چینی صدر کا انقلابی وژن "مشترکہ مستقبل برائے انسانی برادری”

چینی صدر شی جن پنگ کا انقلابی وژن "مشترکہ مستقبل برائے انسانی برادری” کا ایک سرسری سا جائزہ اور عصر حاضر میں ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کی اہمیت، افادیت اور ضرورت۔

مجھے کئی عالمی رہنما اپنی بہترین سوچ اور اپروچ کے سبب بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔ ان میں چینی صدر شی جن پنگ، سابق کنیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو، سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سابق ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن اور سابق جنوبی افریقن صدر نیلسن منڈیلا قابل ذکر ہیں۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے ان شخصیات کی سوچ، اپروچ، ترجیحات اور اقدامات انسانیت دوست ہیں۔ یہ حضرات کافی حد تک ان منفی جذبات و احساسات، خیالات و بیانات، نفرتوں اور تعصبات سے پاک ہیں جن میں بدقسمتی سے موجودہ دنیا کے اکثر و بیشتر رہنما مبتلا ہو چکے ہیں۔

مذکورہ بالا شخصیات ہمیشہ وسیع ترین انسانی مفاد، خوشحالی، تحفظ اور سلامتی کی مضبوط وکالت کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ ایسے بہترین منصوبے سوچتے ہیں اور ان کو فروغ دینے کی کوشش بھی کہ کسی طرح مشترکہ انسانی مفادات سے متعلق بڑے اور موثر منصوبوں کے لیے عالمی اور علاقائی اتفاق رائے اور حمایت یقینی ہو جائے۔

چند برس قبل چینی صدر شی جن پنگ نے ایک انقلابی وژن دیا "مشترکہ مستقبل برائے انسانی برادری” اور بہت ہی جذبے، عزم، خلوص اور اشتراک عمل کے ساتھ دنیا کو ایک مشترکہ مستقبل متعین کر کے ساتھ چلنے اور آگے بڑھنے پر زور دیتے رہتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں ضرور رہنی چاہیے کہ یہ محض ایک نظریہ یا وژن نہیں بلکہ دنیا کے ایک بہت بڑے اور طاقتور ملک کا ہدف ہے، یہ جلد یا بدیر کامیاب ہوگا اور نتیجتاً وہ سارے خطے اور ممالک بھی جو اس ہدف کے لیے چین کے ساتھ مل کر اس کے تعاون اور اشتراک سے آگے بڑھنے کی پالیسی اختیار کریں۔

آئیے مشترکہ مستقبل برائے انسانی برادری کا ایک طائرانہ سا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس دیو ہیکل تصور میں انسانی برادری کے لیے کیا کچھ فوائد ممکن ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ کا وژن "مشترکہ مستقبل برائے انسانی برادری” ایک انتہائی دور رس، جامع اور انسانی فلاح و بہبود پر مبنی نظریہ ہے جو کہ بین الاقوامی تعاون، عالمی سلامتی اور مشترکہ ترقی اور خوشحالی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس وژن کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کو چند بنیادی پیمانوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آئیے اس عظیم الشان وژن کے بنیادی خد و خال اور اہداف و مقاصد پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو مذکورہ وژن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ چین اور پاکستان دونوں سدا بہار دوست اور پڑوسی ہیں مزید برآں دونوں ممالک نہ صرف بے شمار عالمی اور علاقائی معاملات پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں بلکہ کئی بڑے منصوبوں کے شریک اور حصہ دار ہیں جیسا کہ پاک چائنا راہداری منصوبہ۔

انسانی ترقی اور خوشحالی کا فروغ

یہ نظریہ عالمی سطح پر غربت، عدم مساوات اور پسماندگی کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔ چین کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو جیسے منصوبے اسی وژن کا حصہ ہیں، جو کہ ترقی پذیر ممالک میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تجارت دوست ماحول بنانے میں مدد اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کر کے معاشی خوشحالی کو فروغ دینا پیش نظر ہے۔

بین الاقوامی امن، سلامتی اور دیرپا استحکام

صدر شی جن پنگ کے وژن کے مطابق، کوئی بھی ملک تنہا عالمی چیلنجز جیسا کہ جنگ، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، غربت یا نوع بہ نوع وباؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے "مشترکہ سلامتی” کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں اقوام متحدہ جیسے فورمز کے ذریعے عالمی اور علاقائی تنازعات کا پرامن حل اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا جانا شامل ہے۔

عالمی ثقافتی ہم آہنگی اور رواداری

یہ نظریہ مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو اہمیت دیتا ہے اور نسلی، مذہبی یا علاقائی تعصبات کے بجائے "انسانیت کی مشترکہ اقدار” کو اجاگر کرتا ہے۔ چین کی سفارت کاری پوری اسی اصول پر عمل پیرا ہے، جیسا کہ دنیا بھر کنفوشس انسٹی ٹیوٹس کے ذریعے عالمی ثقافتی تبادلے کو گرم جوشی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی

چین نے "کاربن نیوٹرلٹی” کے ہدف کو اپناتے ہوئے صاف توانائی اور سبز ٹیکنالوجیز میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ مشترکہ مستقبل کا یہ وژن ماحولیات کے تحفظ کو انسانی بقاء کے مقصد سے جوڑتا ہے اور عالمی سطح پر پیرس معاہدے جیسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

عالمی حکمرانی میں انصاف کی شمولیت

صدر شی جن پنگ کا نظریہ ایک "کثیر القطبی دنیا” کی وکالت کرتا ہے، جہاں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان طاقت کا توازن ہو۔ چین "جنوب کا جنوب سے تعاون” کو فروغ دے کر عالمی اداروں میں نمایندگی کے عدم توازن کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین دنیا میں بالادستی کے حصول کے لیے کشمکش میں پڑنے کی بجائے برابری کی سطح پر معاملات چلانے کے نظرئیے کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اس مقصد کے لیے چین نے تجارت اور شراکت کا راستہ اختیار کیا ہے اور اسی پر پوری یکسوئی اور دلجمعی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

مشترکہ مستقبل کا یہ وژن صرف چین تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، ترقی اور مساوات پر مبنی عالمی نظام کی تشکیل کا پیغام بھی ہے۔ اگر تمام ممالک اس سوچ اور اپروچ کو اپنائیں، تو عالمی سطح پر "جنگیں کم ہوں گی، معیشتیں مستحکم ہوں گی اور یوں ماحول محفوظ ہوگا”۔ چین کی قیادت میں یہ نظریہ ایک نئی بین الاقوامی ترقی، خوشحالی اور دیرپا استحکام کی منفرد اور کامیاب مثال بن سکتا ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے اور کوئی قبول کرے یا نہ کرے شی جن پنگ کا یہ جامع اور انسان دوست نظریہ خصوصاً موجودہ دور میں، جبکہ دنیا "جیو پولیٹیکل تناؤ، ناقابل برداشت مہنگائی اور عالمی ماحولیاتی بحران سے بری طرح دوچار ہے” ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان تمام منصوبوں، اصولوں اور اہداف کے انسانوں کا دل کھول دے اور دماغ کو قبولیت پر آمادہ فرمائے جن سے پوری انسانیت کا مفاد اور خوشحالی وابستہ ہے اور ان جذبات اور احوال سے بچائیں جو ہمیں ایسے کاموں میں شراکت سے روکے رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے