ہر سال کی طرح اس بار بھی جون کی چلچلاتی دھوپ میں ہمارے سورماؤں نے سال بھر کے لیے اس کچلی ہوئی مخلوق جس کو عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے کہ لیے سال بھر کا حسابی گوشوارہ ترتیب دیا ہے ،جس میں طے کیا ہے کہ کس طرح سے خون آشامی کرنی ہے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اس شدید گرمی میں انسانی مزاج ویسے ہی آسمان کو چھو رہا ہوتا ہے، دن میں ہزاروں جھگڑے گلی محلوں بازاروں اور سڑکوں پر دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ چھوٹی سی بات پر سیخ پا ہو کر دست و گریباں ہو جاتے ہیں اور اس عدم برداشت والے رویئے میں جہاں بہت سے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں. وہاں پر موسم کی شدت بھی لازمی طور پر شامل ہے تو یہ حکمران کسی ٹھنڈے موسم کو ہی منتخب کر لیا کریں، اس بجٹ سے مارنے کے لیے۔
حالیہ پیش کردہ خیالی بجٹ میں کئی تخلیاتی ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، ٹیکس کا ہدف 12970 ارب مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ برس کی نسبت 40 فیصد زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندھے میں الجھے بغیر بس اتنا عرض کر دوں کہ عوام کی چمڑی ادھیڑ کر ٹیکس کی دھمڑی دھمڑی وصول کی جائے گی۔ اور یہ اشرف مخلوق عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اپنا اور اپنی نسلوں کا مال حرام سے شکم پروری کرتی رہے گی۔اور اس 20 کروڑ سے زائد ھجوم کو پارٹی پارٹی کھیلنے پر لگایا ہوا ہے، کوئی اپنے اپ کو نون کا متوالہ سمجھتا ہے اور کسی کا بھٹو قبر میں جانے کے بعد بھی زندہ ہے اور کوئی قوم یوتھ کا جیالہ ہے۔اور یہ سب ایک دوسرے کے گھر کو جلتا دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں .مگر یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ جن کے جھنڈے یہ اٹھائے پھرتے ہیں اس جھنڈے کا ڈنڈا کہاں ہے؟
میری نظر میں کل بھی یہی حل تھا اور آج بھی وہی حل ہے کہ جب تک عوام شخصیت پرستی کے خبیث چنگل سے نہیں نکلے گی، اس وقت تک ان کا اور ان کی نسلوں کا مقدر سیاہ ہی رہے گا اور ان کی دکھ اور تکلیف بھری رات کبھی بھی سکھ کا سورج نہ دیکھ سکے گی۔
اور یہ بات میں اس لیے بھی لکھنے پر مجبور ہوں کہ آج سے سالوں پہلے جو کالم لکھا تھا اس میں جن عذابوں کا ذکر تھا ،وہ عذاب ابھی تک اس قوم پر مسلط ہیں۔آج سے سالوں پہلے لکھے گئے الفاظ اپنے پڑھنے والوں کی نظر کر رہا ہوں اپ خود ہی پڑھ کر یہ اندازہ لگا لیں کہ سالوں پہلے کیا حالات تھے اور اب کیا تبدیلی آئی ہے ۔بجلی گیس مہنگائی لوڈ شیڈنگ گیس شیڈنگ اور دیگر کئی عذاب تب بھی تھے اور انہی عذابوں کا سامنا اب بھی ہے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے .
"نام اس کا آمریت ہو کہ جمہوریت
منسلک فرحونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے”