اپنی سیاسی، مرکزی اور سماجی حیثیت، کام، ذمہ داریوں، ساخت مزید برآں اپنے ساتھ جڑے بے شمار عوامی توقعات کے تناظر میں سیاستدان شاید دنیا کا سب سے پیچیدہ، حساس، متنازعہ اور وسیع پیمانے پر نفرت و محبت کا نشانہ بننے والا وہ عجیب و غریب طبقہ ہے جو بیک وقت اثر انداز بھی ہے اور متاثر بھی۔ جس کا دماغ، زبان اور ہاتھ پاوں بلا توقف تیزی سے چل رہے ہیں۔ جو ہر وقت عوام کی نگاہوں اور زبان پر رہتا ہے۔ تمام سیاستدان خاص کر جو اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتے ہیں ان کے بارے میں عوامی جذبات اور احساسات ہمیشہ سے مختلف اور گہرے رنگ و آہنگ لیے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کریڈٹ پر کئی اچھے برے اقدامات اور منصفانہ یا غیر منصفانہ فیصلے ہوتے ہیں۔
اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ بروزِ حشر سب سے مشکل حساب کتاب حکمرانوں کا ہوگا کہ ان کے اقدامات اور پالیسیوں سے مخلوق خدا بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہی ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر موجودہ وزیراعظم عمران خان (کالم 2020 میں لکھا گیا ہے) مسائل پر قابو پا کر عوام کے حال احوال بہتر کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ٹھیک ورنہ قوم کی مایوسی میں ٹنوں کے حساب سے اضافہ ہوگا کیوں؟ کیونکہ اس نے انتخابی مہم کے دوران عوامی توقعات کو آسمانوں تک پہنچایا تھا، انہوں نے باور کرایا تھا کہ ہمیں اقتدار ملا تو سارے مسائل حل کر دیں گے۔ اب اگر کارکردگی ان دعوؤں کی مطابق نہیں ہوگی تو قوم کی زیادہ شدت سے مایوس ہونا بالکل یقینی امر ہے۔ آئیے ہم آگے بڑھتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ اس وقت ہمارا موضوع بحث اسلام آباد ہے اور اسلام آباد کی کہانی ایوب خان کے دور سے شروع ہوتی ہے۔
ایوب خان (پیدائش 1907ء ہری پور، وفات 1974ء اسلام آباد) ہماری تاریخ کے سب سے متنازعہ اور طاقتور حکمران گزرے ہیں۔ ایوب خان ملکی تاریخ میں پہلی بار فوجی آمر بن گیا تھا۔ اس نے حکومت پر قبضہ کر کے باضابطہ طور پر پاکستانی سیاست کو فوجی رنگ و آہنگ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں آج تک مملکت خدا داد پاکستان کی سیاست فوج کی مداخلت، اثرات اور ترجیحات سے باہر نہ نکل سکی۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ سیاسی اور فوجی دائرہ ہائے کار باہم بری طرح خلط ملط ہو کر رہ گئے ہیں، ہر فریق دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور ہر ایک دوسرے کو بزبان حال بھی اور بزبان قال بھی مسائل کا ذمہ دار سمجھ رہا ہے۔
ایوب خان دور سے سیاسی ماحول میں فوجی مداخلت اتنی بڑھی کہ سیاسی نظام اور ماحول بری طرح متاثر ہوگیا، عوام کا سیاسی اور انتخابی نظام سے اعتماد اٹھ چکا، ووٹ کے استعمال میں قوم کی سنجیدگی تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جمہوریت نہیں رہی، سیاسی جماعتیں برائے نام تو رہے لیکن منشاء چند دولت مند اور طاقتور افراد اور خاندانوں کی ہی چلتی رہی، عوامی مسائل، عوامی توقعات اور عوامی جذبات مسلسل نظر انداز ہو کر سیاسی لیڈروں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ساز باز کے ذریعے اقتدار کا حصول آسان سمجھ لیا ہے ایسے ماحول میں جمہوریت پنپ سکی، حقیقی سیاسی لیڈرشپ سامنے آ سکی اور نہ ہی جماعتیں عوامی اعتماد پانے میں کامیاب ہوسکیں یہاں تک کہ سیاسی نظام کا بیڑا بالکل غرق ہوگیا۔
ایوب خان کے دور میں مشرقی پاکستان ہم سے سیاسی اور نفسیاتی طور پر دور ہونا شروع ہو گیا تھا جو کہ اگے چل کر یحییٰ خان دور میں بے شمار اندرونی اور بیرونی اسباب نے مل کر اس کو بنگلہ دیش بنایا، سانحہ مشرقی پاکستان نے پاکستان کو عالمی برادری میں بے توقیر کر دیا۔ اب حال یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی مسئلے کو عالمی پلیٹ فارم پہ کوئی وقعت مل رہی ہے نہ ہی پزیرائی البتہ زبانی جمع خرچ بالکل الگ سی چیز ہے اور اس پہ ہمارے لیڈروں کا خوش ہونا ایک تکلیف دہ بات۔ بات بہت دور چلی گئی، ہم موضوع بحث اسلام آباد کی طرف پھر پلٹ کر آتے ہیں۔
ایوب خان کا دور مجموعی طور پر بدترین ہونے کے باوجود کئی ضمنی حوالوں سے کسی حد تک بہتر تھا مثلاً اس دور میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا، بلدیاتی سسٹم تشکیل دے دیا گیا، چند بڑے ڈیمز بن گئے، اسلام آباد دارلخلافہ بنا، عالمی سیاست میں گوں زیادہ عملی نہ سہی لیکن کسی حد تک غیر جانبدارانہ بلاک کی جانب میلان بڑھا وغیرہ۔ میں ذاتی طور پر اسلام آباد کو بطورِ دارالحکومت بسانا ان کے اچھے فیصلوں میں سے ایک سمجھتا ہوں۔
اسلام آباد فطرت کی آغوش میں آسودہ ایک سرسبز و شاداب، پُرسکون اور خوبصورت شہر ہے۔ یہ ان کثافتوں سے کافی حد تک صاف ہے جن کثافتوں کے سبب کراچی بری طرح آلودہ ہوا تھا یعنی بے ترتیب بڑھتی آبادی، غیر متوازن معاشی سرگرمیاں، لسانی تعصبات، نوع بہ نوع جرائم کی بہتات، منظم دہشت گردی، امارت اور غربت میں بڑھتے فاصلے (ایک طرف سیٹھ صاحبان دوسری طرف کچی آبادیوں میں رہائش پذیر غربت کے مارے محنت کش لوگ)، اخلاقی بے راہروی کا بڑھتا ناسور، سٹریٹ کرائمز کی کثرت، عمومی عدم تحفظ، بھتہ خوری اور نسل پرستانہ فسادات کے واقعات وغیرہ وغیرہ۔
1947ء سے 1958ء تک پاکستان کا دارالحکومت کراچی رہا لیکن جیسا کہ اوپر کہا گیا وہاں کی بڑھتی ابادی اور پھیلتی معیشت سے وہ ماحول برقرار نہیں رہا جو کہ دارالحکومت کے لیے ضروری تھا اس وجہ سے دارالحکومت کسی اور جگہ منتقل کرنے کا خیال پیدا ہوا اس خیال کا ایک محرک ایوب خان تھا۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات کا جائزہ لیا گیا، جائزے اور تلاش کے اس عمل میں خود ایوب خان پیش پیش رہے، تلاش و جستجو کے بعد راولپنڈی کے قریب ایک جگہ پسند کیا گیا۔ یہاں دارلحکومت بسانے کا فیصلہ ہوا۔ شہر کے تعمیر کا زیادہ تر کام ایک یونانی ماہر اور چند مصری انجنئیروں کی زیر نگرانی مکمل ہوا۔
1960ء سے اسلام آباد میں تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 1966ء کو جزوی طور پر اور 1968ء کو مستقل طور پر دارلحکومت اسلام آباد منتقل ہوا۔ اسلام آباد سے پہلے کچھ عرصے کے لیے راولپنڈی بھی دارلحکومت رہا۔ اسلام آباد دارلخلافہ بننے کے بعد قومی اور بین الاقوامی توجہ اور دلچسپی کا بڑا مرکز بن گیا۔ اس کی رونق اور آبادکاری میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ لائف سٹائل بلند ہوا، رہن سہن کے طور طریقے تبدیل ہوگئے، اسلام آباد کے پردیسی باسیوں نے نئے شہر میں ایک نئی اور خوشحال زندگی کا آغاز کر دیا، یہاں قوم کی قسمت کے فیصلے ہونے لگے۔ دنیا بھر سے کثیر تعداد میں اہم مہمان آنے لگے۔ مخصوص حال احوال سے ایک مخصوص سماجی، جذباتی اور ثقافتی مزاج پروان چڑھنے لگا۔ یہاں لوگوں کی توجہ زیادہ تر اپنی ذات، جاب اور خاندان پر مرکوز رہتی ہے، خوشی و غمی کے مواقع اب دنوں کے نہیں بلکہ چند گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ بھی گھر سے باہر، اسلام آباد کا معاملہ محاوراتی طور پہ نہیں بلکہ واقعاتی پر "جنگل میں منگل” جیسا ہے۔
اسلام آباد خطہ پوٹھوار میں مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع دنیا کے چند خوبصورت، جدید اور سرسبز شہروں میں سے ایک ہے۔ شہر منظم، سڑکیں کشادہ، گھر خوبصورت اور پارک بکثرت موجود ہیں۔ اس کے شمال مشرق میں مری، جنوب مغرب میں ٹیکسلا اور جنوب مشرق میں اٹک واقع ہے۔ اسلام آباد کا کل رقبہ 906 مربع کیلومیٹر اور ابادی تقریباً پندرہ لاکھ ہے۔ موسم معتدل اور زمین ہموار ہے۔ لوگ زیادہ تر پردیسی اور باہم گہرے مراسم سے بے نیاز ہیں۔ زمینی اور ماحولیاتی حسن سے اسلام آباد کو خالق ارض و سما نے فراخ دلی سے سرفراز کیا ہے۔ پہاڑ ہیں، فوار ہے (ہلکی پھلکی بارش)، پانی ہے، سبزہ ہے، درخت ہیں، پارک ہیں، باغ ہیں غرض وہ سب کچھ ہیں جو انسان کو ذہنی طور پر تر و تازہ اور روحانی طور پر خوب آسودہ رکھیں۔
اسلام آباد میں ملک کی بہترین یونیورسٹیز واقع ہیں جہاں ملک بھر سے نوجوان کثیر میں اکر اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، نمل یونیورسٹی، فاسٹ یونیورسٹی، نسٹ یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، ماجو یونیورسٹی، ہمدرد یونیورسٹی، پریسٹن یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے چند معروف جامعات ہیں۔ کئی بڑے اور جدید ہسپتال ہیں جہاں پورے ملک سے مریض علاج معالجے کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔ پیمز، معروف، قائد اعظم، شفاء انٹرنیشنل، نیشنل ہیلتھ سنٹر، سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد کے چند بڑے ہسپتال ہیں جہاں خطیر رقم خرچ کر کے علاج معالجہ کروایا جاتا ہے۔ کارخانے بھی ہیں جہاں متنوع پراڈکٹس بن کر ملک کے مختلف مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔ ائی ٹین اور آئی نائن کی پٹی پر زیادہ تر فیکٹریاں ہی قائم ہیں۔ اسلام آباد کی یونیورسٹیاں، ہسپتال، مساجد، کارخانے اور مارکیٹس وہ جگیں ہیں جہاں "پورا” پاکستان نظر آتا ہے۔
اسلام آباد کی مساجد آباد اور پر رونق ہیں۔ مساجد کے معاملات پورے اہتمام اور باقاعدگی سے چلائے جاتے ہیں۔ پیش امام اور خطیب حضرات کو اکثر میں نے سنجیدہ، باوقار، علم دوست، عوام سے قریب، نرم خو اور خوش اخلاق پایا ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے اچھے ماحول اور مناسب آسودگی سے زندگی اور سوچ خود بخود بہتر طور پر تبدیل ہوتی ہیں بدقسمتی سے علماء معاشرے کا ایک محروم اور تہی دست طبقہ بن کر رہ گیا ہے یہ افسوس ناک امر ہے۔ علماء کا معاشی طور پر آزاد، آسودہ اور پر اعتماد ہونا خود سماج کے لیے ضروری ہے اسلام آباد میں علماء کی حالت نسبتاً اچھی ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے۔
میں اگست 2004ء کو اسلام آباد میں وارد ہوا ویسے آنا جانا تو رشتہ داروں کے ہاں 1995ء سے جاری تھا لیکن مستقل شفٹ اسلامک یونیورسٹی میں داخلے کے ساتھ ہی ہوا۔ اسلام آباد آتے ہی دل یہاں سے بہت جلدی میں مانوس ہوا۔ یہاں وہ سب کچھ تھا جن سے دل خوش اور زندگی آسودہ ہو جائے مثلاً بڑی بڑی لائبریریاں، تفریحی مقامات، کشادہ سڑکیں، وسیع و عریض گراؤنڈز، بکثرت درخت اور سبزہ، علمی اور ادبی انجمنیں، پر سکون طرزِ زندگی، لائق، سمارٹ اور ذہین دوستوں کا ساتھ مزید برآں پانی، بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی وغیرہ (گزشتہ کچھ عرصے سے یہ فراہمی متاثر ہے)۔ اسلام آباد کے مجموعی ماحول اور فضاء میں ایک خاص طرح کا سکون، ٹھنڈک اور ٹہراؤ ہے۔ کام اور روزگار کا معاملہ اگر کچھ نہ کچھ مناسب ہے تو پھر اسلام آباد سے زیادہ بہتر جگہ رہنے کے لیے پاکستان بھر میں کہیں بھی نہیں۔ اسلام آباد کے باسیوں میں اکثریت اعلی تعلیم یافتہ، مہذب، سنجیدہ، خاموش طبع، نرم مزاج اور اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگوں کی ہے۔ بقدرِ ضرورت بات کرنے اور بقدرِ حاجت کام رکھنے کے روادار ہیں۔ کسی کو تنگ کرنا یا کسی سے تنگ ہونا دونوں پسند نہیں کرتے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہے جس کا کام قرآن و سنت کے مطابق دور جدید کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے قانون سازی کرنا ہے۔ یہاں سپریم کورٹ ہے جس کا کام انصاف کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرنا ہے۔ یہاں سٹیٹ بینک ہے جس کا کام معاشرے میں معاشی توازن کو بہر صورت برقرار رکھنا ہے۔ یہاں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے شایان شان دفاتر ہیں جن کے لیے وجہ جواز صرف اور صرف ملک و قوم کی حفاظت ہے۔ یہاں تمام سرکاری اداروں کے ہیڈکوارٹرز ہیں جن کا مقصد قوم کی مخلصانہ اور باقاعدگی سے خدمت کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہاں نیشنل لائبریری کی پر شکوہ عمارت ہے جو کہ کتابوں کے ایک بڑے ذخیرے سے مزین ہے۔ یہاں دامان کوہ، شکر پڑیاں، لیک ویو پارک، سید پور ویلج، چڑیا گھر، لیک ویو پارک، فیصل مسجد، نیچرل میوزیم، پاکستان مونومنٹ، شاہدرہ اور فاطمہ جناح پارک جیسے خوبصورت مقامات ہیں جو خوشی اور مسرت کا باعث بنتے ہیں۔
سولہ برس اسلام آباد میں مقیم رہنے کے بعد اہل اسلام آباد کے بارے میں جو احساسات میرے اندر پروان چڑھے ہیں وہ اپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہوں گا۔
اسلام آباد میں اپنے زمانہ قیام کے دوران مجھے بے شمار علماء اور دانشوروں سے ملنے کے مواقع میسر آئیں ہیں۔ اکثر کو اچھا اور بہتر پایا لیکن بعض نے اپنی صلاحیتوں اور امتیازی خوبیوں کی بدولت میرے دل میں ایک خاص مقام پیدا کیا ہیں۔ میں ان سب کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قدر دان ہوں۔ ان سب کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین و دنیا کی تمام سعادتیں نصیب فرمائیں اور ان پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ دراز رکھے۔ سب کا نام لینا ممکن نہیں لیکن چند ایک کے نام لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تو آئیے چند ایک نام ملاحظہ کریں اگر کہیں ملنے کا اتفاق ہو تو ضرور ملئیے گا ان شاءاللہ بہترین پائیں گے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ سکالر پروفیسر خورشید احمد صاحب(ترجمان القرآن)، ڈاکٹر انیس احمد(رفاء یونیورسٹی)، بیرسٹر ظفر اللہ خان (قانون دان، دانشور، سیاستدان، مصنف) پروفیسر خلیل الرحمٰن چشتی (الفور اکیڈمی)، پروفیسر حبیب الرحمن عاصم (انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، دنیا ٹی وی)، پروفیسر ضیاء الرحمان (فیصل مسجد)، سید عدنان کاکا خیل(البرہان اکیڈمی)، صاحبزادہ ولی اللہ بخاری(جامعہ عثمانیہ سنگ جانی)، مفتی محمد امتیاز مروت(ادارہ ختم نبوت)، زاہد اقبال(دار الایمان)، مفتی محمد کامران(لال مسجد)، ڈاکٹر قبلہ آیاز (اسلامی نظریاتی کونسل)، محترم صہیب قرنی (صفہ ٹریول)، اور نذر الاسلام دانش(مسجد طوبی) یہ سب ایسے لوگ ہیں جن سے میں ذاتی طور پر خوب واقف ہوں ان کو میں نے بطورِ انسان، بطورِ عالم، بطورِ مسلمان اور بطورِ شہری بہترین پائیں ہیں۔ علم و عمل کے اعتبار سے بہتر لوگ زمین کا حقیقی حسن اور نمک ہیں۔ ایسے لوگ دنیا کو رہنے کے لیے ایک بہتر مقام بنانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کے محسن ہوتے ہیں۔ دنیا میں حق و سچ کی شیرینی، نظم و ضبط کی خوبی، صبر و استقامت کا حوصلہ، دیانت و امانت کی سپرٹ، خلوص و محبت کی چاشنی، لطافت و حلاوت کا ذائقہ اور سعادت و شرافت کی قدریں ایسے ہی لوگوں کے دم قدم سے قائم ہیں۔
اسلام آباد میں دو معروف درگاہیں یعنی گولڑہ شریف اور بری امام ہیں جو ہمہ وقتی عقیدت مندوں سے آباد رہتے ہیں، یہاں کے دو مرکزی شاہراہیں یعنی اسلام آباد ہائی وے اور سری نگر ہائی وے ہیں جن پر ہر دم زندگی رواں دواں رہتی ہے، اسلام آباد میں دو بڑے بس اڈے ہیں یعنی فیض آباد اور منڈی موڑ جن کو آمد و رفت کی حرارت کبھی ٹھنڈے نہیں ہونے دے رہے۔ یہاں تاریخی حیثیت کی حامل دو مساجد یعنی فیصل مسجد اور لال مسجد کے نام سے ہیں، اسلام آباد کے دو بڑے تجارتی مراکز یعنی بلیو ایریا اور سینٹورس جو صبح و شام اشیاء، سرمائے اور مرد و زن کو گردش میں رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کے دو معروف سیاسی اور سماجی شخصیات میں سے ایک میاں محمد اسلم جو جماعت اسلامی کے نائب امیر ہیں اور دوم سید نیئر حسین بخاری جو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ان کے علاؤہ مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے طارق فضل چوہدری بھی اسلام آباد کے اہم سیاسی شخصیت سمجھی جاتی ہے۔ یہاں کے دو وسیع و عریض قبرستان یعنی ایچ الیون اور ایچ ایٹ ہیں جہاں لاکھوں بندگانِ خدا زمین کے آغوش میں اتریں ہیں اور روزانہ اتر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں دو سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبارات یعنی جنگ اور ایکپریس ہیں، اسلام آباد میں موثر سیاسی جماعتیں تین ہیں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ ن۔
اسلام آباد کے بزرگ سنجیدہ، صحت مند، صاحب مطالعہ، واک کے عادی اور مختلف علمی، ادبی، فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں دلجمعی سے شریک ہونے والے ہیں۔ بزرگ ہو اور صحت مند ہو، بزرگ ہو اور چاق و چوبند ہو، بزرگ ہو اور سماجی طور پر فعال اور مستعد ہو، بزرگ ہو اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہو تو پاکستان کے مجموعی ماحول میں یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ ڈیڑھ برس پہلی کی بات ہے ہمارے دفتر سے ایک صاحب عبد الروف ریٹائرڈ ہوگئے۔ موصوف کو اللہ سلامت رکھے۔ نہایت صحت مند، خوش اخلاق، ہنس مکھ، زندہ دل اور نیک خو انسان ہیں ان کا چہرہ، لہجہ اور حلیہ گویا چمک رہے ہیں۔ وہ بزرگوں کے ساتھ بزرگ، جوانوں کے ساتھ جوان اور بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہیں۔ کئی برس ساتھ کام کیا اور بہت ہی کم بیمار دیکھا۔ ایک حساس، فعال اور مستعد بزرگ اللہ ان کو سلامت رکھے اور خوش و خرم بھی مطلب بتانے کا یہ ہے کہ اگر طرزِ زندگی مجموعی طور پر صحت مندانہ ہو تو زندگی لازماً صحت مند ہوتی ہے۔ اسلام آباد کے بزرگوں کو کسی بھی فلاح و بہبود کے کام میں شرکت پر اگر قائل کر دیں تو وہ پورے اخلاص سے مقدور بھر آپ کا ساتھ دیں گے۔
جوان (لڑکے لڑکیاں دونوں) کسی حد تک بے باک لیکن کافی حد تک پر اعتماد ہیں۔ بڑی تعداد اپنی پڑھائی میں مصروف دکھائی دیتی ہے جبکہ اتنے ہی صبح سے عصر تک اپنی جاب کی دوڑ دھوپ میں بھی مگن نظر آ رہے ہیں۔ ویکنڈ پہ نوجوان بڑی تعداد میں تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں، کھیل کود کے میدانوں کو آباد کرنے نکل جاتے ہیں یا پھر ریسٹورنٹس میں اجتماعی کھانوں سے دل بہلاتے ہیں۔ حبیبی، حلیم گھر، شینواری تکہ، سیور فوڈز اور عثمانیہ ریسٹورنٹس اسلام آباد میں ذائقوں کے حوالے سے اچھے اور مقبول مقامات سمجھے جاتے ہیں۔
موجودہ دور کے بعض ذرائع اور حالات نے بڑے پیمانے پر نوجوانوں میں جذباتی اور اخلاقی بحران پیدا کیا ہے۔ وہ اپنے اوقات اور اہداف کا تعین کئے بغیر دھڑا دھڑ صبح و شام کئے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بے قید، بے مقصد اور بے ترتیب استعمال نے نوجوانوں کو تباہ کن حد تک متاثر کیا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے سمارٹ فون میں غرق دکھائی دیتے ہیں۔ نوجوان جھکے سر، گھومتے دماغ اور چلتے انگلیوں کے ساتھ دنیا و مافیہا سے بے خبر موبائل میں مگن نظر آ رہے ہیں۔ ہمیں ماننا پڑے گا مخلوط ماحول اور سوشل میڈیا کے آزادانہ اور بے قید استعمال نے وہ نامبارک ماحول پیدا کیا ہے جو بے شمار علتوں کا باعث ہے۔ ان علتوں نے نوجوانوں میں نامطلوب قسم کی ذہنی اور اخلاقی تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ میرا خیال ہے یہ مسئلہ صرف اسلام آباد تک محدود نہیں بلکہ تمام بڑے شہروں میں اس طرح کے مسائل اب بکثرت موجود ہیں اور صرف شہروں پر ہی کیا موقوف اب تو دیہات بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔
اسلام آباد کی خواتین کی پہلی اور آخری منزل شاپنگ سینٹرز ہیں۔ انہیں اس سلسلے میں جب بھی کوئی موقع میسر آتا ہے تو اسے کبھی ضائع نہیں کیا جاتا۔ بڑی تعداد ایسی خواتین کی ہے جو ملازمت پیشہ ہیں۔ اسلام آباد کی خواتین کی زندگی کا غالب حصہ دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور کچن میں گزرتا ہے لیکن بعض ایسی بھی ہیں اور قابل ذکر تعداد میں ہیں کہ جو عبادات کا اہتمام، لیٹریچر کا مطالعہ اور دینی پروگرامات میں باقاعدگی سے شرکت کرتی رہتی ہیں۔ پردے کے حوالے سے مختلف رویے اور طرزِ عمل موجود ہیں۔ ایسی خواتین بھی کم نہیں جو مکمل پردے کا اہتمام کر رہی ہیں اور وہ بھی کافی زیادہ ہیں جو پردے کا زیادہ روادار نہیں۔ چھوٹے گھرانوں کا رواج چل نکلا ہے اور خوب پھلا پھولا ہے۔ ایک فیملی کا تصور اج کل اسلام آباد میں میاں بیوی اور دو تین بچوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت جہاں زندگی نت نئے آسانیوں اور سہولیات سے آشنا ہوئی ہے وہاں کچھ نامطلوب قسم کے ذہنی، جذباتی، اخلاقی اور جسمانی عوارض بھی انسان کو دامن گیر ہو گئے ہیں جنہوں نے اس کے سکون اور آسودگی کو بری طرح متاثر کیا ہیں۔ جدید طرز زندگی سے ذہن و صحت میں در آنے والے چند بیماریاں ایسی ہیں جو شہری علاقوں میں لوگوں کو بکثرت لاحق ہو رہی ہیں مثلاً اسلام میں میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں شوگر، بلڈ پریشر، ٹینشن، جذباتی تناؤ اور عارضہ قلب کا شکار ہیں بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ پورا اسلام آباد گویا ان عوارض کے نرغے میں چلا گیا ہے۔ میرا مشورہ ہے لوگ اپنے کھانے پینے کو متوازن، رہن سہن کو صاف اور سادہ، دینی تعلیمات پر عمل باقاعدہ اور جسمانی مشقت کو مقدور بھر بڑھائے تو اس اہتمام سے زندگی اور صحت دونوں پر بہترین اثرات مرتب ہو جائیں گے کیونکہ مذکورہ عوارض ایک خاص طرزِ زندگی کا شاخسانہ ہے اور اپنے طرزِ زندگی کو مثبت انداز میں تبدیل کر کے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے ورنہ بہت مشکل ہے۔
برس ہا برس اسلام آباد میں رہ کر جن خوبیوں اور کیفیتوں سے بڑے پیمانے پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محظوظ ہوا ہوں وہ یہاں کا امن، سکون، خاموشی، راحت اور بے جا مداخلت سے اعراض والا مزاج ہے۔ طویل عرصہ رہنے کے دوران کبھی بھی لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آئی، پہلے پڑھتا تھا اور اب ماشاءاللہ جاب کر رہا ہوں۔ اذان فجر ساتھ ہی جاگتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں، نماز کے بعد کبھی واک اور کبھی مطالعے کا اہتمام کرتا ہوں، بچوں کے ساتھ ناشتہ، ناشتے کے بعد دفتر کی تیاری پھر اس کے بعد اپنی ماں اور بچوں کی ماں کو سیلوٹ مار کر گھر سے نکلتا ہوں اور عصر تک اپنے فرائض منصبی میں مصروف ہوتا ہوں۔ دفتر سے گھر جا کر بچوں کے پرجوش استقبال سے خوب لطف اندوز ہوتا ہوں، کھانا کھاتا ہوں اور پھر رات گیارہ بارہ بجے تک لکھنے پڑھنے یا گھر کے دوسرے کاموں میں وقت گزرتا ہے۔ ہفتے یا مہینے میں دوستوں کے ساتھ مختلف تفریحی مقامات کا رخ بھی روٹیںن میں شامل ہے اس طرح کچھ ادبی، سماجی اور جماعتی سرگرمیوں میں باقائدگی سے شریک ہوتا ہوں اور یوں زندگی ایک ہموار انداز سے گزر رہی ہے۔
کالم پڑھ کر یہ سمجھنا کہ اسلام آباد میں سرے سے کوئی مسائل ہیں ہی نہیں تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی یہاں بھی اب عرصے سے بڑے مسائل زندگی کا حصہ بن گئے جو صبح و شام اہلیان اسلام آباد کو پریشان رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ابادی میں بے ترتیب اضافہ ہے اور پھر اس سے بے شمار دوسرے مسائل نے جنم لیا ہے۔ مثلاً امن و امان اب ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے، آلودگی ایک عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے، پانی کی کمی بھی اب معمول ہے، قبرستان میں جگہ پانا تو جان جوکھوں کا کام ہے، ہسپتالوں پر اپنی گنجائش سے کئی کئی گنا زیادہ بوجھ ہے، سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کا داخلہ آسانی سے تو کیا مشکل سے بھی نہیں ملتا وغیرہ وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسلام آباد نے کافی حد تک اپنا سکون، خاموشی، امن و امان، ٹھنڈک، ٹھہراؤ، تہذیب و شائستگی، وقار اور شعور و احساس کھو دیا ہے۔
اہلیان اسلام پر لازم ہے کہ وہ مقدور بھر اسلام آباد کے ماحول، سماج اور اخلاقیات کو بہتر سے بہتر بنانے اور یہاں کے مختلف مسائل کو حل کرنے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کریں۔ ملک بھر کی طرح اب غربت، بیماریوں اور سماجی و معاشی اونچ نیچ نے اسلام آباد کا بھی رخ کیا ہے تمام صاحب ثروت اور صاحب اختیار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گرد و پیش میں مسلسل دیکھیں کہ کیا مسائل موجود ہیں اور انہیں حل کرنے میں ان کا کیا کردار بن سکتا ہے۔ ذہنی اور روحانی تناؤ میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اس لیے دینی، تفریحی اور ادبی پروگراموں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک سنجیدہ، صحت مند، متوازن، مطمئن، ذمہ دار اور باوقار اجتماعی مزاج پروان چڑھ سکے۔