ وجدان مرکوز۔ یہ خطے گزشتہ سات آٹھ عشروں سے اندھیروں میں چھپی منزلوں کے لیے نکلے ہیں اور بہت دور تلک گئے ہیں ایسا کہ اب مڑنا اگر بالکل ناممکن نہیں تو بہت ہی مشکل ضرور ہے۔

جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کے غیر مستحکم خطے کئی دہائیوں سے مسلسل تنازعات، عدم استحکام اور مختلف انسانی بحرانوں سے دوچار چلے آ رہے ہیں۔ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے تنازع سے لے کر ا س ر ا ئی ل اور ف ل س ط ی ن کے دیرینہ تنازعے میں گزشتہ آٹھ ماہ سے ایک خون آشام لیکر کھینچی گئی ہے جس نے انسانی تباہی کے نت نئے نمونے متعارف کیے ہیں۔ ان کے علاؤہ شام اور یمن میں جاری خانہ جنگیوں میں جس طرح انسانی عظمت کو تار تار کیا، اس کی بھی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ شام کے اندر رونما ہونے والے سانحات کے تذکرے پر چند برس قبل ایک تقریب کے دوران سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل بری طرح آبدیدہ ہو گئیں تھیں۔ ان دو خطوں کی بدقسمتی ہے کہ ان کے سیاسی اور سماجی ماحول میں تشدد، انتشار، غربت اور گہرے تناؤ جیسے ناسور جمع ہو گئے ہیں لیکن اس سے بھی بڑی بدقسمتی شاید یہ ہے کہ یہاں کی عوام اور اشرافیہ نے کچھ کچھ حماقت اور بہت کچھ جہالت کی وجہ سے ان ناسوروں کو سینے سے لگایا ہوا ہیں اور کہیں بھی یہ فکر اور اہتمام دکھائی نہیں دے رہا کہ مذکورہ دو خطوں کے مزاج، نظام اور ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی ارادی یا ادارہ جاتی کوششیں ہو۔ ان بحرانوں کو جنم دینے والے پیچیدہ مسائل کا ادراک اور پھر اصلاح احوال کا اہتمام وہ واحد راستہ ہے ،جس سے دونوں بحران زدہ خطوں میں دیرپا امن اور عمومی خوشحالی کی منزل تک پہنچنا ممکن ہوگا، اس کے علاؤہ اور کوئی راستہ نہیں۔

جنوبی ایشیا میں موجودہ بحرانوں کی جڑیں 1947 میں برصغیر پاک و ہند کی ہنگامہ خیز تقسیم کے دور سے پیوست ہیں۔ خطے میں دو نئی ریاستوں کی تشکیل نے دونوں ممالک کے سامنے دو آپشنز رکھ دیئے کہ یا تو دوست بن کر رہے یا پھر دشمن۔ بدقسمتی سے دوسرا آپشن اختیار کیا گیا جو آج تک جاری و ساری ہے حالانکہ دونوں ممالک کے بانیان نے پُرامن پڑوسیوں اور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرنے والے دوست بن کر رہنے کے پہلے آپشن کی حمایت کئی بار کی تھی۔ کشمیر کا تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان جاری دشمنی کا بنیادی سبب ہے۔ اس کے علاوہ مفاداتی ٹھکراؤ، تجارتی تعلقات کی بندش اور مذہبی اختلافات بھی اہم وجوہات ہیں، ان وجوہ نے وقت بہ وقت اور موقع بہ موقع فوجی جھڑپوں کے لیے بھی جوازات فراہم کیے ہیں۔ جنوبی ایشیا پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کے علاوہ، نجی شورشوں، فرقہ وارانہ تشدد اور انتہا پسند گروہوں کی موجودگی سے بھی بری دو چار ہے۔ افغانستان گزشتہ پانچ عشروں سے لگاتار بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے۔

نائن الیون کے بعد سے لے کر 2021 تک مسلسل گرم جنگ کا میدان بنا رہا اور اب گزشتہ تین برس سے طلباء اقتدار میں ہیں لیکن امن اور استحکام کی منزل قریب دکھائی نہیں دے رہی۔ لاکھوں افراد کو خوراک، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات کی فراہمی سمیت کروڑوں لوگوں کو روزگار، امن اور اطمینان دلانا اہم ترین چیلنجز ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بھی صورت حال اتنی ہی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے۔ 2010 کی دہائی کے اوائل کی عرب بہار کی بغاوتوں نے، طویل ترین عرصوں سے قائم مطلق العنان حکومتوں کا تختہ الٹ دیا، اور اس کے علاؤہ خانہ جنگیوں، فرقہ وارانہ تنازعات اور انتہا پسند تنظیموں کی پر تشدد سرگرمیوں کو بھی جنم دیا گیا۔ شام میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے وحشیانہ خانہ جنگی جاری رہی جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس تنازعے نے مختلف علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان زبردست کھینچا تانی اور شدید بحرانوں کو مزید بڑھا دیا۔ اسی طرح یمن میں خانہ جنگی، جو آج سے پورے دس سال قبل شروع ہوئی۔ اس خانہ جنگی نے نہ صرف بدترین تشدد، لمبی قحط سالی، وبائی بیماریوں اور عمومی تحفظ کو لاحق خطرات کو باقاعدہ بحران بنائے بلکہ اس سے رہائشی علاقے مٹی کے ڈھیروں میں بدل گئے اور لاکھوں لوگوں نے بے سر و سامانی کے عالم میں مختلف ممالک کا ہنگامی رخ کیا۔ مختلف عالمی اداروں نے اس بحران کو بدترین انسانی تباہیوں میں سے ایک کے طور پر شمار کیا۔ یہ بات البتہ خوش آئیند ہے کہ دو برس سے سعودی عرب اور ایران نے مسائل پر قابو پا کر تعلقات کو خوش گوار اور دوستانہ بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا۔ مشرق وسطی میں دہائیوں سے جاری معروف ترین تنازعے نے گزشتہ آٹھ ماہ سے ایک ایسی کروٹ بدلی ہے کہ جس نے انسانی تباہیوں کی ساری سابقہ مثالیں دماغوں سے محو کر دئیے ہیں۔ اس کے علاؤہ عراق اور لبنان میں جاری سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام نے بھی مشرق وسطی کے بحرانوں میں اضافہ کیا ہے۔

ان دونوں خطوں میں موجود چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ایک جامع، موثر، دیرپا اور خیر خواہانہ حل کی ضرورت ہوگی جو تنازعات کی بنیادی وجوہات ہیں، انہیں باقاعدہ نشان زد کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہو اور صرف آغاز ہی نہ ہو بلکہ ان تنازعات کے حل کا پروگرام بھی ہو جو نوع بہ نوع بحرانوں کا سبب ہے۔ چین، یورپ اور امریکہ اگر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے خاطر مل کر دونوں خطوں میں امن معاہدوں کے لیے، تنازعات کے حل کے لیے اور ایک وسیع ترین اور عمیق ترین شراکت داری کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو جمع کر کے ایک جامع اور مؤثر مفاہمانہ سیاسی عمل کی حمایت کریں۔ اس کے علاؤہ اتنا ہی اہم معاملہ یہ ہے کہ باہم موجود تمام بنیادی سماجی، معاشی اور سیاسی شکایات کو دور کرنے کے لیے ایک مؤثر مکالمے کا آغاز ہو۔ اس سٹریٹیجی کے لیے ضروری ہے کہ پائیدار ترقی میں سرمایہ کاری ہو، تعلیم اور صحت کے دائروں کو توجہ دی جائے اور ہاں ایسے تجارتی اور سیاحتی معاہدوں کی منظوری دی جائے تاکہ ہمہ طرفہ محفوظ آمد و رفت جاری رہے نیز بدعنوانی اور عدم انصاف جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک صحت مند ماحول اور خوشحال معاشروں کی تعمیر کے لیے معاونت کو رواج دیا جائے۔

کوئی مانیں یا نہ مانیں کوئی قبول کریں یا نہ کریں مختلف علاقائی خطے پوری دنیا سے جڑے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ان خطوں کے اچھے برے اثرات صرف وہاں تک محدود نہیں رہتے بلکہ رفتہ رفتہ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی نفوذ کرتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری بین الاقوامی برادری مل کر مذکورہ بالا دونوں خطوں میں تنازعات کے حل اور اس کے بعد تعمیر نو کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار عزم کا مظاہرہ کریں۔ اس سلسلے میں میں بوقت ضرورت متاثرہ انسانوں کو ضروری امداد فراہم کرنا، دیرپا امن کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کرنا اور اس بات کو بہر صورت یقینی بنانا شامل ہے کہ تنازعات کو حل کرنے میں اتنی دیر کبھی نہیں کرنی چاہیے کہ جس سے پھر حل کی طرف واپس لوٹنا مشکل ہو۔ جب تک تنازعات کی جڑوں میں موجود چھپے محرکات کو بھی ختم کرنے پر توجہ نہ دی جائے اور باہمی تعاون، ہمہ جہت مکالمے اور ایک جامع ترقی کے لیے درکار ماحول کو فروغ نہ دیا جائے تب تک کامیابی ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب انسانوں کے دل و دماغ کو خیر اور عقل و شعور کو ترقی و خوشحالی سے منسلک کر کے ایک پُرامن اور خوشحال دنیا کو بنانے کے لیے ایک دوسرے کا خلوص سے ساتھ دینے کی ہمت عطا فرمائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے