پاکستان میں 2کروڑ لوگ بے روزگار اور34لاکھ لوگ جبری مشقت پہ مجبور ہیں

اسلام آباد (عاطف شیرازی) پاکستان میں 2کروڑ لوگ بے روزگار اور34لاکھ لوگ جبری مشقت پہ مجبور ہیں۔جبری مشقت اور کمسن بچوں سے کام لینا پاکستان کی عالمی منڈی تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرسکتا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر ارگنائریشن لیبر قوانین کو مستحکم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کا م کررہی ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان میں انٹر نیشنل لیبر ارگنائزیشن کے کنٹری ڈائریکٹر گئیرٹنسٹول نے میڈیاورکشاپ میں بتایا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ حکومت پاکستان ہمیشہ آئی ایل او کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار رہتی ہے.

پاکستان 1947سے آئی ایل او کا ممبر ہے اور آئی ایل او نے 1970میں پاکستان میں اپنا دفتر کھولاانہوں نے کہاکہ ہم ان ٹریڈ یونیننز کا خیر مقدم کرتے ہیں جو مزدورں کی نمائندگی کرتے ہیں. پاکستان ورکر فیڈریشن اور ایمپلائرز فیدریشن آف پاکستان بھی ہمارے رکن ہیں ،ہم لیبر قوانین کو مستحکم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے جو جی پی ایس سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ جس نے تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں، کنٹری ڈائریکٹر گئیر ٹنسٹول نے آگاہ کیا کہ پاکستان کا بہت زیادہ انحصار ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پر ہے، جبری مشقت اورچائلڈ لیبر کی بنا پر پاکستان کی عالمی منڈی تک رسائی میں رکاوٹ آسکتی ہے اور کو ئی بھی ملک خریداری نہیں کرے گا،انہوں نے کہا کہ آئی ایل او آجر،حکومت اور ورکرز یونین کے مابین پل کا کردار ادا کرتا ہے تاکہ معاشرتی انصاف اور منصفانہ ملازمتوں کو یقینی بنایا جاسکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے