اسلام آباد کی پانچ امن گاہیں

      انسانی معاشروں کا حُسن آپسی میل جول‘ باہمی تحمل و برداشت اور پرامن و پر سکون بود د باش میں ہے۔ ایک دوسرے کی ذاتی عادات و خصائل سے لے کر اجتماعی نظریات و عقائد تک ہر مرحلے میں ایک دوسرے کا احترام کرنا اور مختلف ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ہی انسانی معاشروں کو خوبصورت بناتا ہے۔ دنیا کے جن خطوں میں ان حسین روشوں کو اپنایا جاتا ہے وہاں نہ صرف انسانی معاشرے مستحکم اور مثالی ہوتے ہیں بلکہ بہترین انسانی تہذیبیں بھی انہیں معاشروں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ ان تہذیبوں کے پروردہ لوگ جہاں بھی سفر کرتے اور بستے ہیں وہاں وہاں تہذیبی اثرات قائم کرتے ہیں اور یوں انسانیت میں اس خوبصورتی کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

      پاکستان بلاشبہ متنوع معاشرے کی ایک زندہ مثال ہے جہاں مختلف ثقافتیں موجود ہیں۔ جہاں مختلف قبائل و اقوام اپنے مختلف رسوم و رواج کے ساتھ آباد ہیں۔ جہاں مختلف زبانوں پر مشتمل بولیاں بولنے والے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جہاں مختلف مذاہب اور مسالک کے پیروکار اپنے اپنے عقیدے و نظریے کے مطابق اعمال بجا لا رہے ہیں۔ دیگر انسانی معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی ثقافتوں کے نام پرلوگوں کو بانٹنے والے موجود ہیں۔ قوم قبیلے کے نام پر لڑانے والے بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔ لسانیت کے نام پر نفرت کا کاروبار بھی مدت سے کیا جا رہا ہے۔ اور مذہب و مسلک و فرقہ کے نام پر تفریق تو خیر عروج پر ہے۔ یہ طبقات تفریق سے کہیں آگے نکل کر کفر‘ خود کشی‘ قتل‘ دہشت اور وحشت تک جا چکے ہیں۔

      مگر اس سب کے باوجود ثقافتوں کی خوبصورتی اجاگر کرنے والے بھی موجود ہیں۔ قبائل و اقوام کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھنے والے بھی سرگرم ہیں۔ لسانی تفریق کی نفی کرکے ساری بولیوں کے محاسن بتانے والے بھی کام کر رہے ہیں اور مذہب و مسلک و فرقہ کے نام پر نفرت پھیلانے کی بجائے محبت‘ اخوت‘ برداشت اور رواداری کا سبق دینے والے بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔ ہماری آج کی ” امن کہانی “ انہی اچھے اور مثالی لوگوں پر مبنی ہے جو پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں جڑواں شہروں (راولپنڈی اسلام آباد) کی معروف اور مصروف شاہراہ ” اسلام آباد ایکسپریس وے “ کے حسین سنگم پر بیٹھ کر لوگوں کو محبت اور وحدت کی دعوت دے رہے ہیں۔

      کھنہ پل اسلام آباد سے تھوڑا قریب شکریال اور کُری روڈ کے درمیان پانچ ایسے مذہبی و مسلکی ادارے اور عبادت گاہیں موجود ہیں جن کی دیواروں ایک دوسرے کے ساتھ باہم پیوست ہیں۔ اگر تقسیم کرنے اور بانٹنے کا عمل شروع ہو تو سارے لوازمات موجود ہیں۔ یعنی ایک طرف شیعہ مسجد ہے تو دوسری طرف اہل سنت مسجد ایستادہ ہے۔ ایک طرف شیعہ دربار اور اس کے سجادگان موجود ہیں تو دوسری طرف سنی دربار اور اس کے سجادگان موجود ہیں۔ ایک طرف شیعہ امام بارگاہ موجود ہے تو دوسری طرف سُنی جلسہ گاہ و عرس گاہ موجود ہے۔ لڑوانے کے سو بہانے موجود ہیں لیکن سلام ہے ان سارے اداروں کے ذمہ داران کو جو لڑنے کے نہیں بلکہ جوڑنے اور جُڑنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔

      سائیں پیراں دتہ سرکار و سائیں بوٹا سرکار کے مزارات ایک طرف جبکہ امام بارگاہ قصر سکینہ بنت الحسین علیہ السلام دوسری طرف۔ جبکہ تیسری جانب باب ِ ولایت میں سرکار پیر محمد شاہ ولی بادشاہ کاظمی المشہدی کا دربار پُرانوار موجود ہے۔ چوتھی طرف جہاں اہلِ سنت جامع مسجد غوثیہ قلندریہ موجود ہے پانچویں طرف وہاں اہلِ تشیّع جامع مسجد القائم موجود ہے۔ ان دو مساجد کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے نہ دو درباروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اور نہ ہی امام بارگاہ کسی مسجد یا دربار کے لیے لڑائی کا باعث ہے۔ بلکہ یہ پانچوں عبادت گاہیں ایک دوسرے کے لیے خیر گاہیں اور محبت گاہیں بنی ہوئی ہیں۔ شرپسندوں کی لاکھ کوششیں جاری رہتی ہیں کہ ان پانچ عبادت گاہوں میں سے کسی ایک کو شرپسندی کے لیے استعمال کیا جائے لیکن ہر بار یہ عبادت گاہیں ہر شرپسند کے سامنے ” امن گاہیں“ بن کر سامنے رہتی ہیں۔

      امام بارگاہ قصر ِ سکینہ بنت الحسین اور مسجد القائم کے امام جمعہ و جماعت علامہ سید حسین باقر کاظمی نے ہمارے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ہمارا شاندار ماضی یوں تو کئی عشروں پر محیط ہے لیکن گذشتہ دوعشرے اس کی مثال آپ ہیں۔ ہمارے ہاں جب بھی محرم الحرام اور صفر المظفر کے مہینوں میں مجالس اور ماتمداریوں کے پروگرام منعقد ہوتے ہیں تو ان میں نہ صرف اہل سنت برادارن کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں بلکہ ہمارے ہمسائے علماء و سجادگان اس موقع پر اپنی مسجد اور دربار کے دروازے ہمارے نمازیوں اور عزاداروں کے لیے کھول دیتے ہیں جہاں ہمارے پروگراموں کے شرکاء اپنا گھر سمجھ کر بلا جھجک اپنی عبادت بھی کرتے ہیں اور لنگر نیاز کا اہتمام بھی اہل سنت برادران کی طرف سے مسجد اور دربار کے احاطے میں ہوتا ہے۔ ہم ہر غمی اور خوشی میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ نکاح اور جنازوں کی تقاریب میں بھی ہمارے درمیان تفریق نہیں بلکہ وحدت قائم ہوتی ہے۔ ان دنوں ہم اس بات پر وحدت کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طریقے سے دو الگ الگ جنازوں کی بجائے ہم ایک ہی جنازے پر اتفاق کر لیں اور سب مل جل کر مرحوم کا جنازہ ادا کریں۔

      علامہ باقر کاظمی نے بتایا کہ کچھ تکفیری قوتوں نے ہمارے اس خوبصورت اتحاد کو خراب کرنے کے لیے دائیں بائیں سے منفی سرگرمیوں کی کوششیں کیں اس کی ایک مثال کچھ عرصہ پہلے بعض تکفیری عناصر نے سوشل میڈیا کو بنیاد بنا کر ہمیں الجھانے کی کوشش کی حتی کہ معاملہ پولیس اور انتظامیہ تک ایف آئی آر کی شکل میں پہنچ گیا لیکن سب سے پہلے ہمارے اہل سنت برادران بالخصوص علامہ ہاشم حقانی کندھے سے کندھا ملا کر ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ ہم مساجد والوں‘ دربار والوں اور امام بارگاہ والوں نے مل جل کر اس سازش کو ناکام بنایا۔منفی قوتوں نے کبھی اہل سنت خطیب کو اکسانے کی کوشش کی تو کبھی درباروں کے سجادگان کو بھڑکانے کی کوشش کی تاکہ ہم آپس میں دست و گریباں ہوجائیں لیکن ان منفی قوتوں کا کوئی حربہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ آج ہم پہلے سے زیادہ احترام اور محبت کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔

      اہل سنت جامع مسجد غوثیہ قلندریہ کے امام جمعہ و جماعت‘ جامعہ کنزالایمان کے موسس ابوالعباس علامہ محمد ہاشم حقانی نے ہمارے ساتھ بات چیت میں بتایا کہ کئی دہائیوں سے ہمارے درمیان یعنی اہل سنت اور اہل تشیّع کے درمیان محبت و اخوت اور باہمی تعاون کا سلسلہ موجود ہے۔ ہم نے ”اپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں اور دوسروں کے عقیدے کو چھیڑو نہیں“ اور ” الجار قبل الدار“ یعنی گھر سے پہلے ہمسایہ کے بہترین فارمولوں پر عمل کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہمارے ان پانچ مراکز کے درمیان دیواریں ہیں لیکن یہ دیواریں اُن اغیار کے لیے ہیں تاکہ وہ پھلانگ نہ سکیں۔ ورنہ ہمارے دلوں میں کوئی دیواریں نہیں ہیں۔ ہمارے درمیان محبت اور اخوت کے مضبوط رشتے قائم ہیں اس میں ہمارے بزرگوں بالخصوص قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی سے لی ہوئی تربیت کا بہت عمل دخل ہے۔ اس لحاظ سے اس امن سکون کے ماحول میں جہاں دونوں سے طرف سے ہمارے احباب کی کاوشیں کارفرما ہیں وہاں ہمارے ان دو اکابرین کی تعلیمات کا اثر بھی شامل ہے۔

      علامہ محمد ہاشم حقانی نے بتایا کہ بارہ ربیع الاول کو میلاد شریف کا جلوس تیس سال پہلے ہم نے شروع کیاتو میں نے سوچا کہ جس رسول ؐ کا میلاد ہے وہ کسی ایک فرقے کے رسول ؐ نہیں بلکہ تمام عالمین کے لیے رحمت ہیں اس لئے میں نے پہلے اپنے اہل تشیّع بھائیوں سے رجوع کیا۔ اس کے ساتھ دیگر مسالک کے علماء و اکابر سے رابطہ کیا۔ اب ہر سال جب میلاد کا جلوس منعقد ہوتا ہے تو اور کوئی آئے یا نہ آئے لیکن ہمارے اہل تشیّع بھائیوں کی طرف سے بھرپور تعاون بھی ہوتا ہے اور شرکت بھی ہوتی ہے اس سے اتحاد امت کا خوبصورت مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ حقانی صاحب نے بتایا کہ ہم نے آپس میں طے کیا ہوا ہے کہ جب دوسری طرف مجالس کے پروگرام جاری ہوں گے تو ہم اس وقت باہر کے اسپیکروں میں آذان بھی نہیں دیں گے تاکہ مجالس کا ماحول ڈسٹرب نہ ہو۔ اسی طرح جب ہمارے ہاں کوئی مذہبی تقریب ہو رہی ہوتی ہے تو دوسری طرف کی مسجد یا امام بارگاہ سے باہر کے اسپیکروں میں آذان بھی نہیں دی جاتی۔ یہ ایک تاریخی تعاون ہے جو دیگر علاقوں کے لیے قابل تقلید ہے۔

      دربار سائیں بوٹا سرکار کے متولی سائیں حسن اختر نے بتایا کہ جس طرح محرم الحرام میں ہونے والی مجالس اور جلوسوں عزاء کے موقع پر ہمارے اہل تشیّع بھائی اپنے دروازے کھول دیتے ہیں اسی طرح جب ہمارے ہاں عرس مبارک کا تین روزہ پروگرام منعقد ہوتا ہے تو ہمارے زائرین کے قیام اور طعام کا بندوبست امام بارکاہ میں ہوتا ہے اور ہمارے مہمانان اور زائرین کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔ ہمارے شیعہ بھائی ہمارے عرس میں بھی شریک ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ انتظامات میں شامل ہوتے ہیں ہم اس لحاظ سے شیر و شکر ہیں اس کے ساتھ جب سامنے والے دربار بابِ ولایت میں سالانہ عرس مبارک ہوتا ہے تو اس کی مرکزی تقریب میں اہل تشیع علماء و اکابرین کے ساتھ ساتھ آخری مرکزی دعا ہمارے اہل سنت عالم جناب محمد ہاشم حقانی صاحب کرتے ہیں۔

      علامہ حسین باقر کاظمی‘ مولانا محمد ہاشم حقانی اور سائیں حسن اختر نے اس اخوت نگر اور امن گاہ کی کہانی میں موجود خوبصورت پہلووں پر بہت تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جسے طوالت کے سبب مختصر کیا جارہا ہے۔ لیکن اس امن کہانی کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی مذہبی معاشرے کے تمام تر مفاسد کے باوجود جہاں جہاں محاسن موجود ہیں جہاں خوبصورتیاں موجود ہیں جہاں اچھی مثالیں موجود ہیں جہاں مثبت کوششیں موجود ہیں جہاں روایت شکنیاں موجود ہیں جہاں انا کی قربانیاں موجود ہیں جہاں جرات و حوصلے موجود ہیں جہاں رواداری اور برداشت کا ماحول اور سکون و اطمینان کی فضاء موجود ہے اس مقام کی نشاندہی کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔ ایسی کہانیوں کا بیان اور تشہیر ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ پاکستان ہر قسم کی انتہا پسندی‘ عدم برداشت اور بدامنی سے آزاد ہو کر اپنے شہریوں کے لیے پرسکون اور پرامن معاشرہ پیش کرسکے۔ صدائے امن ہی صدائے انسانیت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے