کچھ ’’اس‘‘ کے بارے میں!

وہ جیسا بھی تھا میرا دوست تھا اس کی شکل کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ وہ جب بھی آئینہ دیکھنے کی کوشش کرتا آئینہ اسے سختی سے منع کر دیتا۔کھانا انتہائی بدتمیزی سے کھاتا چنانچہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ بھاگنے کی کوشش کرتا اس بھاگ دوڑ میں کھانے کا ایک حصہ وہ اپنے حلق میں اتارنے میں کامیاب ہو جاتا باقی ماندہ اس کے کپڑوں میں پناہ لیتا اس کی خوشی اور غمی کا اظہار بھی دوسروں سے مختلف تھا کسی گھر پر تعزیت کیلئے جاتا تو دھاڑیں مار مار کر روتا وہ روتا تھا یا نہیں مگر دھاڑیں ضرور سنائی دیتی تھیں، اس دوران تعزیت کیلئے آنے والے اس کی حالت دیکھ کر اسے مرحوم کا سب سے قریبی عزیز تصور کرتے اس کے گلے لگ کر دلاسا دینے لگتے اور یوںمرحوم کے حقیقی لواحقین اپنی اس حق تلفی پر دانت کچکچا کر رہ جاتے اسے جب کبھی ہنسی کا دورہ پڑتا اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے جاتے تو ان پانی کے قطروں کی بھی دبی دبی ہنسی سنائی دینے لگتی۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ اس کے باوجود وہ میرے دل کے بہت قریب تھا بہت سی عادتیں جو ملتی جلتی تھیں اس نے ملک اور ملک کے باہر سفر میرے ساتھ کئے اور ہم ذوقی کا یہ عالم کہ سفر کے دوران ہم ٹینڈے، کریلے، کدو، حلوہ کدو وغیرہ سے ایسے آنکھیں پھیر لیتے جیسے ان سے کبھی آشنائی ہی نہ رہی ہو چنانچہ ہم نئے مقامات کے وزٹ کے دوران اس علاقے کے کھانوں کو ترجیح دیتے روٹین سے ہم دونوں کی جان جاتی تھی، ہمارے مطالعہ کے موضوعات بھی بدل جاتے ایک جیسے دوستوں کی محفل سے بھی اکتا جاتے تھے حسن اور بدصورتی کا معیار بھی بدلتا رہتا ہم دونوں اپنے کپڑوں کے رنگ و روپ سے غیر مطمئن ہو جاتے تو اندرون ملک اور بیرون ملک بڑے بڑے اسٹورز کے معائنہ کیلئے نکل کھڑے ہوتے اور اپنی اپنی پسند کے ملبوسات الگ رکھوا کر باہر نکل آتے کہ خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے آنا تھے البتہ سفر کے دوران ہم اپنے ساتھ ایک دھوتی ضرور رکھتے جو عموماً سونے کے دوران کام آتی تاہم ہم دونوں ایک دوسرے کو گہری نیند میں دیکھتے تو از راہ احتیاط اسے جگا کر نازک صورتحال سے آگاہ کر دیتے۔

ایک دفعہ پیرس کی سیاحت کے دوران اس کی حب الوطنی جاگ اٹھی اور وہ اپنے ملک کے کروڑوں لوگوں کے روایتی لباس کو متعارف کرانے کیلئے چوخانے والی دھوتی پہن کر میرے ساتھ باہر سڑک پر آگیا میں نے اسے منع اس لئے نہیں کیا کہ ہم دونوں ایک طرح کی کمپنی ایک طرح کے دوست ایک طرح کی کتابیں ایک طرح کے کھانے اور ایک ہی طرح کا لباس مسلسل پسند نہیں کرتے تھے اس روز شانزے لیزے پر مردوں اور عورتوں کا احتجاجی جلوس نکلا ہوا تھا جو معاشرتی پابندیوں یعنی لباس پہننے کی پابندی کے خلاف تھا چنانچہ سب احتجاجی اپنے اپنے کپڑے گھر اتار کر آئے تھے اس دوران خوشبودار ہوائیں تیز آندھی میں بدلنا شروع ہو گئیں میرے دوست نے اپنا دیسی ملبوس سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر تیز ہوائیں کب کسی کی سنتی ہیں چنانچہ دھوتی نہ صرف کھل گئی بلکہ اڑتی اڑتی جلوس کے شرکاء پر جا گری اس پر احتجاجیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ ان کے موقف کی سچائی کا قائل ہو کر ایک راہگیر بھی انکے کنبے میں شامل ہو گیا ہے چنانچہ انہوں نے اس کا بھرپور استقبال کرتے ہوئے اپنے احتجاجی جلوس میں شامل کر لیا تاہم میں اپنے دوست کی منت سماجت کرکے اس قطار سے باہر لانے میں کامیاب ہو سکا مگر عملی طور پر وہ اس وقت تک اس جلوس کا حصہ رہا جب تک ہم دھوتی تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔

ہم دونوں میں ایک اور قدر جو مشترک ہے وہ بدتمیزی ہے بعض مواقع پر اسے لگتا ہے جیسے ہم پر دورہ پڑ گیا ہے اور ان لمحات میں ہم آئو دیکھتے ہیں نہ تائو چنانچہ جو منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتتے ہیں ایک دفعہ اس نے اپنے ایک قریبی عزیز سے ملایا جس کےمتعلق وہ پہلے ہی بتا چکا تھا کہ یہ حددرجہ منافق ہے نماز، روزے کا بھی پابند ہے اور اسکے ساتھ وہ ہر دو نمبر کام بھی کرتا ہے اس روز ان سے ملاقات کے دوران بتایا کہ انکل اس جمعہ کو حج پر جا رہے ہیں اس انکل نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا میں گنہگار حج پر کہاں جا سکتا تھا میں نیک دوستوں کی دعائوںسے جا رہا ہوں یہ سن کر میرے اندر کے بدلحاظ شخص نے کروٹ لی اور کہا انکل پھر تو آپ کو شیطان کو کنکر بھی مارنا پڑیں گے یہ سن کر ان کی آنکھیں انگاروں کی طرح سرخ ہو گئیں مگر مجھے کچھ کہنے کی بجائے اپنے عزیز سے کہنے لگے ’’تم آئندہ اس بدتمیز شخص سے نہیں ملو گے‘‘اب بہت دنوں سے اپنے اس ہم نوا دوست سے ملاقات نہیں ہوئی تاہم مجھے علم ہے وہ اس وقت جہاں بھی ہے بیہودگی سے کھانا کھا رہا ہو گا ۔کہیں ہنس رہا ہو گا بلاوجہ بے موقع ہنس رہا ہو گا یا دھاڑیں مار کر رو رہا ہو گا اور موقع پر موجود لوگ اس بلا کو قابو کرنے کی ناکام کوشش میں مشغول ہونگے۔اور اب آخر میں آج کے شاعر عباس تابش کی تازہ غزل:

رہ رہی ہے میرے ساتھ اور جانی پہچانی نہیں

گھر میں ویرانی ہے لیکن گھر کی ویرانی نہیں

اب نظر انداز ہونے کی بھی آسانی نہیں

کون سی جا ہے جہاں میں زیرِ نگرانی نہیں

پوچھنا یہ تھا کہ اِن تہمت گران شہر کو

شرم تو آئی نہیں کیا موت بھی آنی نہیں؟

بات کر اے خوبصورت شخص کوئی بات کر

اور ثابت کر تجھے کوئی پریشانی نہیں

ہم گزارش پر گزارہ کر رہے ہیں ان دنوں

تجھ کو تجھ سے چھین لینے کی ابھی ٹھانی نہیں
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے