دہشت گرد اور دہشت گردی

یہ سوال بڑا ہم ہے کہ دہشت گرد اور دہشت گردی کیا ہے؟

دہشت گردی صرف ایک عمل نہی اور دہشت گرد صرف ایک انسان نہی بلکہ یہ ایک فکر ہے۔ یہ ایک فکر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے اندر پروان چڑھتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ اگر انسان ان ہاتھوں میں چلا جائے جہاں انسانی بم تیار ہوتے ہیں تو انسان پھر عمر منصور بن کر نکلتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں یہی فکر اسلام کے نام پہ بے جا قتل کی ذمہ دار ہے۔ اس قتل میں صرف وہی چند لوگ شامل نہی جو اپنے آپ کو اڑا لینا کار ثواب سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کہ وہ معصوموں کو تڑپتا دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حوروں کا حق مہر ادا کر کے اس رب کریم کو بھی خوش کردیا ہوگا۔ اس سارے کام میں دوسرے عںاصر بلکل شامل ہونگے۔ لیکن اس میں سب بڑا ہاتھ اس مذہبی فکر کا ہے جو نا صرف مدارس میں سر عام سکھائی جاتی بلکہ ہمارے بہت سے کٹر مذہبی گھرانوں میں بچوں کو اسکی تربیت دی جاتی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان، کے طریق کار سے بھلے ہی ہمارے مذہبی جماعتیں اختلاف کرتی ہوں۔ لیکن جو منشور تحریک طالبان پاکستان کا ہے کم و بیش ہے وہی منشور ہماری بہت سی مذہبی جماعتوں کا ہے۔ میں نے پچھلے دنوں ایک پاکستانی جماعتوں کے حق میں بولنے والے دوست سے چند سوال کئے تھے جنکا ماننا تھا کہ پاکستانی مذہبی اور جہادی جماعتیں ٹی پی پی سے مختلف ہیں۔ میرے سوال یہ تھے۔
کیا تمام جماعتیں پاکستانی آئین کو ایک اسلامی آئین مانتی ہیں؟ کیا تمام جماعتیں شیخ عیسیٰ کو اپنا قبلہ و کعبہ تصور نہی کرتیں، جنکی بڑی مشہور کتاب صرف تکفیر کے موضوع پہ ہی ہے؟ کیا تمام جماعتیں پاکستان کو ایک اسلامی ملک اور حکومت تسلیم کرتی ہیں؟ کیا اس ملک کے نظام کو ایک اسلامی نظام مانا جاتا ہے؟ کیا یہ جماعتیں جمہوریت کے حق میں ہیں؟
اگر ہاں، تو پھر ان جہادی اور دوسری جماعتوں کا جواز کیا؟ اگر ہاں تو پھر اسلامی نظام کے نفاذ کے بات کس منہ سے کی جاتی ہے؟

خیر یہ منشور ہمارے مذہبی فکر کا حصہ ہے۔ وہ اسے قران کا حکم مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم وخذوهم واحصروهم واقعدوا لهم كل مرصد کہ جہاں ملے مار دو، تب تک جب تک فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فخلوا سبيلهم إن الله غفور رحيم۔ یہ وہ مذہبی فکر ہے جو ہمارے گھروں میں ہمارے مدارس میں پروان چڑھائی جاتی ہے۔ اس مذہبی فکر کے سامنے اسلام کا صیح منشور پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ جو چیزیں تخصیص کے ساتھ نازل ہوئیں انکی تخصیص کی جانی بہت ضروری ہے اور اس مذہبی فکر کے سامنے صیح مذہبی فکر اور اسلام کا صیح منشور پیش کیا جانا بہت ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے