کہاں گیا روٹی کپڑا اور مکان؟

ہر سال کی طرح بجٹ آیا اور اس خوش فہم قوم کی امیدوں ایک بار پھر روندتا ہوا گزر گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کا سالانہ میزانیہ اور اس کا حجم اس ملک کی معاشی ترقی کا آئنہ دار ہوتا ہے مگر میں کبھی کبھی سوچتا ہوں یہ بجٹ نامی عذاب اگر نازل کرنا ہی ہوتا ہے تو نومبر،دسمبر جیسے ٹھنڈے مہینوں کا انتخاب کیوں نہیں کیا جاتا؟اس گرمی میں کہ جب درجہ حرارت 40،اور ملک کے بیشتر علاقوں میں 50 درجے تک جا پہنچتا ہے، ایسے میں بجٹ بم گرا کے پہلے سے کچلی قوم کو مکمل درگور کرنے کا سامان کیوں کیا جاتاہے؟

خیراس میں بھی ممکن ہے حکمرانوں کا فا ئدہ اور کوئی معاشی مصلحت پوشیدہ ہو جسے ہم جیسے ناقص فہم کے لوگ نہ سمجہ سکتے ہوں۔اس بار بھی امید بہار رکھ کے ترانے کی دھن پر اپنے وزیر مالیہ جناب اسحاق ڈار صاحب نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے ہم ایک بار پھر ایک بہترین بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں اور جس کی وجہ سے عالمی ادارں کا ہماری حکومت پر اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور جس کی وجہ سے وہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی
قومی معشیت کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور اگلے30 سال میں پاکستان دنیاں کی چند بڑی معشیتوں میں شمار ہو گا۔

اللہ ہی بہتر جانتا ہے، زمینی حقائق تو روح فرسا منظر پیش کر رہے ہیں۔پاکستان کی تمام حکومتیں بجٹ فائر کرنے سے پہلے اور پیش کرنے کے دوران محصولات کی کمی کا رونا روتی نظر آتی ہیں اور ریونیوبورڈ کی طرف سے وقفے وقفے سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن ہر مالی سال کے اختتام پر پتا چلتا ہے کہ محصولات کا ہدف پورا نہیں ہو سکا، پورا ہو بھی کیسے جو ٹیکس نیٹ یا جال بنا جاتا ہے، اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے صرف بڑی مچھلیاں ہی بچ سکیں۔

لہذا حکومت آسان حل کی طرف جاتی ہے اور وہ ہے عام روز مرہ کی استمال کی اشیاء پر ٹیکس لگانے کے علاوہ پٹرول، بجلی، گیس کو مہنگا کر دیا جاتا ہے ،جس کا اثر تمام اشیاء ضروریہ پر غیر معمولی مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔اور ملکی آبادی کا مزید ایک بڑا حصہ خط غربت سے نیچے چلا جاتا ہے۔

اس کے برعکس مراعات یافتہ طبقہ ہر بار مزید نواز دیا جاتا ہے جیسا کہ حالیہ بجٹ میں مزدور کی تنخواہ میں ایک ہزار کا اضافہ کر کے ایک سنگین مزاق کیا گیا ہے۔ کتنے ایسے ادارے ہیں جو پہلے چودہ ہزار دے رہے ہیں جو اب پندرہ دیں گیں۔

حالیہ پیش کردہ بجٹ میں خسارہ کتنا ہے؟محصولات میں کمی کتنی ہوی اور گردشی قضے کس بلا کا نام ہے، اس قسم کی حسابی موشگافیاں اور دقیق زبان میری طرح اس ملک کے لاکھوں لوگوں کی فہم سے بالا ہے اور ایک اکثریت کی تعلیمی استعداد کو مشکوک بنانے کے لیے کافی ہے۔

اور خیر سے حالیہ پیش کردہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم ہمارے ٹی وٰ ٹاک شو کے 24/7 شوز کے گوریلے میزبان احسن طریقے سے اگلے کئی ہفتوں تک سرانجام دیتے ہی رہیں گئیں اور جہاں حکومتی ڈفلی بجانے والے درباری نورتن زمین و آسمان ایک کر دیں گیں، اس بجٹ کو عوام دوست ثابت کرنے کے لیے۔

مگر جناب میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ ٹھنڈے یخ کمروں میں اشاریوں کے تانوں بانوں سے مزئین یہ تخمینہ اٹھارہ کروڑ سے زائد ہجوم نما عوام کے آقا جب سنا رہے ہوتے ہیں تو بائر 50 ڈگری کے چلچلاتی دھوپ میں جھلستی یہ عوام ایک ہی بات پوچھتی نظر آتی ہے، کیا اس دفعہ ہم دال روٹی آسانی سے کھا سکیں گیں؟کیا ایک غریب آدمی شام کو گھر آتے وقت اپنے بچوں کی معصوم خواہشوں کا سامنا کر سکے گا یا پھر ان کی آنکھوں میں سسکتے سوالوں سے بچنے کے لیے وہاں چلا جائے گا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا؟

دوسری جانب اسی ملک کے صدر کا ذکر کرتا چلوں کہ جن کی آفادیت کا کوئی پہلو ہماری نظر میں تو نہیں آیا ، ان کو ان کی انتھک محنت کی بنا پر اس بجٹ میں ماہانہ 16 لاکھ دینے کا فیصلہ ہو ا ہے۔ اس کے علاوہ تحائف دینے اور آنے والے مہمانوں کی آو بگھت کرنے کے لیے 12 سے بڑھا کر 18 لاکھ کر دیئے گے ہیں۔اس کے علاوہ صوابدیدی فنڈ (جہاں دل چاہے خرچ کرو)10 لاکھ، ایوان صدر کے لیے95 کرووڑ96 لاکھ، ایوان صدر کی زیبائش کے لیے 2 کرووڑ، باغ باغیچوں کے لیے 4 کروڑ13 لاکھ، گاڑیوں کے لیے 3 کروڑ97 لاکھ، ایوان صدر ڈسپینسری کے لیے 2 کروڑ12 لا کھ اور آخر میں صدر کے دوروں کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ میں 1 کروڑ32 لاکھ مختص کیے گے ہیں۔

یہ اعدادوشمار اس شخصیت کے ہیں کہ جس نے سالانہ چار پانچ بار منہ دکھانا ہوتا ہے اور اس منہ دکھائی کی قیمت ہے اربوں میں۔باقی اصل آقا وں کو کیا ملاہو گا،اس کی تفصیل میں جانے کا حوصلہ نہیں۔4800 کھرب کے پیش کیے گے حالیہ میزانیے میں ایک غریب آدمی کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا، اس 1500 ہزار ماہانہ میں (وہ بھی اس شرط پر کہ نوکری مل گی اور کسی نے یہ پندرہ ہزار دے دیئے) یہ جاننے کے لیے کسی افلاطون کا دماغ درکار نہیں ،یہ تقریبا ہر گھر کی کہانی ہے اور اس ملک میں بسنے والا ہر شخص اس سے واقف ہے سوائے اس ملک کی حرام خورطبقہ اشرافیہ کے جو غریب کے درد سے لا علم ہے۔

ایک عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری معشیت آسمان کو چھو رہی ہے، کاریں سستی ہو گی ہیں یا مہنگی، سی پیک منصوبہ کہاں پہنچا ہے، یا اورنج ٹرین کس بلا کا نام ہے وہ تو بس دو وقت کی روٹی اور ایک چھت کی تلاش میں ہے، جس کے ملنے کی امید متقبل قریب میں تو کہیں نظر نہیں آتی، البتہ آنے والے وقتوں میں وعدے کا نوالہ ضرور دیا جاتا ہے اور دیا جا رہا ہے.

مگر دوسری جانب اس خون چوس مافیہ کے مفادات کا خاص خیال رکھا گیا ہے، جس کا شکم تو پہلے سے ہی مال حرام سے پر ہیں مگر آنکھ کی حوس شائد ان کی موت کے بعد ہی ختم ہو گی۔جب تک اس ملک کا غریب آدمی سکھ کا سانس نہیں لے گا، کوئی بھی عمل عوام دوست نہیں ہو سکتا۔ تین تین باریاں لگانے والے حکمرانوں کو سنجیدگی سے ان اشاریوں پر توجہ دینا ہو گی ،جو ترقی کی راہ میں دیوار ہیں۔ قرض کی پالیسی، توانائی بحران، اور تجارتی خسارے جیسے عوامل کو ختم کیے بغیر یہ بجٹ تو کیا، کسی بھی بھی بجٹ کے اہداف کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔

اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ ملک میں جاری شدہ میگا پراجیکٹس جیسے میٹرو، سی پیک، اورینج ٹرین وغیرہ غیر ضروری نہیں ہیں بلکہ ایک مضبوط معشیت کے لیے ایک مضبوط انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کے لیے ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھتا ہے، مگر تعلیم، صحت، امن و آمان، ملک میں روز افزوں ترقی کرتی دہشت گردی اور توانائی کا بحران، غیر تسلی بخش خارجہ اور داخلہ پالیساں یہ وہ تمام معاملات ہیں جن کو حل کیے بنا شروع کیے گے ،میگاپراجیکٹس سے خاطر خواہ فوائد حاصل کرنا ناممکن ہے۔

مگر حکمرانوں کے اقدامات سے یہ لگتا ہے یہ تمام مسائل ان کی لسٹ میں ہے ہی نہیں ان کی باری لگ چکی ہے، آب آنے والے جانے اور ان کو لانے والے۔حالیہ پیش کردہ بھاری بھرکم بجٹ جس طرح ملکی تاریخ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکا ہے، اسی طرح ملک پر قرضوں کا حجم بھی ملکی تاریخ کی بد ترین سطح کو عبور کر چکا ہے۔ بجائے اس کے کہ قرضوں کی شرح کو کم کیا جاتا حکومت آنے والے سال کے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر مراعات کے لیے مزید قرض لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

جب کہ یہ تلخ حقیت اپنی جگہ موجود ہے کہ تجارتی خسارے میں تواتر سے اضافہ جاری ہے اور امکان غالب ہے کہ اگلے مالی سال میں درآمدات اور برآمدات میں کم و بیش 30 ارب ڈالڑ کا فرق آئے گا۔ اور یہ ایسے اعدادوشمار ہیں جن کی موجودگی میں ترقی اور خشحالی کے نقارے بجانہ دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے