ہمارے معاشرے میں شادی کو ایک مقدس اور روحانی بندھن کے بجائے ایک نمائش، ایک مقابلہ، اور ایک مالیاتی جنگ بنا دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر اس رویے سے مڈل کلاس طبقہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے، لیکن جب شادی کا موقع آتا ہے تو وہ ایسے خرچے کرتا ہے جیسے کوئی راجاؤں مہاراجاؤں کی اولاد ہو۔ یہ وہ طبقہ ہے جو پوری زندگی موٹرسائیکل پر سفر کرتا ہے، لیکن شادی کے دن لاکھوں روپے کرائے پر گاڑیاں لینے پر خرچ کر دیتا ہے، تاکہ "لوگ کیا کہیں گے” کے بھوت کو خوش کیا جا سکے۔ وہ لوگ جن کی ماہانہ تنخواہ کبھی کبھار مہینے کے آخر تک پوری نہیں پڑتی، وہی لوگ شادی کے ایک دن کے لیے اپنی ساری جمع پونجی، قرضے، اور حتیٰ کہ زیور تک گروی رکھ دیتے ہیں۔
دلہن کے لیے لاکھوں روپے کے زیورات بنوائے جاتے ہیں جو صرف ایک دن پہنے جاتے ہیں، پھر وہی زیور عمر بھر کے لیے صندوق میں بند کر دیے جاتے ہیں، نہ استعمال ہوتے ہیں، نہ بیچے جا سکتے ہیں، کیونکہ یہ “ماں کی نشانی” یا “عزت کا سوال” بن چکے ہوتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ کسی کارآمد چیز میں لگایا جائے، مثلاً ایک چھوٹی گاڑی، یا کاروبار کے آغاز میں، تو نئی زندگی کا آغاز بہتر انداز میں ہو سکتا ہے۔ لیکن نہیں، یہاں مقصد زندگی آسان بنانا نہیں بلکہ پھوپھو کیا کہے گی خالہ طعنے دے گی یا تایا بے عزتی کرے گا پر نظام چل رہا ھوتا ھے
جہیز ایک ایسی لعنت بن چکا ہے جس نے بیٹیوں کو بوجھ بنا دیا ہے۔ کمبل، تکیے، برتن، الماریاں، صوفے، یہاں تک کہ سوئی دھاگے تک بھی جہیز میں رکھے جاتے ہیں۔ لاکھوں روپے اس سامان پر لگا دیے جاتے ہیں جو شادی کے بعد کبھی کبھار استعمال ہوتا ہے، یا پھر برسوں پیٹی میں بند پڑا رہتا ہے۔ والدین کو بیٹی کی خوشی سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ سسرال والوں کو کیا تاثر جائے گا۔ اگر یہی رقم بیٹی اور داماد کو مشترکہ طور پر دے دی جائے تو وہ نہ صرف اس سے گھر کا نظام بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں بلکہ خودمختاری کے احساس کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کر سکتے ہیں۔
دلہن کے لیے دونوں طرف سے لاکھوں روپے کے جوڑے تیار کیے جاتے ہیں، صرف اس نیت سے کہ شادی والے دن وہ سب کو دکھائے جا سکیں۔ شادی کے بعد وہی کپڑے بکسوں میں بند ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ دوبارہ پہننے کے قابل نہیں ہوتے۔ یہ لباس نہ صرف غیر ضروری ہوتے ہیں بلکہ ان پر خرچ کیا جانے والا پیسہ ضائع ہو جاتا ہے، جسے کہیں اور بہتر استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔
شادی کے فنکشنز کا حال بھی مختلف نہیں۔ مہندی، مایوں، برات، ولیمہ، پوسٹ ولیمہ، ریسیپشن اور نہ جانے کون کون سی رسومات جوڑ کر ایک شادی کو ایسا مالیاتی بوجھ بنا دیا جاتا ہے کہ انسان برسوں تک اس کے قرض اتارتا رہتا ہے۔ ہر تقریب میں الگ لباس، الگ کھانا، الگ سجاوٹ، الگ فوٹو شوٹ۔ ان سب پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، مگر نتیجہ؟ صرف چند گھنٹے کی عارضی خوشی، کچھ تصویریں، اور پھر عام زندگی کی طرف واپسی، جہاں وہی تنگی، وہی مسائل، وہی پریشانیاں آپ کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں۔
اور پھر کھانا؟ شادیوں میں لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کیے جاتے ہیں کہ مہمانوں کو اچھا کھانا ملے، حالانکہ یہ وہی مہمان ہوتے ہیں جو کھانے کے بعد سو سو باتیں بناتے ہیں: نمک کم تھا، بریانی صحیح نہیں بنی، چکن سخت تھا، کھانا لیٹ ہو گیا، منیجمنٹ خراب تھی۔ یہی لوگ کھانے کی پلیٹوں میں آدھا کھانا چھوڑ کر ضائع کر دیتے ہیں۔ سینکڑوں مہمان صرف اس لیے بلائے جاتے ہیں کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ فلاں کو نہیں بلایا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے نوے فیصد مہمان ایسے ہوتے ہیں جو شادی کے بعد زندگی بھر آپ کا حال تک نہیں پوچھتے۔ نہ یہ جاننے کی زحمت کرتے ہیں کہ آپ کی نئی زندگی کیسی چل رہی ہے، نہ یہ پرواہ کرتے ہیں کہ آپ خوش ہیں یا پریشان۔ ان کے لیے آپ کی شادی صرف ایک "ایونٹ” ہوتی ہے جس پر تنقید کرنا ان کی عادت کا حصہ ہوتا ہے۔
اگر باپ خود باشعور، عقلمند اور باہمت ہو تو کسی دباؤ میں نہ آئے، کسی رشتہ دار کی بات، کسی عزیز کے طعنے، یا سماج کے طنز کی پرواہ نہ کرے۔ باپ کو چاہیے کہ وہ صرف اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھے، سوچے کہ شادی کے بعد لڑکے اور لڑکی کو اصل میں کس چیز کی ضرورت ہے اور کس چیز کی نہیں۔ وہ یہ فیصلہ کرے کہ کہاں پیسہ خرچ کرنا ہے اور کہاں نہیں، اور جب باپ یہ مضبوط اور باوقار فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر خاندان میں کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کے فیصلے پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک سٹرانگ باپ ہی وہ دیوار ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو بے مقصد خرچوں، دکھاوے اور قرضوں کے بوجھ سے بچا سکتا ہے۔ اگر باپ صحیح فیصلہ کرنے لگے تو نہ صرف ایک اچھی شادی ممکن ہے بلکہ ایک مضبوط، خوشحال اور مطمئن ازدواجی زندگی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ مڈل کلاس طبقہ ان شادیوں کے ذریعے نہ صرف اپنی مالی حالت کو مزید کمزور کرتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی کھو دیتا ہے۔ ساری زندگی کی جمع پونجی، یا قرض لے کر، ایک ایسے دن پر خرچ کر دی جاتی ہے جو نہ تو مستقبل سنوار سکتا ہے اور نہ ہی حقیقتاً خوشی دے سکتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم شادی کر رہے ہیں یا تماشا؟ کیا ایک دن کی چمک دمک اس قابل ہے کہ ہم مہینوں یا برسوں تک اس کا خمیازہ بھگتیں؟ کیا ہم اپنی اولاد کے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں یا انہیں نمائشی رسومات کے بوجھ تلے دفن کر رہے ہیں؟
اگر ہم واقعی اپنی نسلوں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے: دکھاوے کی ایک رات، یا سکون کی ایک زندگی؟ شادی کو آسان، سادہ، اور باوقار بنائیں۔ غیر ضروری رسومات سے نجات حاصل کریں، کھانے میں اسراف نہ کریں، اور ایسی چیزوں پر پیسہ لگائیں جو بعد کی زندگی میں کام آئیں۔ کیونکہ اصل خوشی "لوگ کیا کہیں گے” کے خوف میں نہیں، بلکہ اس سچ میں ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کے فیصلے عقل، دانائی اور اخلاص سے کیے۔