یہ جو بڑی بڑی شاندار عمارتیں، چمکتی دمکتی سڑکیں، خوبصورت مکانات، عالی شان دفاتر، ہر وقت چلتے کارخانے، کاروباری مراکز، باغ، پارک، کھیت کھلیان، روشن مارکیٹس اور مالز، طویل پل، شاہراہیں، بندر گاہیں غرض سماجی، معاشی، تجارتی، صنعتی اور ثقافتی زندگی کے دائروں میں موجود رنگ و روشنی تمام تر مزدوروں ہی کی بدولت ممکن ہے۔ مزدور ہی اپنا خون پسینہ ایک کر کے ان خالی خانوں میں حقیقت کا رنگ بھرتے ہیں۔سماجی تناظر میں مزدور معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یہ اپنی شبانہ روز محنت و مشقت سے وہی کچھ ممکن بناتے ہیں جو عام ابادی کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے۔ اینٹوں سے محل اُٹھاتے ہیں مگر خود جھونپڑیوں میں سوتے ہیں، یہ تضاد اُن کے استحصال کی داستان بھی ہے اور اُن کی بے مثال قربانی کا نشان بھی۔ جمالیاتی پہلو سے دیکھیں تو اُن کے پھٹے ہوئے ہاتھ، جھکی ہوئی کمر، دھنسی ہوئی آنکھیں، پسینے سے شرابور ماتھے اور ہر وقت تھکے ہوئے چہرے حقیقت کا وہ درد بھرا "فن پارہ” ہے جو کہ روایتی مصوری، شاعری، سنگ تراشی اور رقص سے کہیں بڑھ کر قدر و قیمت کا مستحق ہے۔ بخدا مزدور صرف مزدور نہیں ہوتے بلکہ تہذیب کے معمار، تاریخ کے خاموش راوی اور زندگی کے اصل ہیرو ہوتے ہیں۔
ہر سال یکم مئی کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یوم مزدور منایا جاتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تقریبوں، تقریروں، جلسے جلوسوں اور رنگ برنگ پرچم لہرانے سے ہم محنت کشوں کے حقیقی مسائل حل کر سکتے ہیں اور انہیں وہ حقوق اور مراعات دلا سکتے ہیں جن کے وہ مستحق ہیں؟ یقیناً ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس ملک میں ہمیشہ سے مزدوروں کا استحصال جاری و ساری ہے۔ پاکستان کے مزدوروں کی حالت زار انتہائی تشویش ناک ہے، اس کے باوجود ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مزدوروں کے کوئی حقوق نہیں، مزدوروں کی زندگی میں کوئی آرام نہیں، مزدوروں کی کوئی عزت نہیں، مزدوروں کی کوئی حفاظت نہیں اور مزدوروں کو درکار کوئی کوئی بھی سہولت انہیں دستیاب نہیں۔ سب سے زیادہ محنت بھی یہی لوگ کرتے ہیں اور سب سے زیادہ محروم بھی یہی لوگ ہوتے ہیں۔
پاکستان میں مزدوروں کی موجودہ حالت
1. غربت اور کم اجرت
پاکستان میں کم از کم اجرت کا تعین تو ہوتا ہے، لیکن بیشتر مزدور، خصوصاً غیر رسمی شعبے (جیسا کہ کھیتوں، فیکٹریوں، گھریلو ملازمین) میں کام کرنے والے، اس سے کہیں کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک مزدور کا روزانہ پانچ سو، ایک ہزار یا زیادہ سے زیادہ پندرہ سو روپے کمانا ان کے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ناممکن بنا دیتا ہے۔ چند برس قبل اسلام آباد میں موجود ایک مزدور سے پوچھا کبھی خالی پیٹ سوئے ہو؟ جواب میں بتایا "ایک دو بار نہیں کئی بار ایسا ہوا ہے”۔ سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کئی بار حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مزدوروں کی رجسٹریشن کا انتظام کیا جائے، انہیں ضروری ٹریننگ دیا جائے اور انہیں قانون میں حاصل بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے” لیکن شاید ایسے مطالبات حکومتوں کی ترجیحات میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے۔
2. ناقص کام کے حالات
ملک کے طول و عرض میں، فیکٹریوں، کانوں اور تعمیراتی صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سندھ، کراچی، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کی کئی فیکٹریوں میں آتشزدگیوں دہشت گردیوں، تعمیرات کے دوران رونما ہونے والے اچانک حادثات یا دوسرے واقعات میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مزدور ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن ان کے لیے حفاظتی قوانین پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ کام کے دوران تحفظ کے ضابطوں کو بھی لاگو نہیں کیا جاتا۔ آمریکی ایمبیسی میں کام کرنے والے میرے دوست کہا کرتے تھے کہ "حفاظتی آلات اور تدابیر کے بغیر ہم کام کی جگہ پر پہنچ نہیں سکتے”، مزید کہا کہ ہمیں ٹریننگ کے دوران سمجھاتے کہ "سب سے پہلے زندگی کی حفاظت اہم ہے اور پھر اس کے بعد کام”۔
3. بچوں کی مزدوری
پاکستان میں لاکھوں بچے تعلیم کے بجائے فیکٹریوں، ہوٹلوں اور گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجتاً ان بچوں کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایسے ہی خاندانوں میں غربت، جہالت، بیماری اور پسماندگی نسل در نسل چلتی ہے، زمانے گزر جاتے ہیں لیکن ان کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ پاتی۔ حکومت کی جانب سے بچوں کی مزدوری کے خلاف موثر اقدامات سخت ناکافی ہیں۔ اس حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پورے ملک بشمول بڑے شہروں میں نہ صرف کھلم کھلا بچوں کی مزدوری جاری و ساری ہے بلکہ ان کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب بھی ہو رہا ہے لیکن خاطر خواہ روک تھام کا کوئی انتظام نہیں۔
4. خواتین مزدوروں کا استحصال
خواتین مزدوروں کو مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی ہے، جبکہ زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین کی محنت کو اکثر و بیشتر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ گھریلو ملازماؤں کے حقوق کا کوئی تحفظ نہیں، اور ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے واقعات ہر جگہ اور ہر وقت عام ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گھریلو ملازمین کے خلاف سنگین ترین جرائم تقریباً روزانہ رپورٹ ہوتے ہیں اور جو نہیں ہوتے وہ کئی گنا زیادہ ہیں۔
5. غیر رسمی شعبہ جات میں شدید عدم تحفظ
پاکستان کی تقریباً ستر فیصد سے زائد مزدور آبادی غیر رسمی شعبوں (جیسا کہ رکشہ ڈرائیور، دہاڑی دار مزدور، گھریلو ملازمین، چھوٹے دکاندار، یا بڑے سٹوروں میں کام کرنے والے مزدور) میں کام کرتی ہے، جن کے پاس نہ سوشل سیکورٹی ہے، نہ پنشن، اور نہ ہی صحت کی دیگر سہولیات۔
مزدوروں کے لیے درکار ٹھوس اقدامات
1. منصفانہ اجرت کا تعین اور عملدرآمد
کم از کم اجرت کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے۔ اس طرح نجی و سرکاری شعبوں میں اجرت کی پابندی یقینی بنائی جائے۔
2. محفوظ کام کی جگہیں
فیکٹریوں، کانوں اور تعمیراتی اداروں میں حفاظتی قوانین کا سختی سے نفاذ یقینی بنایا جائے۔ اس طرح حادثات کی صورت میں مزدوروں کے لیے فوری معاوضہ اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
3. بچوں کی مزدوری کا خاتمہ
بچوں کی مزدوری کے خلاف سخت قوانین اور ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ اس طرح غریب بچوں کے لیے مفت تعلیم اور وظائف کا انتظام کیا جائے۔
4. خواتین مزدوروں کے حقوق کا تحفظ
صنفی مساوات کو یقینی بناتے ہوئے خواتین کو برابر اجرت دی جائے۔ اس طرح گھریلو ملازماؤں کے لیے مخصوص قوانین بنائے جائیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی ہو سکے۔
5. سوشل سیکورٹی اور صحت کی سہولیات
تمام مزدوروں کو صحت انشورنس اور پنشن کا حق دیا جائے۔ اس طرح لیبر یونینز کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے بوقت ضرورت آواز اٹھا سکیں۔
6. ہنر مندی کی تربیت
مزدوروں کو جدید ہنر سکھا کر ان کی آمدنی بڑھانے اور کے لئے آسانی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ایک مزدور کے ساتھ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کو وقت کے مطابق ضروری ٹریننگ دے کر ان کی آسانی اور افادیت میں اضافہ کیا جائے۔
کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مزدور ہی حقیقت میں قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر پاکستان ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے محنت کشوں کی حالت بہتر بنانی ہوگی۔ یوم مزدور محض ایک رسم نہیں بننا چاہیے، بلکہ اس دن مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار اور پھر عملاً اہتمام کیا جائے۔ اس عظیم مقصد کے لیے حکومت، صنعتکار اور سماج سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، تب ہی ایک منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جہاں ہر مزدور باعزت، پرسہولت، محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکے۔ یاد رکھیں مزدور کی عظمت ہی قوم کی ترقی کی ضمانت ہے۔