بیوہ عورت آخر کیا چاہتی ہے ؟

کچھ عرصہ پہلے ایک موضوع سے متعلق ایک نظم پر کافی شور مچا بلکہ یوں کہنا چاہیے نظم کُلی طور پر محض اس موضوع سے متعلق نہیں تھی، پر بات یہی اٹھی اور چلتی رہی۔ کسی کو لگا وہ نظم ہی نظم کہلانے کے لائق نہیں ہے بلکہ وہ شاعر بھی شاعر تو کیا انسان تک کہلانے کے لائق نہیں، دوسری جانب وہ لوگ تھے جنہوں نے ادب کی بحث چھڑنے پر اس شذرے کو اعلی ترین تخلیق سے کم پر شمار نہ کیا بلکہ اسے نظم نہ سمجھنے والوں کے ادبی شعور پر سوال اٹھا دیا۔ یہ صورتحال نئی نہیں ہے ، کچھ مدت پہلے ایک بحث کے دوران اردو کے ایک افسانے کا حوالہ دیا گیا ،جس میں ایک بیوہ حالات کی ستم ظریفی اور ایسی تنہائی کا شکار تھی کہ اس کے لئے پھیری والے مرد کی آواز بھی غنیمت تھی , آج ایسے افسانے کی گنجائش نہ ہونے کا واویلہ بھی ہوا، پر آخر عفیفہ شہربانو نقوی نے ایسی بات کہی کہ اس موضوع پر ہوئی ہر بات کم پڑ گئی۔

بیوہ عورت آخر کیا چاہتی ہے ؟ اس سوال کے بہت سے جواب ہیں یا شاید ایک ہی جواب ہے۔

اگر وہ بیوہ عورت کسی شہید کی بیوہ ہے، جس کی نام پر پیسہ آتا ہو تو اس کی دوبارہ شادی روکنے کو یہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے کہ بچے رُل جائیں گے، اصل مقصد کچھ اور ہوتا ہے جیسا کہ وہ مالی مفادات جن کا سلسلہ بند ہو سکتا ہے۔ شہید کی بیوہ ہونا ایک رتبہ ہے ، اعلی و ارفع بات ہے ، اگر وہ اس تعلق پر قانع ہے اور یہ حالات کے جبر یا کنڈیشننگ کا نتیجہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے ، پر وہ خاتون ایک انسان بھی ہے ، اگر وہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے روکنا بہرحال غلط ہے اور روکنے کی خاطر جذباتی وابستگیوں سمیت اولاد کے واسطے دے کر واہیات استدلال گھڑنا غلط بات ہے، پر یہ ہوتا ہے اور اسی ملک میں ہوتا ہے۔

البتہ اگر ایسا سلسلہ نہ ہو تو بسا اوقات یہ شادی بچوں کے تحفظ یا جائیداد کی خاطر خاندان میں ہی کسی سے کرانے کا اہتمام کیا جا رہا ہوتا ہے بھلے وہ خاتون ایسا نہ چاہتی ہو۔ ایسی صورتحال میں پھر انہی بچوں کا واسطہ دے کر سہارا مل جائے گا یا آسرا ہو گا کہہ کر کم عمر یا ادھیڑ عمر دیور یا جیٹھ یا کسی اور سے شادی کروا دینا اس پر دوہرے جبر کے مترادف ہے جس سے نئی خاندانی کشمکش کا راستہ کھل جاتا ہے۔ جس رشتے کی جگہ کہیں نہیں تھی اب وہ رشتہ بھی ہے اور سو طرح کے مسائل بھی۔

ایک اور سینیریو ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ایسی شادی میں رہی ہو، جس میں محض تکالیف ہوں، جسمانی نفسیاتی یا جنسی تشدد کا سامنا رہا ہو ، ایسی صورتحال میں شاید وہ آپ کی توقعات کے مطابق ردعمل نہ دے ، ہو سکتا ہے وہ واقعی جان چھوٹنے پر خوش ہو، بس دنیا کی خاطر ، مالی مشکلات کے سبب یا جذباتی وابستگی کے سبب کچھ پریشان یا اداس رہے ۔ ہو سکتا ہے وہ خود کو دوسرا چانس دینا چاہے اور خوش رہے، ہو سکتا ہے اس دوسرے چانس کا انجام بھی پہلے سے مختلف نہ ہو۔

یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی خاتون ایک آئیڈیل خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہو اور ایسے میں پارٹنر کو کھو دینے کے باعث مکمل نفسیاتی بریک ڈاؤن کا شکار ہو جائے یا شدید اذیت سے گزرے۔ معاشی تنگدستی نہ ہو تو محض ایک رشتہ کھو دینے کو روتی رہے جسے دیکھ کر کوئی کم دست سوچے ہم بھی بیٹھ کر ایسا روتے اور اجڑتے اگر روز کمانے کی مصیبت نہ ہوتی ، اور گر مالی مشکلات بھی ہوں تو اس کے سامنے اذیت سمیت مالی مسائل سے نمٹنے کا حوصلہ سمیٹنا بھی ایک آپشن ہو ،اور وہ گزرتے وقت کے ساتھ اکیلے جینا سیکھ کر اسی میں خوش ہو۔

ہو سکتا ہے کوئی بیوہ خاتون واقعی اس بات سے پریشان ہو کہ اب اس کے سادے جملے یا تنہائی کو بھی دعوت سمجھ لیا گیا ہے اور ہر دوسرا بندہ اس پر منڈلاتا پھر رہا ہے تاکہ تھوڑا سا حصہ وصول کر سکے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات پورا کرنے کا راستہ ڈھونڈتی رہے جو مل کر نہ دے یا جبری طور پر واسطے دے کر یا ڈرا دھمکا کر روکا جائے۔ ویسے بھی ہونے کو تو یہ بھی ہو سکتا ہے، کوئی وائبریٹر ڈلڈو یا خودلذتی وغیرہ میں ہی تسکین ڈھونڈ لے، اسے رشتے کا بوجھ ڈھونے میں دلچسپی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے وہ واقعی ایک ساتھی کو کھو دینے پر دکھی ہو پر جذباتی سہارے، مالی مشکلات ، جسمانی ضرورت یا تحفظ سمیت کسی بھی وجہ سے خود ایک نئے رشتے کی جانب بڑھنا چاہے۔

ہو سکتا ہے اس جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا بیوگی کا درجہ بھی قائم رکھنا چاہے ، ہو سکتا ہے وہ تنہائی سے تھک کر آپ سے بات کرے تو آپ موقعے پر چوکا لگانے کے شوقین ہوں، ہو سکتا ہے وہ واقعی اس عمل میں دلچسپی نہ رکھتی ہو اور آپ خوامخواہ گھسنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

بعض اکیلے رہ جانے والے پھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ اولاد کی خاطر کرتے ہیں ، یہی اولاد جب اپنی زندگی میں آگے بڑھے تو ان پر اپنی قربانیوں کا بوجھ لادنا چاہتے ہیں ، خراج مانگتے ہیں ، احسان جتاتے ہیں۔ اگر آپ اس تنہائی کا فیصلہ ان بچوں کی وجہ سے کر رہے ہیں تو آج کل کیا ہمیشہ سے ہی بیس بائیس سال بلکہ اس سے بھی پہلے بچوں کی اپنی مصروفیات اور اپنی زندگی شروع ہو جاتی ہے، جس میں آپ ایک حصہ ہو سکتے ہیں مکمل زندگی نہیں ، اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے والے خود بھی تلخ ہوتے جاتے ہیں، دوسروں کے لیے بھی تلخیاں بڑھاتے ہیں۔ خود کو محور سمجھنے پر اصرار مت کریں۔

شہید زندہ ہوتا ہے جیسا ڈسکورس اس کی بیوہ کو زندگی کی رعنائیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ ساتھ رعنائیوں سے محروم رکھنے واسطے بھی استعمال ہوتا ہے. اس لیے کسی پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے سے پہلے زمینی حقائق دیکھنا بھی اہم ہونا چاہیے جو شاید پولیس والوں کی سمجھ سے باہر کی بات ہے۔ کتاب کے بیچ سے بات کرنے کا نقصان بھی بس یہی ہوتا ہے کہ اسے کسی بھی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

خواتین ہو یا مرد، کسی کا بھی شریکِ حیات نہ رہے تو ان پر اپنے والدین بہن بھائی سسرال دوست ہونے کے رشتے کا بوجھ ڈال کر انہیں نیا تعلق بنانے سے روکنا غلط ہے ، بسا اوقات مرد اس مشکل کا شکار ہو جاتے ہیں جب ان کے بچے والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی سے روکتے ہیں ، کبھی انہیں لگتا ہے ان کی ماں کی جگہ کوئی لے لے گی تو کبھی جائیداد کا اور وارث آ جائے گا یا کوئی لوٹ کر کھانے والی آ جائے گی یا پھر اپنے والدین کا جسمانی تعلق یا جسمانی ضرورت بھی ہو سکتی ہے؟ یہ تو بہت گندی اور نامعقول بات ہوئی، ہمارے والدین ایسا نہیں چاہ سکتے۔ اسی طرح خواتین بھی اس سوال کا سامنا کرتی ہیں کہ ہمارے باپ کی جگہ کوئی دوسرا نہیں لے سکتا حالانکہ ٹیکنیکلی واقعی کوئی نہیں لے رہا، آپ کا ڈی این اے بتا رہا ہے باپ کون ہے ماں کون ہے ، ان کا پارٹنر بدل رہا ہے آپ کے ماں باپ نہیں ، پر جب تک اس بات کی سمجھ آتی ہے تب تک انسان اپنے آپ کو اس قدر ذہنی اذیت میں مبتلا کر چکا ہوتا ہے کہ خود مریض بن جائے۔

اس میں بہرحال کافی کمال اس معاشرت اور والدین کا بھی ہے جو خود کو ایسے سنگھاسن پر بٹھائے رکھتے ہیں کہ پھر برسوں کی کنڈیشننگ کے بعد انہی کے سدھائے ہوئے انہیں راستوں پر چلتے ہیں، وہی پابندیاں لگاتے ہیں تو بری لگتی ہیں یا وہ لوگ جو ان رشتوں سے اپنا بدلہ لینے ، فائدہ حاصل کرنے یا روک لگانے واسطے اولاد کو استعمال کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل حدیقہ کیانی اور بلال عباس کا ایک ڈرامہ آیا تھا "دوبارہ” اسے بھی دیکھیں۔ جیسے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر کسی کو مخلص رشتہ مل جائے ویسے یہ بھی ضروری نہیں کہ مخلص نہ ہو۔ ایسی زندگیوں میں نئے شامل ہونے والے مرد اور خواتین بھی اگر کشادہ دلی کے ساتھ ذمہ داریاں اور آسائشیں بانٹ لیں تو ہمارے جیسے معاشرے میں مصائب کم ہو جائیں، اپنا اپنا بچہ پیدا کر کے ڈائنوسار کی نسل بچانے کی مہم پر نکلے ہوئے لوگوں سے گزارش ہے کہ ایک نظر ان بزرگوں پر بھی ڈالیں جنہیں اب کوئی پوچھ نہیں رہا اور ان بچوں پر بھی جن سے اب بھی نہیں پوچھا جا رہا۔ ایسے بزرگ بھی آتے ہیں جو روتے ہیں، ایک اولاد ہی ہو جاتی تو اب سنبھال لیتی ، ایسے بھی جن کے سرہانے پندرہ لوگ کھڑے ہوں اور ایسے بھی جن کے دس ہیں پر ساتھ آنے والا کوئی نہیں۔ ایک وقت کے بعد سب اپنی زندگیوں میں ہوتے ہیں ، کوشش کریں ہمارے جیسے ملک میں جہاں نرسنگ کیئر یا ہو،سپیس موجود نہیں وہاں ان بزرگوں کا خیال کر لیں ، یس آپ کی لائف متاثر ہو سکتی ہے آپ تیار ہو کر آپس میں گھومنے پھرنے نہیں جا سکتے کیونکہ کسی کو گھر میں رہنا پڑے گا ، بیڈ پر ہے تو باقی ضروریات کا خیال رکھنا اور بھی گندہ کام لگے گا پر یقین جانیں اٹس جسٹ آ میٹر آف لک اور بیڈ لک۔۔

ایک وائرس کا اٹیک ، ایک حادثہ ، ایک بیماری اور اس بیڈ باؤنڈ مریض کی جگہ ہم خود ہو سکتے ہیں .اس لیے تھوڑا دھیرج رکھیں آخر آپ کتنی ہی آؤٹنگ کر لیں گے یا کتنی ہی شاپنگ کر لیں گے۔ ہاں ہوتے ہیں اکھڑ بدمزاج خودسر بوڑھے لوگ بھی جو شاید آپ کی زندگی عذاب بنا چکے ہوں پر جب وقت انہیں آپ کے رحم و کرم پر ڈال دے تو اس روز بدلہ لینا بھی آپشن ہے اور خیال رکھنا بھی۔ کم از کم فیصلہ کرتے وقت ذہن صاف رکھیں تاکہ ملال نہ ہو۔

یہ تحریر محض چند حقیقی مسائل کا سامنا کرنے والوں کی وجہ سے لکھی گئی ہے ، اگر آپ کسی ایسے شخص سے واقف ہیں تو اپنی ذات کی حد تک اس کے مسائل میں اضافہ نہ کریں اور حالات کا جبر اس پر مسلط مت کریں۔ رنگین لباس پہننا یا نہ پہننا ، سجنا سنورنا یا اجڑی حالت میں رہنا ، بازار نہ جانا ، ڈرامے دیکھتے دیکھتے سفید لباس، سفید چادریں اوڑھانے کا شوقین ہو جانا یا ہلکے رنگ کے لباس کو ترجیح دینے میں سے کوئی ایک بھی لاجیکل حرکت نہیں ہے ۔ اپنے رشتے کا سوگ خود منائیں کسی اور پر مسلط کر کے اسے زندگی میں آگے بڑھنے سے مت روکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے