کیامودی جنگ چاہتے ہیں؟ بھارت میں ہیجان کیوں ہے؟
یہ پاپولزم کا مخمصہ ہے،جدید سیاسی قیادت جس کا شکار ہے۔ہیجان اس کی ضرورت ہے ، عوام کوجس میں مسلسل مبتلا رکھا جائے۔اس کی خواہش ہے کہ غور وفکر اور ٹھیراؤ کا کوئی لمحہ ان کی زندگی میں آنے نہ پائے۔دوسری طرف ترقی کا سرمایہ دارانہ ماڈل استحکام کا مطالبہ کرتا ہے۔سکون اور فطری ارتقا ،جن میں کوئی غیر معمولی رکاوٹ نہ آئے۔سفر کے دوران میں نئے مقامات آئیں مگر راستہ ہموار ہو۔کہیں اچانک بریک نہ لگانی پڑے۔ اب ہیجان اور استحکام ہم قدم نہیں ہو سکتے۔یہی پاپولرسیاست کا مخمصہ ہے۔
مودی پاپولسٹ ہیں۔انہوں نے ہندو شناخت کی بنیاد پر بھارت میں ہیجان پیدا کیا۔انہوں نے اس سے دو مقاصد حاصل کرنا چاہے۔ایک یہ کہ عوام کا جذباتی استحصال کریں جن میں اکثریت ہندووں کی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہندوستان کی تاریخ سے اسلام اور مسلمانوں کے نقوش مٹا دیے جائیں تاکہ وہ اس ماضی سے کٹ جائیں،جس کی موجودگی میں بھارت کبھی ایک مذہبی شناخت کا حامل نہیں ہو سکتا۔یہ ہندوتوا جیسے سیاسی نظریے کا لازمی نتیجہ ہے۔ہندوستان کی تاریخ ہویاسرزمین ، قدم قدم پر مغلوں اور شیر شاہ سوری جیسے حکمرانوں کے نقوشِ قدم ہیں۔تاج محل ہو غالب ۔دارالعلوم دیوبند ہو یا ندوہ العلما۔ابوالکلام آزاد ہوں یا ذاکر حسین۔پھریوسف خان (دلیپ کمار)ہوں یا شاہ رخ،نام کے سہی ،ہیں تو مسلمان۔ان سب کے بغیر بھارت کیا ہے؟
ہندوتوا نے بھارت کے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کیا جو فطری تھا۔چوبیس کروڑافراد اقلیت نہیں ہوتے اگر انہیں اپنی منفرد تہذیبی شناخت پر اصرار ہو۔ان کے تشخص کومان کر ہی انہیں سماج کا مفید حصہ بنایا جا سکتا ہے۔انہیں مشتعل کر نے کا نتیجہ صرف اضطراب ہے۔یہ اضطراب استحکام کے لیے زہرِ قاتل ہے۔استحکام نہیں ہو گا تو ترقی کیسے ہوگی؟اب مودی سرکار اس مخمصے سے کیسے نکلے؟اس کا ایک طریقہ ’قومی ہیجان‘ ہے۔ طبلِ جنگ بجاؤ تاکہ ساری ’قوم‘ جمع ہو جائے۔بھارت جیسی جدید ریاست کی مجبوری یہ ہے کہ مذہب کا عَلم اٹھا کر اس کے شہریوں کو ایک قوم نہیں بنایا جا سکتا۔اس کے لیے اویسی صاحب کو ساتھ ملانا پڑتا ہے۔اس سے کچھ دیر کے لیے دیگر شناختیں دب جاتی ہیں۔مودی صاحب یہی کر رہے ہیں۔یہاں مگر ایک اور مسئلہ ہے۔
جنگ فی نفسہ استحکام کی دشمن ہے۔جنگ ہونے سے ’قوم‘ تو بن جاتی ہے مگر معیشت کا حشروہی ہوتاہے جو شیر افضل مروت صاحب کےٹی وی پروگرام کا ہوا۔مودی صاحب اگر جنگ کرتے ہیں تومیدانِ کارزار میں اس کا نتیجہ جو بھی ہو،معاشی میدان میں ہار یقینی ہے۔اب میدانِ کار زار کی بھی سن لیجیے۔کہنے کو تو بھارت خود کو چین کا مدِ مقابل سمجھتا ہے مگر پاکستان کا خوف وہاں کے بچے بچے کے ذھن میں بیٹھا ہوا ہے۔معلوم نہیں کیوں،مگر بھارتی میڈیا کی چیخ و پکار سے اندازہ ہو تاہے کہ انہیں پاکستان کے خلاف معرکہ آرا ہونے سے ڈر لگتاہے۔شاید وہ جانتے ہیں کہ شیر پر سوار ہونا آسان مگر اس سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔آغاز ہی میں خوف دامن گیر ہو توجنگ جیتنا دور کی بات،اس کے خیال ہی سے جھرجھری آ جا تی ہے۔
مودی صاحب کی جگہ اگر واجپائی بھی ہوتے تو بی جے پی سے تعلق کے باوجود،شاید یوں طبل ِجنگ نہ بجاتے۔وقت نے ان کو ایک بالغ نظر سیاسی راہنما بنا دیا تھا۔1998میں،لاہور کے شاہی قلعے میں انہوں نے جو تقریر کی،وہ اس کی شہادت ہے۔انہوں نے جان لیا تھا کہ پاکستان اب ایک حقیقت ہے اور تاریخ کا پہیہ پیچھے کی طرف نہیں گھمایا جا سکتا۔یہ پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے کا برملا اظہار تھا۔افسوس کہ اس کے بعد تاریخ نے ہمارا ساتھ نہ دیا اور باہمی تعلقات ایک نئے بحران کی زد میں آ گئے۔ایسا بحران جو اُس وقت کے سیاسی نظم ہی کو بہا لے گیا۔
مودی صاحب کا معاملہ دوسرا ہے۔ان کے ہاں واجپائی جیسی بصیرت ہے نہ تجربہ۔جس طرح بعض لوگ سیاست کو کرکٹ پر قیاس کرتے ہیں،مودی صاحب اسے چائے سمجھتے ہیں کہ ابال آئے گا تو رنگ نکلے گااور ذائقہ بھی۔سیاست داخلی ہو یا خارجی،بصیرت چاہتی ہے۔اگر اخلاقی بنیادیں پختہ ہوں تو سب کی بھلائی کی علم بردار ہو تی ہے۔پاپو لسٹ ہیجان پر یقین رکھتا ہے۔اس کا خیال ہے چھکا لگنے سے یا چائے کی کیتلی میں ابال آنے سے بات بنتی ہے۔مودی صاحب اس نفسیات کے زیرِ اثر اب طبلِ جنگ بجا بیٹھے،یہ سوچے بغیر کہ اس کی ایک قیمت انہیں بہر صورت دینی ہے،قطع نظرکہ میدانِ کارزار میں کیا فیصلہ ہو تا ہے۔
کشمیر کا جواب وہ بلوچستان میں دینا چاہتے ہیں۔یہ معاملہ فہمی کی ایک پست سطح ہے۔کشمیر کو بلوچستان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔ بلوچستان کو بھارت بھی پاکستان کا حصہ مانتا ہے۔اگر بلوچستان میں کوئی مداخلت کرتا ہے تو اس کا کوئی اخلاقی جواز موجود ہے نہ قانونی۔یہ بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔پاکستان کشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کی اعلانیہ سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا ہے۔بھارت نے وہاں بھی بین ا لاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جب اس خطے کے مقدر کا فیصلہ بھارتی آئین کے تحت کیا۔اس لیے مودی صاحب دونوں کو ملا کر ایک خلطِ مبحت پیدا کر رہے ہیں جب یہ تاثر یہ دیا جا تا ہے کہ کشمیر کا جواب بلوچستان میں دیا جا رہا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا،میڈیا اور عوام کا جواب زیادہ بالغ نظری کا مظہر ہے۔وہ جنگ کو زیادہ سنجیدہ نہیں لے رہے۔ یہاں وہ ہیجان نہیں ہے جو بھارت میں ہے۔یہ ایک بہتر طرزِ عمل ہے۔جنگ ویسے بھی عوام کا انتخاب نہیں ہو تی۔امید کی جانی چاہیے کہ یہ بالغ نظری غالب رہے گی۔جنگ اگر سر پڑ جائے تو پھر معاملہ اور ہے۔امید یہ بھی ہے کہ بھارت کی قیادت ہوش کے ناخن لے گی اور مودی صاحب جیسے پاپولسٹ کے ہاتھوں اپنے مفادات کو یرغمال نہیں بننے دے گی۔امید یہ بھی ہے کہ مودی صاحب کے ہوش بھی ٹھکانے آچکے ہوں گے جب انہیں جنگ کے نتائج پر کوئی پیشہ ورانہ بریفنگ ملی ہوگی۔
پاکستان اوربھارت میں کشیدگی ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہے۔دونوں ملکوں کو ایسی بالغ نظر قیادت چاہیے جو انہیں تاریخ کی اس اسیری سے نکال سکے۔فی الحال سرحد کے دونوں اطراف ایسی قیادت موجودنہیں۔اس لیے مودی جیسی پاپولسٹ سیاسی قیادت سے،حکمت کے ساتھ معاملہ کرنا ہو گا۔ایسے لوگ نرگسیت کے مریض ہوتے ہیں ،اس لیے وہ ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ان کی ذات ہی کو نہیں دوسروں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ان سے بچنے ہی میں عافیت ہے۔
پاکستان کا جواب سنجیدہ ہے۔یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ بھارت اگر جارحیت کا ارتکاب کرے گا تو اسے اقدام کے مطابق جواب ملے گا۔سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔اس لیے امید یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خطے کو جنگ جیسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔بھارت کو سوچنا ہوگا کہ پاپولسٹ لیڈر کاہیجان انہیں اور قوم کو مخمصے سے دوچار کرسکتاہے جو ان کے قدموں کی زنجیر بن جائے گا۔بھارت اور پاکستان کو مثبت مسابقت کی طرف بڑھنا ہو گا۔دونوں خیر میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں۔کون سی ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کا زیادہ خیال ر کھتی ہے؟کون ہے جو عالمی سطح پر بھی اعلیٰ اخلاقی قد روں کے ساتھ کھڑی ہے؟ٹی وی مذاکروں پر اس پر بات ہو کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف کم ہے یا بھارت میں؟اہلِ دانش کو بھی بحث کا رخ اس جانب موڑنا چاہیے تاکہ فسادی کرداوں کی حوصلہ شکنی ہو اور یہاں امن ہو۔امن ہی میں سب کے لیے خیر ہے۔