عدم برداشت اور معاشرے کا عروج و زوال

ول ڈیورانٹ کا کہنا ہے کہ تہذیب کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں انتشار اور عدم تحفظ کا اختتام ہو. ڈاکٹر گستاؤلی بان کے مطابق، قوموں کے عروج کا پیمانہ اخلاقیات ہے، جو قوم اخلاقیات کا جنازہ نکال دے، اس قوم کا جنازہ نکلنے میں زرا دیر نہیں لگتی.

پاکستان میں مختلف رنگ و نسل ،مختلف مذاہب و عقائد،مختلف ثقافتوں کے امین اور مختلف زبانیں بولنے والے، لوگ آباد ہیں. خالقِ کائنات نے ہر انسان کو فطرتاً دوسرے سے مختلف بنایا ہے. فطرت کے اسی اختلاف کی بنیاد پر ہر شخص کا کسی بھی چیز کو یا نظریے کو ،دیکھنے کا ،پرکھنے کا زاویہ اور معیار دوسرے سے مختلف ہے. لہٰذا اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو لوگوں کے درمیان نقطہ نظر کا اختلاف ہونا ایک فطرتی عمل ہے.

مسائل اُس وقت پیش آتے ہیں جب دو لوگ محض نظریے کے اختلاف کی بنیاد پر، زبان کے اختلاف کی بنیاد پر، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر یا کسی بھی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جائیں. یوں یہ فطرتی اختلافات ،انتشار کو جنم دیتے ہیں اور اس انتشار کی وجہ سے معاشرے میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے، جس کی لپیٹ میں پورے کا پورا انسانی معاشرہ آ جاتا ہے.

ول ڈیورانٹ کی ہی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر ہم اس صورت حال پر غور کریں تو بات سمجھ میں آ جائے گی کہ کس طرح محض فطرتی اختلافات، انتشار کو جنم دیتے ہیں اور ایک پرامن اور مثالی معاشرے کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں.

اقبال احمد ایک بہت بڑے دانشور اور مفکر تھے. اُن سے کسی نے پوچھا کہ آپ پاکستان میں رہتے ہوئے امریکہ اور یورپ کی کونسی چیز مِس کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ، اچھی گفتگو! سائل نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ کیا مطلب؟ انہوں نے جواباً کہا کہ دنیا بھر میں لوگوں کے پاس گفتگو کے لئے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں. لیکن پاکستان میں سیاسی اور مذہبی گفتگو کے علاوہ کوئی موضوع ہی نہیں ہے اور وہ بھی بڑا سطحی درجے کا اور جذباتی انداز میں.

معاشرتی طور پر اس وقت جو صورتحال ہمارے مُلک پاکستان کی ہے وہ انتہائی کشیدہ ہے. ہم سیاسی ،نظریاتی ،ثقافتی یا لسانی طور پر اس قدر جذباتی ہو چکے ہیں کہ ہم کسی دوسرے کا وجود بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں. ہم وہی شخص عزيز ہے جو ہم جیسا ہے اور نفرت بھی دل کھول کر اسی شخص سے کرتے ہیں، جس سے ہمارا کسی بھی قسم کا اختلاف ہے. ہم اسی اختلاف کی وجہ سے، پورے کے پورے ایک معاشرے کو اپنی نفرتوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں. محض اپنی انا کی تسکین کے لئے پورے معاشرے کا امن داؤ پہ لگا دیتے ہیں. اپنے تعلقات اور قریبی رشتے بھی متاثر کر بیٹھتے ہیں. اور خود ذہنی مریض بن کر اپنا جینا دوبھر بنا لیتے ہیں. یوں دنیا جہنم بن جاتی ہے.

علمی اور فکری ارتقاء کے لئے اور معاشرے کو متحرک رکھنے کے لیے، نقطہ نظر کے اختلافات کا، ڈائیلاگ اور بحث مباحثہ ضروری ہے. جا طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز، چنگاری وجود میں آتی ہے،اسی طرح دو ذہنوں کے ٹکراؤ اور اختلاف سے ایک نئی سوچ جنم لیتی ہے. چنگاری جب تک ایک مقررہ حد تک محدود رہتی ہے تو وہ روشنی اور حرارت کا کام دیتی ہے. لیکن جب وہ حدود فراموش ہو جائے اور بھڑک اٹھے تو پھر اُس کی اپنی مرضی کہ کیا کچھ اور کتنا کچھ جلا کر راکھ کر دے. لہٰذا ان اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کا جانی دشمن بن جانا، ایک دوسرے کے وجود کو قبول نہ کرنا اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت آمیز الفاظ استعمال کرنا یہ بہت بڑا جرم ہے،جس کا خمیازہ نہ صرف انسانی ذات کو بھگتنا پڑتا ہے بلکہ انفرادی طور پر ایک انسانی ذات سے نکل کر، اجتماعی طور پر پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے. دوسرے شخص سے آپ کا اختلاف چاہے کسی بھی بنیاد پر ہو خدارا ،اس اختلاف کو اپنی نفرت نہ بنائیں ،اس اختلاف کی وجہ سے آپ کے رشتے اور تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہئیں. ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کریں ،عقائد کا احترام کریں، زبان، ثقافت ،رنگ و نسل کا احترام کریں انہیں قبول کریں تاکہ معاشرہ زندہ رہ سکے. معاشرے کو انسان دوست بنائیں اور انسان سوزی کے ہر رویئے کی کھل کر مذمت کریں اور حوصلہ شکنی کریں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے