ہندی کلینڈر کے مطابق جون کے مہینے کو جیٹھ کہتے ہیں۔جیسے کے نام سے محسوس ہوتا ہے، کہ سخت موسم۔ یعنی اس مہینے میں گرمی اپنے عروج کی طرف جاتی ہے۔ دن کو نو بجے کے بعد کسی سایہ دار درخت کی طرف یا کسی ٹھنڈے چھت کی طرف جانے کو سوچتے ہیں۔ بڑے فرماتے ہیں، کہ جیٹھ کے موسم میں زمین اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ اس میں ہل چلانا مشکل نہیں، بلکہ محال ہوتا ہے۔ اور لوگ جیسے ہی مون سون ہواؤں کا رخ ہوتا ہےاور یہاں برسات کا آغاز ہوتا ہے تو کسان اپنی زراعت کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
رب ذوالجلال کی کرنی دیکھو۔ پچھلے دو، تین سالوں سے موسمی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور وہ چیزیں عیاں ہو رہی ہیں جو لوگ نہیں مانتے تھے کہ کلائمیٹ چینج ایک حقیقت ہے۔ ابھی کل کی بات ہے۔ حیدرآباد میں بال جتنی بڑی بڑی ثرالہ باری ہوئی ۔ اب بال جتنی ثرالہ باری جب ہوگی۔ اس نے کتنے نقصانات کیے ہوں گے۔ پچھلے دو تین مہینوں سے گندم کی کٹائی کا سیزن تھا۔ صوابی کے علاقے میں تو فصل پانی میں بہہ گی تھی۔ ثرالہ باری نے بونیر کے کئی علاقوں میں گندم کی فصل بالکل ختم کر دی تھی۔ پھر جب دوبارہ ثرالہ باری ہوئی۔ تو تمباکو کی فصل کو بالکل ہی ختم کر دیا۔ بونیر میں تقریبا تیس فیصد گندم اب بھی کھڑی ہے۔ اور بارش ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
کل سے گورنمنٹ نے گرمیوں کی عام چھٹیوں کا اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی ہے۔ کہ ایک بچے نے سردی کا بڑا سویٹر پہنا ہے۔ کوئی پوچھتا ہے، کہ بیٹا اسکول کیوں نہیں گئے۔ تو بچہ بولتا ہے کہ ہماری گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئی ہے۔
تو یہ ہے، اصل میں موسمیاتی تبدیلی جسے "کلائمیٹ چینج ” کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان پانچ ہٹ ممالک میں ہے۔ جہاں موسمی تبدیلی ٹاپ پر ہوگی۔ اب چونکہ کلائمیٹ چینج کے جو ماہرین ہیں۔ وہ معاشرے کو آگاہ کریں کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو اس بات کو نہیں مان رہے تھے کہ کلائمیٹ چینج ایک حقیقت ہے۔ لیکن آخری بار جو سیلاب آیا۔ جس سے ہمارے ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوئیں۔ اور اب جون کے مہینے میں دسمبر کا سماں ہے، جہاں بندہ گرم گرم کھانوں اور گرم گرم چادر اوڑھنے کو چاہتا ہے۔ یہ حقیقت میں کلائمیٹ چینج ہے۔
آج فرسٹ جون ہے اور تقریبا کل سے بارش شروع ہوئی ہے۔ آج کی بارش کی بوندوں کی آواز بندے کو دسمبر کی لمبی راتوں میں بارشوں کے شور میں بندے کو پہنچا دیتی ہے۔ بندہ یہ ضرور سوچتا ہے کہ یا دسمبر کا مہینہ ہے اور یا دسمبر کا مہینہ واپس آگیا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھند نے اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ دھند کبھی تیزی کے ساتھ بھاگ کر دوسری چھوٹی پر چلی جاتی ہے۔ کبھی اپنی جگہ ٹک کر کھڑی رہتی ہے۔ بالکل ایک رومانوی موسم بنا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں، کہ اگر جون کیٹس آج زندہ ہوتا۔ تو ضرور ایسا کچھ لکھتا کہ رہتی دنیا تقریبا سو سالوں تک اپنے بچوں کو پڑھاتی۔
موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات کو دو اہم زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: قدرتی اور انسانی
قدرتی وجوہات: آتش فشاں پھٹنا سلفر ڈائی آکسائیڈ اور راکھ کو فضا میں چھوڑتا ہے، جو سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے اور سیارے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
زمین کے مدار میں تبدیلیاں: سورج کے گرد زمین کے مدار میں تبدیلیاں سیارے کو حاصل ہونے والی شمسی توانائی کی مقدار کو متاثر کرتی ہیں۔
سورج کی توانائی کی پیداوار میں تبدیلی عالمی درجہ حرارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
سمندری دھاروں میں قدرتی اتار چڑھاؤ اور ماحول کی گردش کے پیٹرن آب و ہوا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انتھروپجینک یا انسانی وجوہات:
جیواشم ایندھن کو جلانا: توانائی کے لیے کوئلہ، تیل اور گیس کا دہن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کو خارج کرتا ہے، جو ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔
جنگلات کی کٹائی اور زمین کے استعمال میں تبدیلیاں: زراعت، شہری کاری اور دیگر مقاصد کے لیے جنگلات کو صاف کرنا، درختوں میں ذخیرہ شدہ کاربن کو خارج کرتا ہے اور جنگلات کی CO2 کو جذب کرنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔
زراعت: مویشیوں کی پیداوار اور چاول کی کاشت میتھین (CH4)، ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس۔
صنعتی عمل: سیمنٹ کی پیداوار، اسٹیل کی تیاری، اور دیگر صنعتی عمل بڑی مقدار میں CO2 جاری کرتے ہیں۔
نقل و حمل: گاڑیوں، ہوائی جہازوں، اور دیگر نقل و حمل کے طریقوں سے اخراج گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ڈالتا ہے۔
آبادی میں اضافہ اور کھپت: جیسے جیسے عالمی آبادی بڑھتی ہے، اسی طرح توانائی کی طلب، خوراک کی پیداوار، اور فضلہ کی پیداوار بھی بڑھتی ہے، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ انسانی حوصلہ افزائی کے عوامل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافے کے ذمہ دار ہیں، جس سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی ہوتی ہے۔