مو سمیاتی تبدیلی اور ضلع کرم

یو نیو رسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد میں واپس اپنے علاقے ضلع کرم آ گیا اور یہاں سے اپنے کیرئیر کا آغاز کردیا . یہاں ٹیچنگ شروع کرنے کے بعد ہر سال میں نے گرمی کی شدت کو محسوس کیا اور پچھلے سال سردی کی ایک لہر بھی بہت شدید تھی جو تقریبا دس دن تک جاری رہی اور میں نے زندگی میں اتنی سخت سردی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میں نے بیچلر بائیو ٹیکنالوجی میں کی ہے، اسی وجہ سے مجھے مو سمی تغیر کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا.

موسمیاتی تبدیلی سے جس طرح دوسرے علاقے متاثر ہو رہے ہیں ۔ اسی طرح سے ضلع کرم بھی متاثر ہو رہا ہے، جس میں کبھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور کبھی سردی.کبھی مہینوں تک بارش نہیں ہوتی تو کبھی دریا کرم میں اونچے درجے کا سیلاب آجاتا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں ،جو میں نے نوٹ کی ہیں.

1 جنگلات کی کٹائی

اپر لوئیر اور سینٹرل کرم میں جنگلات کو بے دریغ کاٹا جا رہا ہے۔ چونکہ ضلع کرم ایک سرد علاقہ ہے اور یہاں قدرتی گیس موجود نہیں تو اسی وجہ سے لوگ سردیاں گزارنےکے لئے لکڑیاں بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں ۔ سنٹرل کرم سے زیادہ تر درخت فرنیچر بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اپر کرم کے پہاڑی علاقوں میں لوگ غریب اور بےروزگار ہیں. اسی وجہ سے وہ جنگلات کو بیچ کر زندگی گزارتے ہیں. اسی سال بھی ایک بڑے پیمانے پر جنگلات (درختوں) کو کاٹا گیا۔ 2010 میں اُس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضلع کرم کو قدرتی گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا .جس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ۔ گیس کی فراہمی اور پہاڑی علاقے کے لوگوں کو روزگار دینے سے بھی جنگلات کی کٹائی میں کمی آسکتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی سے جنگلی حیات (وائلڈ لائف) اور پرندوں کی تعداد میں بھی کمی آرہی ہے۔

2۔ ضلع کرم میں 2007 سے لے کر اب تک درجنوں لڑائیاں اور بم دھماکے ہوئے ہیں ۔ جس سے بھی فضا متاثر ہوئی ہے ۔ 13 اپریل 2017 کو امریکہ نے ایک بہت بڑے بم جیسے "مادر آف آل بم” کہا جاتا تھا ،ننگر ہار میں استعمال کیا تھا ،جس کی سر حد ضلع کرم سے ملتی ہے اور اس کے استعمال سے کرم کی کچھ گھروں کی دیواروں میں دراڑ بھی آئی تھی۔

3۔ جس طرح آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح گاڑیوں اور دوسری ضروری اشیاء کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ضلع کرم میں این سی پی (Non – custom Paid) گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے تقریباً ہر گھر میں گاڑی موجود ہے۔ اور زیادہ تر لوگ آ مد ورفت کیلئے اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔اور لوکل ٹرانسپورٹ کا استعمال کم یا بالکل نہیں کرتے۔ سڑکیں بھی جو چالیس سال پہلے جتنی تھی، ابھی بھی اتنی ہی ہیں اور ان کو مزید کشادہ نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے پارا چنار سٹی اور صدہ میں اکثر ٹریفک جام ہوتا ہے۔ گاڑیوں کے بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے اور اس سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے بھی فضا متاثر ہوئی ہے.

4. ضلع کرم کے کچھ علاقوں میں پرندوں کا شکار بہت زیادہ ہے۔ اور اکثر لوگ ایک طریقہ جسے پشتو میں (لوما) کہا جاتا ہے کا استعمال کرتے ہیں ۔ جس میں بیک وقت درجنوں اور کبھی کھبار سینکڑوں پر ندے پھنس جاتے ہیں۔ جس میں اکثر کی موت بھی ہو جاتی ہے.

5. پلاسٹک کا استعمال

ضلع کرم میں پلاسٹک کا استعمال بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی بارش ہوتی ہے تو پاراچنار شہر کی اکثر نالیاں پلاسٹک پھنسنے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہیں ۔ اور گندہ پانی سڑکوں پر بہنے کو ملتا ہے ۔ یہاں تقریباً ہر چیز حتیٰ کہ کھانے پینے کی اشیاء بھی پلا سٹک میں بند ملتی ہے. لوگ سامان لانے یا لے جانے کے لئے بھی پلاسٹک استعمال کرتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ویسٹ مینجمنٹ اور نکاسی آب کا بھی کوئی خاص نظام موجود نہیں.

6. لینڈ سلائڈنگ

بلبلاک ایک چھوٹا گاؤں ہے جو بغکی پہاڑوں پر واقع ہے۔ اس علاقے میں تقریباً دس سالوں سے لینڈ سلائیڈنگ ہو ر ہی ہے۔ اور زیادہ تر علاقہ سلائیڈنگ کی وجہ سے بہہ گیا، جہاں سلائیڈنگ ہوتی ہے وہاں درخت نہیں ہیں۔ اور یہ دلدلی علاقہ ہے اور گاؤں کی دوسری طرف جہاں درخت بہت زیادہ ہیں، وہ علاقہ سلائیڈ نہیں ہو رہا۔ اس علاقے میں درخت لگا کر لینڈ سلائیڈنگ کو ختم کیا جا سکتا ہے .

7. خوراک کا عدم تحفظ

جس طرح پاکستان کو فوڈ انسیکیور والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح ضلع کرم میں بھی اکثر لوگ اچھی زندگی کی تلاش میں دیہاتوں سے شہری علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور وہ زراعت اور کاشتکاری چھوڑتے ہیں ۔ ضلع کرم سے اکثر لوگ بیرون ممالک چلے گئے اور ان کی فیملی جو یہیں علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، انہوں نے بھی کا شتکاری کم کردی یا پھر چھوڑ دی ہے۔

ضلع کرم میں موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اکثر کوگ آگاہ نہیں ہیں اور یہاں اس پر ابھی تک کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے۔ لوگوں میں موسمیاتی تبدیلی کے متعلق آگاہی پھیلانے، جنگلات کی کٹائی کو کم کرنے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور جنگلی حیات و پرندوں کے شکار پر پابندی سے موسمیاتی تبدیلی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ضلع کرم کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ ہے. اگر ہر ایک فرد ہر سال ایک ایک پودا ،اپنے آنے والی نسل کے لئے لگائے تو آٹھ لاکھ پودے ہو جائیں گے، اس سے فضا خوشگوار اور موسمیاتی تبدیلی کو قابو کیا جا سکتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے